<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 13:14:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 13:14:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومتی تشدد کے نتیجے میں ڈی چوک کی جانب پیش قدمی کا فیصلہ کیا تھا، عمران خان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1192674/</link>
      <description>&lt;p&gt;سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس کی سماعت  میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے تیسری بار جمع کرواتے ہوئے کہا کہ  پارٹی کے 25 مئی کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے دوران  ڈی چوک کی طرف بڑھنے کا فیصلہ حکومتی تشدد کے نتیجہ میں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1722909/govt-brutality-led-pti-to-march-on-d-chowk-says-imran"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کی سربراہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کررہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز (24 نومبر کو)  وزیر داخلہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کروائی گئی جس میں پی ٹی آئی قیادت کے ٹوئٹس، اسکرین شاٹ، ویڈیو پیغامات اور کال ریکارڈنگ عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کیے گئے، درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان نے اپنے تحریری جواب میں غلط بیانی کی، پی ٹی آئی قیادت سمیت عمران خان عدالت کے احکامات سے بخوبی آگاہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1192165"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;24 نومبر کو عدالت عظمیٰ میں عمران خان کی جانب سے جمع کروائے گئے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ اسلام آباد میں جلسے کو ایچ نائن اور جی نائن گراؤنڈ کے بجائے ڈی چوک کی جانب بڑھانے کا فیصلہ حکومتی تشدد کے نتیجہ میں کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ  25 مئی کے اس عدالتی حکم میں پی ٹی آئی کو اسلام آباد کے ایچ-نائن اور جی-نائن کے درمیان پشاور موڑ کے قریب ’آزادی مارچ‘ کے انعقاد سے روک دیا گیا تھا، تاہم عمران خان اور ان کے حامیوں نے عدالتی احکامات کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈی چوک کا رخ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین صفحات پر مشتمل جواب میں کہا گیا کہ ڈی چوک کی جانب احتجاج کا فیصلہ 25 مئی کو شام 6 بج کر 5 منٹ پر عدالت عظمیٰ کے حکم نامہ جاری ہونے سے بہت پہلے لیا گیا تھا اور ڈی چوک پہنچنے کی کال کا مقصد ایک احتجاجی اجتماع تھا جس کے لیے حکومت کی طرف سے غیر قانونی طور پر اجازت نہیں دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کی جانب سے جوابی درخواست میں مزید کہا گیا کہ 25 مئی کو سیاسی کارکنان نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو  6 بجکر 5 منٹ پر عدالت کے احکامات سے آگاہ کیا تھا اور پی ٹی آئی کے حامیوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم تک رسائی حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1190377"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل کی درخواست میں پی ٹی آئی کے چیئرمین نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا تھا کہ جیمنگ کی وجہ سے انہیں عدالت کے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا گیا لیکن تازہ جواب کہا کہ جمیرز کی وجہ سے کسی سے بھی رابطہ ممکن نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران خان کا یہ جواب تب سامنے آیا جب وفاقی حکومت نے دعویٰ کیا کہ 25 مئی کو پی ٹی آئی کی قیادت ایک دوسرے سے رابطے میں ہے اور کنٹینر سے مسلسل ٹوئٹس اور انٹرویو دیے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جواب میں پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا پر عمران خان کی سیاسی سرگرمیوں میں پابندی کے باعث سوشل میڈیا کا استعمال لازمی تھا، سوشل میڈیا سرگرمیاں مختلف جہگوں پر مختلف اکاوئنٹس سے کی جارہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواب میں مزید کہا گیا کہ جو لوگ مارچ کا حصہ تھے وہ جیمگ سے بچنے کے لیے وقتاً فوقتاً فاصلے پرسوشل میڈیا کا استعمال کرسکتے تھے، سوشل میڈیا کی زیادہ تر سرگرمیاں ٹوئٹر اور دیگر اکاؤنٹ کا انتظام کچھ لوگ کے ذمے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1192033"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف کی  جانب سے کہا گیا کہ وکیل بابر اعوان اور فیصل چوہدری کو عمران خان کی جانب سے پیش ہونے کی ہدایت دی گئی تھی اور دونوں افراد 25 مئی کو عدالتی احکامات کے حوالے سے آگاہ کرسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے سیکریٹری داخلہ، انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد، پنجاب اور اٹک کے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت جاری کی کہ وہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی قیادت کی ملاقات اور اسلام آباد سے بحفاطت واپسی کی سہولت فراہم کریں تاکہ رات دس بجے حکوتی کمیٹی سے ملاقات ہوسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس پر پی ٹی آئی نے جواب کہا کہ عدالت کی جانب سے یہ ہدایات کے باوجود وفاقی حکومت کے متعلقہ حکام نے واضح طور پر نظر انداز کردیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس کی سماعت  میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے تیسری بار جمع کرواتے ہوئے کہا کہ  پارٹی کے 25 مئی کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے دوران  ڈی چوک کی طرف بڑھنے کا فیصلہ حکومتی تشدد کے نتیجہ میں کیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1722909/govt-brutality-led-pti-to-march-on-d-chowk-says-imran">رپورٹ</a></strong> کے مطابق 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کی سربراہی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کررہے تھے۔</p>
<p>گزشتہ روز (24 نومبر کو)  وزیر داخلہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کروائی گئی جس میں پی ٹی آئی قیادت کے ٹوئٹس، اسکرین شاٹ، ویڈیو پیغامات اور کال ریکارڈنگ عدالت عظمیٰ کے سامنے پیش کیے گئے، درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان نے اپنے تحریری جواب میں غلط بیانی کی، پی ٹی آئی قیادت سمیت عمران خان عدالت کے احکامات سے بخوبی آگاہ تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1192165"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>24 نومبر کو عدالت عظمیٰ میں عمران خان کی جانب سے جمع کروائے گئے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ اسلام آباد میں جلسے کو ایچ نائن اور جی نائن گراؤنڈ کے بجائے ڈی چوک کی جانب بڑھانے کا فیصلہ حکومتی تشدد کے نتیجہ میں کیا تھا۔</p>
<p>خیال رہے کہ  25 مئی کے اس عدالتی حکم میں پی ٹی آئی کو اسلام آباد کے ایچ-نائن اور جی-نائن کے درمیان پشاور موڑ کے قریب ’آزادی مارچ‘ کے انعقاد سے روک دیا گیا تھا، تاہم عمران خان اور ان کے حامیوں نے عدالتی احکامات کی مبینہ خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈی چوک کا رخ کیا تھا۔</p>
<p>تین صفحات پر مشتمل جواب میں کہا گیا کہ ڈی چوک کی جانب احتجاج کا فیصلہ 25 مئی کو شام 6 بج کر 5 منٹ پر عدالت عظمیٰ کے حکم نامہ جاری ہونے سے بہت پہلے لیا گیا تھا اور ڈی چوک پہنچنے کی کال کا مقصد ایک احتجاجی اجتماع تھا جس کے لیے حکومت کی طرف سے غیر قانونی طور پر اجازت نہیں دی گئی۔</p>
<p>پی ٹی آئی کی جانب سے جوابی درخواست میں مزید کہا گیا کہ 25 مئی کو سیاسی کارکنان نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو  6 بجکر 5 منٹ پر عدالت کے احکامات سے آگاہ کیا تھا اور پی ٹی آئی کے حامیوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم تک رسائی حاصل کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1190377"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس سے قبل کی درخواست میں پی ٹی آئی کے چیئرمین نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا تھا کہ جیمنگ کی وجہ سے انہیں عدالت کے فیصلے سے آگاہ نہیں کیا گیا لیکن تازہ جواب کہا کہ جمیرز کی وجہ سے کسی سے بھی رابطہ ممکن نہیں تھا۔</p>
<p>عمران خان کا یہ جواب تب سامنے آیا جب وفاقی حکومت نے دعویٰ کیا کہ 25 مئی کو پی ٹی آئی کی قیادت ایک دوسرے سے رابطے میں ہے اور کنٹینر سے مسلسل ٹوئٹس اور انٹرویو دیے جارہے ہیں۔</p>
<p>تاہم جواب میں پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا پر عمران خان کی سیاسی سرگرمیوں میں پابندی کے باعث سوشل میڈیا کا استعمال لازمی تھا، سوشل میڈیا سرگرمیاں مختلف جہگوں پر مختلف اکاوئنٹس سے کی جارہی تھیں۔</p>
<p>جواب میں مزید کہا گیا کہ جو لوگ مارچ کا حصہ تھے وہ جیمگ سے بچنے کے لیے وقتاً فوقتاً فاصلے پرسوشل میڈیا کا استعمال کرسکتے تھے، سوشل میڈیا کی زیادہ تر سرگرمیاں ٹوئٹر اور دیگر اکاؤنٹ کا انتظام کچھ لوگ کے ذمے ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1192033"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پاکستان تحریک انصاف کی  جانب سے کہا گیا کہ وکیل بابر اعوان اور فیصل چوہدری کو عمران خان کی جانب سے پیش ہونے کی ہدایت دی گئی تھی اور دونوں افراد 25 مئی کو عدالتی احکامات کے حوالے سے آگاہ کرسکتے ہیں۔</p>
<p>عدالت نے سیکریٹری داخلہ، انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد، پنجاب اور اٹک کے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت جاری کی کہ وہ اسلام آباد میں پی ٹی آئی قیادت کی ملاقات اور اسلام آباد سے بحفاطت واپسی کی سہولت فراہم کریں تاکہ رات دس بجے حکوتی کمیٹی سے ملاقات ہوسکے۔</p>
<p>جس پر پی ٹی آئی نے جواب کہا کہ عدالت کی جانب سے یہ ہدایات کے باوجود وفاقی حکومت کے متعلقہ حکام نے واضح طور پر نظر انداز کردیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1192674</guid>
      <pubDate>Fri, 25 Nov 2022 10:30:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ناصر اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/250958130a66210.png?r=100542" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/250958130a66210.png?r=100542"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
