<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 21:19:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 21:19:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>میرے خیال میں صدر آرمی چیف کی تعیناتی پر ’تنازع‘ چھوڑنا نہیں چاہیں گے، خواجہ آصف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1192591/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر دفاع خواجہ آصف نے امید ظاہر کی ہے کہ صدر ڈاکٹر عارف علوی نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر تنازع چھوڑنا نہیں چاہیں  گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوزکے  پروگرام ’لائیو ود عادل شاہزیب‘ کے ساتھ میں وزیر دفاع سے پوچھا گیا کہ کیا صدر آرمی چیف کی اہم تعیناتی کی سمری میں چند دنوں تک تاخیر کرسکتے ہیں؟ تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ صدر مملکت کوئی جھگڑا یا تنازع نہیں چھوڑنا چاہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ میری ذاتی رائے ہے کہ وہ اپنی صدارت میں جھگڑے والی تاریخ یا تنازع نہیں چھوڑنا چاہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے نئے آرمی چیف آف اسٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف  کی تعیناتی کے حوالے سے براہ راست رابطے میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ  نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے پورے عمل میں حکومت اور فوج کے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے، جس میں وزیر اعظم کو سمری بھیجنا اور تاریخیں بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1192588"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان سے سوال پوچھا گیا کہ اگر دو، تین ماہ قبل جلدی انتخابات ہو جاتے ہیں تو اس میں کوئی قباحت تو نہیں ہے؟ اس کے جواب میں وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ میں اس پر کوئی رائے تو نہیں دے سکتا لیکن ہمارے پی ٹی آئی کے ساتھ غیر رسمی رابطے ہیں، تحریک انصاف میں مختلف آرا رکھنے والے لوگ ہیں، کئی ایسے لوگ جو چاہتے ہیں کہ حالات طریقے کے ساتھ چلیں اور بات چیت کے ذریعے راستہ ڈھونڈا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے چند اراکین کے ساتھ ہماری سینئر لیڈرشپ کے غیر رسمی رابطے ہیں، اگر سنجیدگی کا مظاہرہ ہوا تو مذاکرات آگے بڑھ بھی سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ آرمی چیف سے تعلقات کی بابت خواجہ آصف نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کا اپنے فوجیوں کے ساتھ قریبی اور غیر رسمی تعلق ہے، انہیں لوگ اچھے الفاظ میں یاد رکھیں گے اور فوج کو سیاست سے الگ رکھنا بہت بڑی لیگیسی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خاندان کے ٹیکس ریکارڈ لیک ہونے سے معتلق سوال پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ان لوگوں تک پہنچ گئے ہیں، اور دوسری بات یہ ہے کہ انہوں نے  ٹیکس گواشورں میں اثاثے ظاہر کیے ہیں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ریکارڈ میں ہے، تو پھر کسی اعتراض کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے کہا کہ میرا خیال ہے جس نے 35 سے 40 سال فوج کی ملازمت کی ہو اور بڑے بڑے عہدوں پر رہے ہوں تو ان کے پاس اثاثوں کی وضاحت 200 فیصد ان کے پاس ہوگی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر دفاع خواجہ آصف نے امید ظاہر کی ہے کہ صدر ڈاکٹر عارف علوی نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے پر تنازع چھوڑنا نہیں چاہیں  گے۔</p>
<p>ڈان نیوزکے  پروگرام ’لائیو ود عادل شاہزیب‘ کے ساتھ میں وزیر دفاع سے پوچھا گیا کہ کیا صدر آرمی چیف کی اہم تعیناتی کی سمری میں چند دنوں تک تاخیر کرسکتے ہیں؟ تو اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ صدر مملکت کوئی جھگڑا یا تنازع نہیں چھوڑنا چاہیں گے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ میری ذاتی رائے ہے کہ وہ اپنی صدارت میں جھگڑے والی تاریخ یا تنازع نہیں چھوڑنا چاہیں گے۔</p>
<p>خواجہ آصف نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے نئے آرمی چیف آف اسٹاف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف  کی تعیناتی کے حوالے سے براہ راست رابطے میں ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ  نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے پورے عمل میں حکومت اور فوج کے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے، جس میں وزیر اعظم کو سمری بھیجنا اور تاریخیں بھی شامل ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1192588"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان سے سوال پوچھا گیا کہ اگر دو، تین ماہ قبل جلدی انتخابات ہو جاتے ہیں تو اس میں کوئی قباحت تو نہیں ہے؟ اس کے جواب میں وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ میں اس پر کوئی رائے تو نہیں دے سکتا لیکن ہمارے پی ٹی آئی کے ساتھ غیر رسمی رابطے ہیں، تحریک انصاف میں مختلف آرا رکھنے والے لوگ ہیں، کئی ایسے لوگ جو چاہتے ہیں کہ حالات طریقے کے ساتھ چلیں اور بات چیت کے ذریعے راستہ ڈھونڈا جائے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے چند اراکین کے ساتھ ہماری سینئر لیڈرشپ کے غیر رسمی رابطے ہیں، اگر سنجیدگی کا مظاہرہ ہوا تو مذاکرات آگے بڑھ بھی سکتے ہیں۔</p>
<p>موجودہ آرمی چیف سے تعلقات کی بابت خواجہ آصف نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کا اپنے فوجیوں کے ساتھ قریبی اور غیر رسمی تعلق ہے، انہیں لوگ اچھے الفاظ میں یاد رکھیں گے اور فوج کو سیاست سے الگ رکھنا بہت بڑی لیگیسی ہوگی۔</p>
<p>آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خاندان کے ٹیکس ریکارڈ لیک ہونے سے معتلق سوال پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ان لوگوں تک پہنچ گئے ہیں، اور دوسری بات یہ ہے کہ انہوں نے  ٹیکس گواشورں میں اثاثے ظاہر کیے ہیں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ریکارڈ میں ہے، تو پھر کسی اعتراض کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔</p>
<p>خواجہ آصف نے کہا کہ میرا خیال ہے جس نے 35 سے 40 سال فوج کی ملازمت کی ہو اور بڑے بڑے عہدوں پر رہے ہوں تو ان کے پاس اثاثوں کی وضاحت 200 فیصد ان کے پاس ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1192591</guid>
      <pubDate>Thu, 24 Nov 2022 00:43:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/24003112d8648b3.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/24003112d8648b3.png"/>
        <media:title>— فوٹو : نیو ٹی وی یوٹیوب
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
