<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 09:53:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 09:53:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں فیس بک اسٹارز کے ذریعے پیسے کمانے کا آغاز
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1192581/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا کی سب سے مقبول ویب سائٹ فیس بک نے اگرچہ ’اسٹارز‘ کے ذریعے مواد تخلیق کاروں یعنی کانٹینٹ کریئیٹرز کو پیسے کمانے کا آغاز دو سال قبل کیا تھا، تاہم اب اسے پاکستان میں بھی متعارف کرادیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی طور پر &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.facebook.com/business/help/862669417580221?id=2514811085399429"&gt;&lt;strong&gt;’فیس بک اسٹارز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو امریکا اور بعد ازاں یورپی ممالک میں پیش کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد پاکستان سمیت کئی ممالک میں اسے متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اب چند ہفتے قبل پاکستان میں ’پروفیشنل موڈ‘ کے عام کیے جانے کے بعد ’فیس بک اسٹارز‘ کے فیچرز کو بھی عام کردیا گیا، جس کے ذریعے عام لوگ بھی پیسے کما سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="فیس-بک-اسٹارز-کیا-ہیں" href="#فیس-بک-اسٹارز-کیا-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فیس بک اسٹارز کیا ہیں؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/11/23202916ee60866.jpg'  alt='&amp;mdash;اسکرین شاٹ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیس بک اسٹارز دراصل ڈیجیٹل کرنسی ہے جو صارفین کی رِیلز، مختصر ویڈیوز اور پوسٹس پر از خود نظر آنے لگیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹارز کے نظر آنے پر دوسرے صارفین مذکورہ اسٹارز کو پیسوں کے عوض خریدیں گے اور بعد ازاں وہ اپنی مرضی سے کسی بھی کانٹینٹ کریئیٹر کی ریلز یا پوسٹ پر نظر آنے والے اسٹار کے آئیکون پر کلک کرکے کانٹینٹ کریئیٹر کو دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارف کی جانب سے کانٹینٹ کریئیٹر کو اسٹارز دیے جانے کے بعد فیس بک ہر اسٹار کے عوض تخلیق کار کو ڈالر کا چوتھائی حصہ ادا کرے گا، یعنی پاکستانی 50 سے 70 روپے ملیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="فیس-بک-اسٹارز-کے-لیے-کون-اہل-ہے" href="#فیس-بک-اسٹارز-کے-لیے-کون-اہل-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فیس بک اسٹارز کے لیے کون اہل ہے؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;اسٹارز کے لیے تمام فیس بک اکاؤنٹ ہولڈرز اہل نہیں ہوتے، تاہم جن کے فالوورز 6 ہزار سے زائد ہوں گے اور وہ متحرک ہوں گے تو وہ اس فیچر کے اہل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1169632"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ 6 ہزار فالوورز کے ساتھ بھی کوئی بھی شخص اسٹارز فیچر کے اہل ہوجائے گا، تاہم فیس بک کے ازخود فیچر کے تحت اس کی کئی ویڈیوز اور پوسٹس پر اسٹار نظر نہ آنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیوں کہ مذکورہ فیچر کے تحت فیس بک بظاہر ان کانٹینٹ کریئیٹرز کو اسٹارز زیادہ دے گا جو ٹک ٹاک کی طرح تخلیقی ویڈیوز بناتے ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیس بک اسٹارز کے لیے پاکستان اہل ممالک میں شامل ہے اور یہاں کے صارفین اس کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="فیس-بک-اسٹارز-کے-لیے-کیسے-اپلائی-کیا-جائے" href="#فیس-بک-اسٹارز-کے-لیے-کیسے-اپلائی-کیا-جائے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فیس بک اسٹارز کے لیے کیسے اپلائی کیا جائے؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/11/23203432829337a.jpg'  alt='پروفائل پر جاکر تھری ڈاٹ کو کلک کرکے اکاؤنٹ کو پروفیشنل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے&amp;mdash;اسکرین شاٹ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پروفائل پر جاکر تھری ڈاٹ کو کلک کرکے اکاؤنٹ کو پروفیشنل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیچر کو اپلائی کرنے کے لیے صارفین کو سب سے پہلے اپنا اکاؤنٹ ’پروفیشنل موڈ‘ میں تبدیل کرنا پڑے گا اور اس کے لیے صارف اپنے پروفائل پر ایڈٹ سیٹنگ کے ساتھ بنے تھری ڈاٹ مینیو میں جاکر اپنے پروفائل کو پروفیشنل میں تبدیل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح صارفین جب چاہیں اپنے اکاؤنٹ کو واپس پہلے کی طرح عام پروفائل میں تبدیل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیشنل موڈ میں تبدیل ہونے کے بعد ’ویو ٹولز‘ میں جاکر اسٹارز کے فیچر کو آن کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹارز فیچر کو آن کرنے کے لیے صارف کو اپنے گھر یا دفتر کا ایڈریس، فون نمبر، ٹیکس نمبر، ای میل ایڈریس اور دوسری معلومات بھی دینا ہوگی اور اسے ایک آن لائن فارم پر رضامندی کے دستخط بھی کرنا پڑیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صارف کو اپنا آئی بی این اکاؤنٹ نمبر بھی فراہم کرنا پڑے گا، جس کے بعد صارف کے اکاؤنٹ پر اسٹار فیچر آن ہوجائے گا اور اسے اس کا نوٹی فکیشن بھی موصول ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="فیس-بک-اسٹارز-سے-عام-صارف-آسانی-سے-پیسے-کما-سکتا-ہے" href="#فیس-بک-اسٹارز-سے-عام-صارف-آسانی-سے-پیسے-کما-سکتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;فیس بک اسٹارز سے عام صارف آسانی سے پیسے کما سکتا ہے؟&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ سوال ہے جس کا جواب واضح طور پر کسی کو معلوم نہیں، کیوں کہ اسٹارز فیچر کے تحت فیس بک خود سے کسی کانٹینٹ کریئیٹرز کو پیسے فراہم نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یعنی جس طرح یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھنے سے پیسے کمائے جا سکتے ہیں، فیس بک پر فی الحال اسٹارز کی صورت میں ایسے پیسے نہیں کمائے جا سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم خیال کیاجا رہا ہے کہ فیس بک پر آگے چل کر ویوز، لائیکس اور شیئرز کے حساب سے تخلیق کاروں کو پیسے فراہم کرے گا، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/11/232041291f3f298.jpg'  alt='پروفائل پر ویو ٹولز پر کلک کرکے اسٹارز آن کرنے کی سیٹنگ کی جا سکتی ہے&amp;mdash;اسکرین شاٹ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;پروفائل پر ویو ٹولز پر کلک کرکے اسٹارز آن کرنے کی سیٹنگ کی جا سکتی ہے—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا کی سب سے مقبول ویب سائٹ فیس بک نے اگرچہ ’اسٹارز‘ کے ذریعے مواد تخلیق کاروں یعنی کانٹینٹ کریئیٹرز کو پیسے کمانے کا آغاز دو سال قبل کیا تھا، تاہم اب اسے پاکستان میں بھی متعارف کرادیا گیا۔</p>
<p>ابتدائی طور پر <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.facebook.com/business/help/862669417580221?id=2514811085399429"><strong>’فیس بک اسٹارز‘</strong></a> کو امریکا اور بعد ازاں یورپی ممالک میں پیش کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد پاکستان سمیت کئی ممالک میں اسے متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا تھا۔</p>
<p>اور اب چند ہفتے قبل پاکستان میں ’پروفیشنل موڈ‘ کے عام کیے جانے کے بعد ’فیس بک اسٹارز‘ کے فیچرز کو بھی عام کردیا گیا، جس کے ذریعے عام لوگ بھی پیسے کما سکتے ہیں۔</p>
<h3><a id="فیس-بک-اسٹارز-کیا-ہیں" href="#فیس-بک-اسٹارز-کیا-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فیس بک اسٹارز کیا ہیں؟</h3>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/11/23202916ee60866.jpg'  alt='&mdash;اسکرین شاٹ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>—اسکرین شاٹ</figcaption>
    </figure></p>
<p>فیس بک اسٹارز دراصل ڈیجیٹل کرنسی ہے جو صارفین کی رِیلز، مختصر ویڈیوز اور پوسٹس پر از خود نظر آنے لگیں گے۔</p>
<p>اسٹارز کے نظر آنے پر دوسرے صارفین مذکورہ اسٹارز کو پیسوں کے عوض خریدیں گے اور بعد ازاں وہ اپنی مرضی سے کسی بھی کانٹینٹ کریئیٹر کی ریلز یا پوسٹ پر نظر آنے والے اسٹار کے آئیکون پر کلک کرکے کانٹینٹ کریئیٹر کو دیں گے۔</p>
<p>صارف کی جانب سے کانٹینٹ کریئیٹر کو اسٹارز دیے جانے کے بعد فیس بک ہر اسٹار کے عوض تخلیق کار کو ڈالر کا چوتھائی حصہ ادا کرے گا، یعنی پاکستانی 50 سے 70 روپے ملیں گے۔</p>
<h3><a id="فیس-بک-اسٹارز-کے-لیے-کون-اہل-ہے" href="#فیس-بک-اسٹارز-کے-لیے-کون-اہل-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فیس بک اسٹارز کے لیے کون اہل ہے؟</h3>
<p>اسٹارز کے لیے تمام فیس بک اکاؤنٹ ہولڈرز اہل نہیں ہوتے، تاہم جن کے فالوورز 6 ہزار سے زائد ہوں گے اور وہ متحرک ہوں گے تو وہ اس فیچر کے اہل ہوں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1169632"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اگرچہ 6 ہزار فالوورز کے ساتھ بھی کوئی بھی شخص اسٹارز فیچر کے اہل ہوجائے گا، تاہم فیس بک کے ازخود فیچر کے تحت اس کی کئی ویڈیوز اور پوسٹس پر اسٹار نظر نہ آنے کا امکان ہے۔</p>
<p>کیوں کہ مذکورہ فیچر کے تحت فیس بک بظاہر ان کانٹینٹ کریئیٹرز کو اسٹارز زیادہ دے گا جو ٹک ٹاک کی طرح تخلیقی ویڈیوز بناتے ہوں گے۔</p>
<p>فیس بک اسٹارز کے لیے پاکستان اہل ممالک میں شامل ہے اور یہاں کے صارفین اس کے لیے اپلائی کر سکتے ہیں۔</p>
<h3><a id="فیس-بک-اسٹارز-کے-لیے-کیسے-اپلائی-کیا-جائے" href="#فیس-بک-اسٹارز-کے-لیے-کیسے-اپلائی-کیا-جائے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فیس بک اسٹارز کے لیے کیسے اپلائی کیا جائے؟</h3>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/11/23203432829337a.jpg'  alt='پروفائل پر جاکر تھری ڈاٹ کو کلک کرکے اکاؤنٹ کو پروفیشنل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے&mdash;اسکرین شاٹ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پروفائل پر جاکر تھری ڈاٹ کو کلک کرکے اکاؤنٹ کو پروفیشنل میں تبدیل کیا جا سکتا ہے—اسکرین شاٹ</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس فیچر کو اپلائی کرنے کے لیے صارفین کو سب سے پہلے اپنا اکاؤنٹ ’پروفیشنل موڈ‘ میں تبدیل کرنا پڑے گا اور اس کے لیے صارف اپنے پروفائل پر ایڈٹ سیٹنگ کے ساتھ بنے تھری ڈاٹ مینیو میں جاکر اپنے پروفائل کو پروفیشنل میں تبدیل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح صارفین جب چاہیں اپنے اکاؤنٹ کو واپس پہلے کی طرح عام پروفائل میں تبدیل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>پروفیشنل موڈ میں تبدیل ہونے کے بعد ’ویو ٹولز‘ میں جاکر اسٹارز کے فیچر کو آن کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>اسٹارز فیچر کو آن کرنے کے لیے صارف کو اپنے گھر یا دفتر کا ایڈریس، فون نمبر، ٹیکس نمبر، ای میل ایڈریس اور دوسری معلومات بھی دینا ہوگی اور اسے ایک آن لائن فارم پر رضامندی کے دستخط بھی کرنا پڑیں گے۔</p>
<p>صارف کو اپنا آئی بی این اکاؤنٹ نمبر بھی فراہم کرنا پڑے گا، جس کے بعد صارف کے اکاؤنٹ پر اسٹار فیچر آن ہوجائے گا اور اسے اس کا نوٹی فکیشن بھی موصول ہوجائے گا۔</p>
<h3><a id="فیس-بک-اسٹارز-سے-عام-صارف-آسانی-سے-پیسے-کما-سکتا-ہے" href="#فیس-بک-اسٹارز-سے-عام-صارف-آسانی-سے-پیسے-کما-سکتا-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>فیس بک اسٹارز سے عام صارف آسانی سے پیسے کما سکتا ہے؟</h3>
<p>یہ وہ سوال ہے جس کا جواب واضح طور پر کسی کو معلوم نہیں، کیوں کہ اسٹارز فیچر کے تحت فیس بک خود سے کسی کانٹینٹ کریئیٹرز کو پیسے فراہم نہیں کرے گا۔</p>
<p>یعنی جس طرح یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھنے سے پیسے کمائے جا سکتے ہیں، فیس بک پر فی الحال اسٹارز کی صورت میں ایسے پیسے نہیں کمائے جا سکتے۔</p>
<p>تاہم خیال کیاجا رہا ہے کہ فیس بک پر آگے چل کر ویوز، لائیکس اور شیئرز کے حساب سے تخلیق کاروں کو پیسے فراہم کرے گا، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/11/232041291f3f298.jpg'  alt='پروفائل پر ویو ٹولز پر کلک کرکے اسٹارز آن کرنے کی سیٹنگ کی جا سکتی ہے&mdash;اسکرین شاٹ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>پروفائل پر ویو ٹولز پر کلک کرکے اسٹارز آن کرنے کی سیٹنگ کی جا سکتی ہے—اسکرین شاٹ</figcaption>
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1192581</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Dec 2022 13:16:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/23204253b8598f5.jpg?r=204321" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/23204253b8598f5.jpg?r=204321"/>
        <media:title>—فوٹو: میٹا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
