<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 09:00:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 09:00:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈونیشیا: زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 268 ہوگئی، 151 افراد تاحال لاپتا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1192500/</link>
      <description>&lt;p&gt;انڈونیشیا کے جزیرہ جاوا میں گزشتہ روز آنے والے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 268 ہوگئی اور 151 افراد تاحال لاپتا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق انڈونیشیا کے جزیرہ جاوا میں 5.6 کی شدت سے آنے والے تباہ کن زلزلے نے کثیر آبادی والے صوبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے جہاں زلزلے کا مرکز دارالحکومت جکارتا سے 75 کلومیٹر جنوب مشرق میں قصبہ سیانجر تھا جس میں ایک گاؤں ملبے تلے آگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈزاسٹر ایجنسی کے سربراہ سہریانتو نے کہا کہ زلزلے سے ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں ، 58 ہزار افراد بے گھر جبکہ 22 ہزار مکانات متاثر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1192387"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراہ ہنری الفیندی نے کہا کہ لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے ریسکیو اقدامات میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیموں کو سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ متاثرہ علاقہ پھیلا ہوا ہے جہاں بالائی گاؤں کی سڑکیں متاثر ہیں، مزید کہا کہ متاثر ہونے والوں میں سب سے زیادہ بچے شامل ہیں کیونکہ وہ زلزلے کے وقت اسکولوں میں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ انڈونیشیا میں 6 یا 7 کی شدت کے زلزلے نسبتاً عام ہیں لیکن گزشتہ روز کے کم شدت کے زلزلے کے نتائج مہلک تھے کیونکہ یہ نسبتاً کم گہرائی میں زمین پر آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1111394"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے کہا کہ بہت سے لوگ  ناقص تعمیر شدہ عمارتیں منہدم ہونے سے جاں بحق ہوئے، تاہم ملکی صدر نے زلزلہ پروف مکانات پر مشمتل تعمیر نو کی کوششوں پر زور دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر نے آج متاثرہ علاقوں کا دورہ  کیا تاکہ امدادی رضاکاروں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر نے تمام رضاکاروں کو ہدایات دیں کہ ملبے میں دبے متاثرہ لوگوں کو ترجیحی بنیادوں پر نکالا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈزاسٹر ایجنسی کے حکام نے کہا کہ ان کی کوششیں  سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک پر مرکوز ہوں گی جو کہ لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے شدید متاثر ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قومی پولیس کے سربراہ لسٹیو سگیت پرابو نے کہا کہ ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کو امدادی سرگرمیون  کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1151662"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ علاقوں میں بجلی کی بندش اور 145 آفٹر شاکس کی وجہ سے امدادی سرگرمیاں پیچیدہ ہوگئیں جہاں حکام نے خبردار کیا کہ آنے والے ہفتوں میں مزید لینڈ سلائیڈنگ ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ 2004 میں شمالی انڈونیشیا کے سماٹرا جزیرے پر 9.1 شدت کے زلزلے نے 14 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں 226,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انڈونیشیا کے جزیرہ جاوا میں گزشتہ روز آنے والے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 268 ہوگئی اور 151 افراد تاحال لاپتا ہیں۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق انڈونیشیا کے جزیرہ جاوا میں 5.6 کی شدت سے آنے والے تباہ کن زلزلے نے کثیر آبادی والے صوبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے جہاں زلزلے کا مرکز دارالحکومت جکارتا سے 75 کلومیٹر جنوب مشرق میں قصبہ سیانجر تھا جس میں ایک گاؤں ملبے تلے آگیا ہے۔</p>
<p>ڈزاسٹر ایجنسی کے سربراہ سہریانتو نے کہا کہ زلزلے سے ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں ، 58 ہزار افراد بے گھر جبکہ 22 ہزار مکانات متاثر ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1192387"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>نیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراہ ہنری الفیندی نے کہا کہ لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے ریسکیو اقدامات میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیموں کو سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ متاثرہ علاقہ پھیلا ہوا ہے جہاں بالائی گاؤں کی سڑکیں متاثر ہیں، مزید کہا کہ متاثر ہونے والوں میں سب سے زیادہ بچے شامل ہیں کیونکہ وہ زلزلے کے وقت اسکولوں میں تھے۔</p>
<p>اگرچہ انڈونیشیا میں 6 یا 7 کی شدت کے زلزلے نسبتاً عام ہیں لیکن گزشتہ روز کے کم شدت کے زلزلے کے نتائج مہلک تھے کیونکہ یہ نسبتاً کم گہرائی میں زمین پر آیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1111394"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حکام نے کہا کہ بہت سے لوگ  ناقص تعمیر شدہ عمارتیں منہدم ہونے سے جاں بحق ہوئے، تاہم ملکی صدر نے زلزلہ پروف مکانات پر مشمتل تعمیر نو کی کوششوں پر زور دیا ہے۔</p>
<p>صدر نے آج متاثرہ علاقوں کا دورہ  کیا تاکہ امدادی رضاکاروں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔</p>
<p>صدر نے تمام رضاکاروں کو ہدایات دیں کہ ملبے میں دبے متاثرہ لوگوں کو ترجیحی بنیادوں پر نکالا جائے۔</p>
<p>ڈزاسٹر ایجنسی کے حکام نے کہا کہ ان کی کوششیں  سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک پر مرکوز ہوں گی جو کہ لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے شدید متاثر ہوا ہے۔</p>
<p>قومی پولیس کے سربراہ لسٹیو سگیت پرابو نے کہا کہ ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکاروں کو امدادی سرگرمیون  کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1151662"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کچھ علاقوں میں بجلی کی بندش اور 145 آفٹر شاکس کی وجہ سے امدادی سرگرمیاں پیچیدہ ہوگئیں جہاں حکام نے خبردار کیا کہ آنے والے ہفتوں میں مزید لینڈ سلائیڈنگ ہوسکتی ہے۔</p>
<p>خیال رہے کہ 2004 میں شمالی انڈونیشیا کے سماٹرا جزیرے پر 9.1 شدت کے زلزلے نے 14 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں 226,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1192500</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Nov 2022 08:07:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/2221251466e7aa9.jpg?r=212548" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/2221251466e7aa9.jpg?r=212548"/>
        <media:title>ریسکیو اہلکار متاثرہ علاقے سے لوگوں کو نکال رہے ہیں —فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
