<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 13 Apr 2026 22:26:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 13 Apr 2026 22:26:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترکیہ: خواتین پر تشدد کیخلاف ریلی، پولیس نے درجنوں مظاہرین کو گرفتار کرلیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1192794/</link>
      <description>&lt;p&gt;ترکیہ کے شہر استنبول میں خواتین کےخلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر ریلی نکالی گئی، پولیس نے درجنوں مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق استنبول میں تکسیم اسکوائر پر خواتین پر تشدد کے خلاف احتجاج کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر سال دنیا بھر میں 25 نومبر کو خواتین پر تشدد کےخلاف ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1156392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;استنبول میں احتجاج کے دوران پولیس نے طاقت کا استعمال کرتےہوئے مظاہرین کو ریلی نکالنے سے روکنے کی کوشش کی جبکہ سڑکوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کردیا گیا، احتجاج کے دوران مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جس میں لکھا تھا کہ ’رکاوٹیں قاتلوں کے لیے، خواتین کے لیے نہیں‘ ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواتین پر تشدد کے خلاف ریلی ’25 نومبر پلیٹ فارم‘ کی جانب سے منعقد کی گئی جس میں سینکڑوں خواتین نے سڑکوں پر احتجاج کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین نے ترک اور کرد زبان میں ’عورت، زندگی، آزادی‘ کے نعرے لگائے اور ایران میں ہونے والے مظاہروں میں خواتین کے حق کے لیے آواز اٹھائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکی میں ایرانی تارکین وطن بڑی تعداد میں موجود ہیں، سال 2021  میں ایرانی تارکین وطن کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/26152823d8967b5.png'  alt='فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین نے بینر اٹھاتے ہوئے نعرے لگائے کہ ہم اپنی آزادی کے لیے خاموش نہیں رہ سکتے، ہم اپنی جانوں کا نظرانہ نہیں دیں گے، ہم پدرانہ ریاستی تشدد کے سامنے نہیں جھکیں گے۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’25 نومبر پلیٹ فارم‘ کی رکن یسیم توکل نے کہا کہ پولیس ان لوگوں کے خلاف مداخلت نہیں کرتی جو عورتوں پر ظلم ، تشدد اور قتل میں ملوث ہیں، پولیس نے سیکیورٹی کے بہانے تکسیم کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو بند کر دیا ہے’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1173196"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھی کارکن برکو گلکوبک نے کہا کہ ہم آج ریاستی جبر اور تشدد سے خوفزدہ نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے آگے نہیں جھکیں گے اور اس طرح کے تشدد کے سامنے ہمیں خاموش نہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں  نے مزید کہا  کہ پولیس ہم پر حملے کررہی ہے، یہی پولیس ایک دن یہاں سے چلے جائیں گے اور یہ سڑکیں اور گلیاں ہماری ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ میں عوامی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے خلاف خواتین اور ایل جی بی ٹی تحریک کی شکل میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کررہے ہیں&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ترکیہ کے شہر استنبول میں خواتین کےخلاف تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر ریلی نکالی گئی، پولیس نے درجنوں مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق استنبول میں تکسیم اسکوائر پر خواتین پر تشدد کے خلاف احتجاج کیا گیا۔</p>
<p>ہر سال دنیا بھر میں 25 نومبر کو خواتین پر تشدد کےخلاف ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1156392"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>استنبول میں احتجاج کے دوران پولیس نے طاقت کا استعمال کرتےہوئے مظاہرین کو ریلی نکالنے سے روکنے کی کوشش کی جبکہ سڑکوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کردیا گیا، احتجاج کے دوران مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جس میں لکھا تھا کہ ’رکاوٹیں قاتلوں کے لیے، خواتین کے لیے نہیں‘ ۔</p>
<p>خواتین پر تشدد کے خلاف ریلی ’25 نومبر پلیٹ فارم‘ کی جانب سے منعقد کی گئی جس میں سینکڑوں خواتین نے سڑکوں پر احتجاج کیا۔</p>
<p>مظاہرین نے ترک اور کرد زبان میں ’عورت، زندگی، آزادی‘ کے نعرے لگائے اور ایران میں ہونے والے مظاہروں میں خواتین کے حق کے لیے آواز اٹھائی۔</p>
<p>ترکی میں ایرانی تارکین وطن بڑی تعداد میں موجود ہیں، سال 2021  میں ایرانی تارکین وطن کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/11/26152823d8967b5.png'  alt='فوٹو: اے ایف پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>مظاہرین نے بینر اٹھاتے ہوئے نعرے لگائے کہ ہم اپنی آزادی کے لیے خاموش نہیں رہ سکتے، ہم اپنی جانوں کا نظرانہ نہیں دیں گے، ہم پدرانہ ریاستی تشدد کے سامنے نہیں جھکیں گے۔’</p>
<p>’25 نومبر پلیٹ فارم‘ کی رکن یسیم توکل نے کہا کہ پولیس ان لوگوں کے خلاف مداخلت نہیں کرتی جو عورتوں پر ظلم ، تشدد اور قتل میں ملوث ہیں، پولیس نے سیکیورٹی کے بہانے تکسیم کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو بند کر دیا ہے’۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1173196"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ساتھی کارکن برکو گلکوبک نے کہا کہ ہم آج ریاستی جبر اور تشدد سے خوفزدہ نہیں ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے آگے نہیں جھکیں گے اور اس طرح کے تشدد کے سامنے ہمیں خاموش نہ کیا جائے۔</p>
<p>انہوں  نے مزید کہا  کہ پولیس ہم پر حملے کررہی ہے، یہی پولیس ایک دن یہاں سے چلے جائیں گے اور یہ سڑکیں اور گلیاں ہماری ہوں گی۔</p>
<p>ترکیہ میں عوامی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے خلاف خواتین اور ایل جی بی ٹی تحریک کی شکل میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کررہے ہیں</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1192794</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Nov 2022 15:33:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/2615255177958e9.jpg?r=153408" type="image/jpeg" medium="image" height="476" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/2615255177958e9.jpg?r=153408"/>
        <media:title>ہر سال دنیا بھر میں 25 نومبر کو خواتین پر تشدد کےخلاف ریلیاں نکالی جاتی ہیں۔
— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
