<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 09:00:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 09:00:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کل تو ٹیموں نے بہترین ’کم بیک‘ کیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1192944/</link>
      <description>&lt;p&gt;کل عالمی کپ کی بڑی ٹیموں پرتگال، یوروگوئے اور برازیل کے میچ تھے لیکن جو مزا جنوبی کوریا بمقابلہ گھانا اور کیمرون بمقابلہ سربیا کے سنسنی خیز میچ دیکھنے میں آیا وہ ان بڑی ٹیموں کے میچوں میں نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلے کیمرون بمقابلہ سربیا کا ذکر کرتی ہوں۔ اس میچ میں کیمرون نے گول کرکے برتری حاصل کی اور اس گول کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ تھی کہ 2014ء کے بعد یہ کیمرون کا پہلا عالمی کپ گول تھا مگر یہ برتری زیادہ دیر نہیں رہی اور ہاف ٹائم کے اضافی وقت میں سربیا نے لگاتار 2 گول اسکور کرکے میچ میں 1-2 کی برتری حاصل کرلی۔ یہ دونوں گول انتہائی شاندار تھے اور ایسا لگ رہا تھا جیسے کیمرون کی ٹیم اس غیرمتوقع برتری کے لیے تیار نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلے ہاف کا کھیل دیکھنے کے بعد تو انتظار نہیں ہورہا تھا کہ جلدی سے دوسرا ہاف شروع ہوجائے، اور سچ پوچھیے تو یہ انتظار بالکل ٹھیک بھی تھا کیونکہ اس ہاف میں تو جو کچھ ہوا وہ زیادہ حیران کن تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میچ شروع ہوا تو سربیا نے بہترین حکمتِ عملی سے کھیلتے ہوئے ایک اور گول کرکے مقابلے میں 1-3 کی برتری حاصل کرلی۔ مگر سربیا کی برتری کے باوجود کیمرون نے ہار نہیں مانی اور محض 3 منٹ میں 2 گول اسکور کرکے مقابلہ 3-3 سے برابر کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Dologenius/status/1597430372840898560"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گول کا جواب گول سے دیا جانا ہی اس کھیل کی خوبصورتی ہے اور ان دونوں ہی ٹیموں نے اس حوالے سے بہترین کھیل پیش کیا۔ کھیل اس قدر دلچسپ رہا کہ نظریں ہٹانے کا دل نہیں چاہ رہا تھا کہ کہیں ہم سے کوئی اہم لمحہ چوک نہ جائے۔ اگرچہ میچ کا نتیجہ برابر رہا لیکن یہ نتیجہ دونوں ہی ٹیموں کے حق میں تھا کیونکہ یوں دونوں ہی ٹیمیں اب بھی اگلے مرحلے کی دوڑ میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویسے تو اس میچ میں کئی اہم لمحات آئے، مگر اس میچ کا دلچسپ ترین لمحہ وہ تھا جب کیمرون کے ابوبکر نے 63ویں منٹ میں گول اسکور کرنے کے باوجود اس لیے جشن نہیں منایا کیونکہ وہ آف سائڈ سمجھا جا رہا تھا۔ اب کھیل دوبارہ شروع بھی ہوگیا لیکن وی اے آر عملے نے اسے جانچنے کے بعد ریفری کو بتایا کہ یہ آف سائڈ نہیں تھا جس کے بعد ابوبکر کے گول کو ٹھیک قرار دے دیا گیا۔ یہ گول ایک بہترین چپ گول تھا جسے نیٹ میں جاتا دیکھتے ہوئے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=702443304467275&amp;amp;ref=sharing" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پورا میچ کافی تیز کھیلا گیا، کچھ سیکنڈ کے لیے بال کبھی سربیا کے باکس میں تھی تو کبھی کیمرون کے گول باکس میں۔ یہ ڈرامائی میچ، کل کے دن ہونے والے تمام میچوں میں میرا پسندیدہ میچ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور سنسنی خیز مقابلہ جنوبی کوریا اور گھانا کے درمیان ہوا۔ گھانا کی ٹیم نے جیسا کھیل پرتگال کے خلاف پیش کیا تھا اس کے بعد تو یہی لگ رہا تھا کہ جنوبی کوریا کے مقابلے میں گھانا مضبوط ٹیم ہے لیکن جنوبی کوریا کے کھیل نے تو ناخن چبانے پر مجبور کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کل کا دن بہترین ’کم بیک‘ کا تھا۔ پہلے ہاف تک مقابلہ 0-2 سے گھانا کے حق میں تھا لیکن 58ویں اور 61ویں منٹ میں جنوبی کوریا کے چو گوئے سنگ نے 2  شاندار ہیڈرز مار کر مقابلہ برابر کردیا۔ ان گولز کے ساتھ ہی جنوبی کوریا ایک بار پھر اس گیم میں واپس آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/mannyalone/status/1597288652471947265"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;68ویں منٹ میں ایک بار پھر گھانا نے گول اسکور کرکے 2-3 سے برتری حاصل کرلی۔ گھانا کے 2 گولز محمد قدوس نے اسکور کیے۔ جب میچ اضافی وقت میں آیا تو جنوبی کوریا کا کھیل بے انتہا تیز تھا۔ لگ یہی رہا تھا کہ کسی بھی لمحے گول ماردیا جائے گا لیکن متواتر کوششوں کے باوجود ایسا نہیں ہوسکا اور جنوبی کوریا کو 2-3 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میچ کا اختتام متنازع رہا کیونکہ جنوبی کوریا کو کارنر دینے کے بجائے ریفری نے اختتام کی سیٹی بجا دی جبکہ گھانا کے کھلاڑیوں نے اضافی وقت میں جو وقت ضائع کیا اس کا بھی مداوا نہیں کیا گیا۔ جنوبی کوریا کے کوچ غصے میں میدان میں گھس آئے اور ریفری سے بحث کرنے لگے جس پر ریفری نے انہیں ریڈ کارڈ دکھا دیا۔ یوں ٹورنامنٹ کا دوسرا ریڈ کارڈ کوچ کو دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ریڈ کارڈ کی وجہ سے جنوبی کوریا کے کوچ پاؤلو بینٹو ایک میچ کی معطلی کا سامنا کریں گے۔ اگر وہ میدان میں موجود بھی رہے تب بھی وہ ٹچ لائن سے دُور رہیں گے تاکہ میچ پر اثرانداز نہ ہوسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/tupaateug256/status/1597272983617540096"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کومنٹیٹر نے اختتام پر ایک دلچسپ جملہ ادا کیا اور وہ تھا کہ ’ایک ایسا میچ جو آپ کبھی بھی ختم ہوتا نہیں دیکھنا چاہیں گے‘۔ میں ان کی اس بات سے 100 فیصد اتفاق کرتی ہوں کیونکہ مجھے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ بظاہر کمزور سمجھی جانے والی ٹیموں کے میچ اس قدر دلچسپ ہوں گے لیکن اچھا ہی ہوا جو میں نے یہ دونوں میچ پورے دیکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ذکر کرتے ہیں برازیل بمقابلہ سویٹزرلینڈ کا۔ یہاں دونوں ہی ٹیمیں چونکہ اپنے پہلے میچ جیت کے آئی تھیں اس لیے ایک دلچسپ میچ کی توقع کی جارہی تھی۔ توقعات کے عین مطابق دونوں نے ہی بہترین کھیل اور دفاع کا مظاہرہ کیا جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ میچ کا پہلا اور واحد گول 87ویں منٹ میں برازیل کے کیسیمیرو نے اسکور کیا۔ میچ کا نتیجہ 0-1 سے برازیل کے حق میں رہا یوں اس نے راؤنڈ آف 16 کے لیے کوالیفائی کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TransfersIntel/status/1597291729316904960"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برازیل کی ٹیم مسلسل گول مارنے کی کوشش کرتی رہی لیکن یہاں سویٹزرلینڈ کے دفاع کی تعریف بنتی ہے جس نے برازیل کے 5 شاٹ آن ٹارگٹ کو ناکام بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برازیل کے اس عالمی کپ کے پہلے میچ کے ہیرو رچارلیسن اس میچ میں بھی سرگرم نظر آئے۔ وینیشیئس جونیئر جنہیں میں گول مارتا دیکھنا چاہتی تھی اور انہوں نے جب گول اسکور کیا تو مجھے ذاتی طور پر کافی خوشی ہوئی۔ مگر یہاں ایک بار پھر وی اے آر ٹیکنالوجی آڑے آئی کیونکہ تمام تر خوشیاں جب منا لی گئی تو ریفری نے اشارہ کرکے یہ گول واپس لے لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook2  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://fb.watch/h5mJSAnlfo/" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ گروپ ایچ کا سب سے اہم میچ پرتگال بمقابلہ یوروگوئے بھی رات 12 بجے شروع ہوا۔ پہلے ہاف تک دونوں ٹیموں نے گول کرنے کے کئی مواقع ضائع کیے اور کوئی بھی گول اسکور نہیں ہوسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے ہاف میں پرتگال کے کھلاڑی برونو فرنینڈس نے باکس کے باہر شاندار شاٹ لیا جسے رونالڈو ہیڈر مارنے آئے مگر ان کو چھوئے بغیر ہی بال نیٹ کے اندر چلی گئی۔ پہلی نظر میں تو یہی لگا کہ یہ گول کرسٹیانو رونالڈو نے مارا ہے لیکن ایسا تھا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/100007656633954/videos/1258976968286997/" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اضافی وقت میں پرتگال کو جب پینلٹی دی گئی تو اس وقت کرسٹیانو رونالڈو بینچ پر موجود تھے لہٰذا پیلنٹی پر گول کرنے برونو فرنینڈس آئے اور یوں وہ 2 عالمی کپ میچوں میں 2 گولز اور 2 اسسٹ کرنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/mcbvck/status/1597332733650685953"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میچ میں سواریز نے گول کرنے کے کئی مواقع گنوائے جبکہ ایڈنسن کاوانی بھی کچھ خاص کمال نہیں دکھا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میچ میں ایک خاص بات یہ بھی ہوئی کہ دورانِ میچ ہم جنس پرستوں کی حمایت میں جھنڈا اٹھائے ایک شخص میدان میں گھس آیا جسے عملے نے میدان سے باہر نکال دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/abdallah_rm11/status/1597323915730489345"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ گروپ ایچ میں پرتگال اگلے مرحلے میں کوالیفائی کرگیا ہے جبکہ یوروگوئے کو راؤنڈ آف 16 میں رسائی کے لیے ہر حال میں گھانا کو ہرانا ہوگا۔ گھانا کے خلاف سواریز کے ہینڈ بال کی تاریخ کے باعث، یہ میچ دیکھنے میں کافی مزا آئے گا۔ لیکن اس بار گھانا کے پاس 2010ء کے عالمی کپ میں یوروگوئے سے شکست کا بدلہ لینے کا بھرپور موقع ہے، کیا وہ ایسا کرسکے گا، یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گروپ جی میں برازیل اگلے مرحلے میں پہنچ گئی ہے لیکن اس گروپ کی بقیہ تمام ٹیمیں ابھی بھی اگلے مرحلے میں جانے کے لیے اہل ہیں، مگر ان سب کو اپنے اگلے میچوں میں کامیابی حاصل کرنی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;64 میچوں پر مشتمل اس عالمی کپ کے 32 میچ کھیلے جاچکے ہیں جو بہت ہی یادگار اور کئی تاریخی مواقع لیکر آئے، اب بقیہ 32 میچ ہمارے لیے کیا حیرت انگیز اور جذباتی لمحات لے کر آئیں گے یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کل عالمی کپ کی بڑی ٹیموں پرتگال، یوروگوئے اور برازیل کے میچ تھے لیکن جو مزا جنوبی کوریا بمقابلہ گھانا اور کیمرون بمقابلہ سربیا کے سنسنی خیز میچ دیکھنے میں آیا وہ ان بڑی ٹیموں کے میچوں میں نہیں آیا۔</p>
<p>سب سے پہلے کیمرون بمقابلہ سربیا کا ذکر کرتی ہوں۔ اس میچ میں کیمرون نے گول کرکے برتری حاصل کی اور اس گول کی اہمیت اس لیے بھی بہت زیادہ تھی کہ 2014ء کے بعد یہ کیمرون کا پہلا عالمی کپ گول تھا مگر یہ برتری زیادہ دیر نہیں رہی اور ہاف ٹائم کے اضافی وقت میں سربیا نے لگاتار 2 گول اسکور کرکے میچ میں 1-2 کی برتری حاصل کرلی۔ یہ دونوں گول انتہائی شاندار تھے اور ایسا لگ رہا تھا جیسے کیمرون کی ٹیم اس غیرمتوقع برتری کے لیے تیار نہیں تھی۔</p>
<p>پہلے ہاف کا کھیل دیکھنے کے بعد تو انتظار نہیں ہورہا تھا کہ جلدی سے دوسرا ہاف شروع ہوجائے، اور سچ پوچھیے تو یہ انتظار بالکل ٹھیک بھی تھا کیونکہ اس ہاف میں تو جو کچھ ہوا وہ زیادہ حیران کن تھا۔</p>
<p>میچ شروع ہوا تو سربیا نے بہترین حکمتِ عملی سے کھیلتے ہوئے ایک اور گول کرکے مقابلے میں 1-3 کی برتری حاصل کرلی۔ مگر سربیا کی برتری کے باوجود کیمرون نے ہار نہیں مانی اور محض 3 منٹ میں 2 گول اسکور کرکے مقابلہ 3-3 سے برابر کردیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Dologenius/status/1597430372840898560"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>گول کا جواب گول سے دیا جانا ہی اس کھیل کی خوبصورتی ہے اور ان دونوں ہی ٹیموں نے اس حوالے سے بہترین کھیل پیش کیا۔ کھیل اس قدر دلچسپ رہا کہ نظریں ہٹانے کا دل نہیں چاہ رہا تھا کہ کہیں ہم سے کوئی اہم لمحہ چوک نہ جائے۔ اگرچہ میچ کا نتیجہ برابر رہا لیکن یہ نتیجہ دونوں ہی ٹیموں کے حق میں تھا کیونکہ یوں دونوں ہی ٹیمیں اب بھی اگلے مرحلے کی دوڑ میں شامل ہیں۔</p>
<p>ویسے تو اس میچ میں کئی اہم لمحات آئے، مگر اس میچ کا دلچسپ ترین لمحہ وہ تھا جب کیمرون کے ابوبکر نے 63ویں منٹ میں گول اسکور کرنے کے باوجود اس لیے جشن نہیں منایا کیونکہ وہ آف سائڈ سمجھا جا رہا تھا۔ اب کھیل دوبارہ شروع بھی ہوگیا لیکن وی اے آر عملے نے اسے جانچنے کے بعد ریفری کو بتایا کہ یہ آف سائڈ نہیں تھا جس کے بعد ابوبکر کے گول کو ٹھیک قرار دے دیا گیا۔ یہ گول ایک بہترین چپ گول تھا جسے نیٹ میں جاتا دیکھتے ہوئے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=702443304467275&amp;ref=sharing" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ پورا میچ کافی تیز کھیلا گیا، کچھ سیکنڈ کے لیے بال کبھی سربیا کے باکس میں تھی تو کبھی کیمرون کے گول باکس میں۔ یہ ڈرامائی میچ، کل کے دن ہونے والے تمام میچوں میں میرا پسندیدہ میچ تھا۔</p>
<p>ایک اور سنسنی خیز مقابلہ جنوبی کوریا اور گھانا کے درمیان ہوا۔ گھانا کی ٹیم نے جیسا کھیل پرتگال کے خلاف پیش کیا تھا اس کے بعد تو یہی لگ رہا تھا کہ جنوبی کوریا کے مقابلے میں گھانا مضبوط ٹیم ہے لیکن جنوبی کوریا کے کھیل نے تو ناخن چبانے پر مجبور کردیا۔</p>
<p>کل کا دن بہترین ’کم بیک‘ کا تھا۔ پہلے ہاف تک مقابلہ 0-2 سے گھانا کے حق میں تھا لیکن 58ویں اور 61ویں منٹ میں جنوبی کوریا کے چو گوئے سنگ نے 2  شاندار ہیڈرز مار کر مقابلہ برابر کردیا۔ ان گولز کے ساتھ ہی جنوبی کوریا ایک بار پھر اس گیم میں واپس آگیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/mannyalone/status/1597288652471947265"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>68ویں منٹ میں ایک بار پھر گھانا نے گول اسکور کرکے 2-3 سے برتری حاصل کرلی۔ گھانا کے 2 گولز محمد قدوس نے اسکور کیے۔ جب میچ اضافی وقت میں آیا تو جنوبی کوریا کا کھیل بے انتہا تیز تھا۔ لگ یہی رہا تھا کہ کسی بھی لمحے گول ماردیا جائے گا لیکن متواتر کوششوں کے باوجود ایسا نہیں ہوسکا اور جنوبی کوریا کو 2-3 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>اس میچ کا اختتام متنازع رہا کیونکہ جنوبی کوریا کو کارنر دینے کے بجائے ریفری نے اختتام کی سیٹی بجا دی جبکہ گھانا کے کھلاڑیوں نے اضافی وقت میں جو وقت ضائع کیا اس کا بھی مداوا نہیں کیا گیا۔ جنوبی کوریا کے کوچ غصے میں میدان میں گھس آئے اور ریفری سے بحث کرنے لگے جس پر ریفری نے انہیں ریڈ کارڈ دکھا دیا۔ یوں ٹورنامنٹ کا دوسرا ریڈ کارڈ کوچ کو دیا گیا۔</p>
<p>اس ریڈ کارڈ کی وجہ سے جنوبی کوریا کے کوچ پاؤلو بینٹو ایک میچ کی معطلی کا سامنا کریں گے۔ اگر وہ میدان میں موجود بھی رہے تب بھی وہ ٹچ لائن سے دُور رہیں گے تاکہ میچ پر اثرانداز نہ ہوسکیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/tupaateug256/status/1597272983617540096"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>کومنٹیٹر نے اختتام پر ایک دلچسپ جملہ ادا کیا اور وہ تھا کہ ’ایک ایسا میچ جو آپ کبھی بھی ختم ہوتا نہیں دیکھنا چاہیں گے‘۔ میں ان کی اس بات سے 100 فیصد اتفاق کرتی ہوں کیونکہ مجھے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ بظاہر کمزور سمجھی جانے والی ٹیموں کے میچ اس قدر دلچسپ ہوں گے لیکن اچھا ہی ہوا جو میں نے یہ دونوں میچ پورے دیکھے۔</p>
<p>اب ذکر کرتے ہیں برازیل بمقابلہ سویٹزرلینڈ کا۔ یہاں دونوں ہی ٹیمیں چونکہ اپنے پہلے میچ جیت کے آئی تھیں اس لیے ایک دلچسپ میچ کی توقع کی جارہی تھی۔ توقعات کے عین مطابق دونوں نے ہی بہترین کھیل اور دفاع کا مظاہرہ کیا جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ میچ کا پہلا اور واحد گول 87ویں منٹ میں برازیل کے کیسیمیرو نے اسکور کیا۔ میچ کا نتیجہ 0-1 سے برازیل کے حق میں رہا یوں اس نے راؤنڈ آف 16 کے لیے کوالیفائی کرلیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TransfersIntel/status/1597291729316904960"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>برازیل کی ٹیم مسلسل گول مارنے کی کوشش کرتی رہی لیکن یہاں سویٹزرلینڈ کے دفاع کی تعریف بنتی ہے جس نے برازیل کے 5 شاٹ آن ٹارگٹ کو ناکام بنایا۔</p>
<p>برازیل کے اس عالمی کپ کے پہلے میچ کے ہیرو رچارلیسن اس میچ میں بھی سرگرم نظر آئے۔ وینیشیئس جونیئر جنہیں میں گول مارتا دیکھنا چاہتی تھی اور انہوں نے جب گول اسکور کیا تو مجھے ذاتی طور پر کافی خوشی ہوئی۔ مگر یہاں ایک بار پھر وی اے آر ٹیکنالوجی آڑے آئی کیونکہ تمام تر خوشیاں جب منا لی گئی تو ریفری نے اشارہ کرکے یہ گول واپس لے لیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--facebook2  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://fb.watch/h5mJSAnlfo/" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>جبکہ گروپ ایچ کا سب سے اہم میچ پرتگال بمقابلہ یوروگوئے بھی رات 12 بجے شروع ہوا۔ پہلے ہاف تک دونوں ٹیموں نے گول کرنے کے کئی مواقع ضائع کیے اور کوئی بھی گول اسکور نہیں ہوسکا۔</p>
<p>دوسرے ہاف میں پرتگال کے کھلاڑی برونو فرنینڈس نے باکس کے باہر شاندار شاٹ لیا جسے رونالڈو ہیڈر مارنے آئے مگر ان کو چھوئے بغیر ہی بال نیٹ کے اندر چلی گئی۔ پہلی نظر میں تو یہی لگا کہ یہ گول کرسٹیانو رونالڈو نے مارا ہے لیکن ایسا تھا نہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/100007656633954/videos/1258976968286997/" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>اضافی وقت میں پرتگال کو جب پینلٹی دی گئی تو اس وقت کرسٹیانو رونالڈو بینچ پر موجود تھے لہٰذا پیلنٹی پر گول کرنے برونو فرنینڈس آئے اور یوں وہ 2 عالمی کپ میچوں میں 2 گولز اور 2 اسسٹ کرنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/mcbvck/status/1597332733650685953"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اس میچ میں سواریز نے گول کرنے کے کئی مواقع گنوائے جبکہ ایڈنسن کاوانی بھی کچھ خاص کمال نہیں دکھا سکے۔</p>
<p>اس میچ میں ایک خاص بات یہ بھی ہوئی کہ دورانِ میچ ہم جنس پرستوں کی حمایت میں جھنڈا اٹھائے ایک شخص میدان میں گھس آیا جسے عملے نے میدان سے باہر نکال دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/abdallah_rm11/status/1597323915730489345"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ گروپ ایچ میں پرتگال اگلے مرحلے میں کوالیفائی کرگیا ہے جبکہ یوروگوئے کو راؤنڈ آف 16 میں رسائی کے لیے ہر حال میں گھانا کو ہرانا ہوگا۔ گھانا کے خلاف سواریز کے ہینڈ بال کی تاریخ کے باعث، یہ میچ دیکھنے میں کافی مزا آئے گا۔ لیکن اس بار گھانا کے پاس 2010ء کے عالمی کپ میں یوروگوئے سے شکست کا بدلہ لینے کا بھرپور موقع ہے، کیا وہ ایسا کرسکے گا، یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا۔</p>
<p>گروپ جی میں برازیل اگلے مرحلے میں پہنچ گئی ہے لیکن اس گروپ کی بقیہ تمام ٹیمیں ابھی بھی اگلے مرحلے میں جانے کے لیے اہل ہیں، مگر ان سب کو اپنے اگلے میچوں میں کامیابی حاصل کرنی ہوگی۔</p>
<p>64 میچوں پر مشتمل اس عالمی کپ کے 32 میچ کھیلے جاچکے ہیں جو بہت ہی یادگار اور کئی تاریخی مواقع لیکر آئے، اب بقیہ 32 میچ ہمارے لیے کیا حیرت انگیز اور جذباتی لمحات لے کر آئیں گے یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1192944</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Nov 2022 13:44:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خولہ اعجاز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/29112810958f5ff.jpg?r=112829" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/29112810958f5ff.jpg?r=112829"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
