<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 09:29:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 09:29:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1192952/</link>
      <description>&lt;p&gt;کئی ہفتے بعد حکومت نے بالآخر ملز مالکان اور گنے کے کاشتکاروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے چینی برآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1723771/govt-decides-to-allow-sugar-export"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ چینی کی برآمد اور اس کے متعلق عمل کے حوالے سے فیصلے شوگر ایڈوائزری بورڈ (ایس اے بی) اور اکنامک کوآرڈینشن کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ وزیر قومی تحفظ خوراک و تحقیق طارق بشیر چیمہ کی سربراہی میں شوگر ایڈوائزری اجلاس میں برآمد کی مقدار کو بڑھانے اور کمی سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات اور ڈومیسٹک مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے سے بچنے کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1181809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تجارت اور صنعتکار، خوارک کے وزرا سمیت چاروں صوبوں سے ایک ایک رکن اور صوبائی شوگر مل ایسوسی ایشن نے اجلاس میں شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی کی برآمد کے حوالے سے سمری ای سی سی کے اجلاس میں جاری کی گئی تاکہ باضابطہ طور پر فیصلہ ہوسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی حکومتوں کی رواں گندم کے موسم میں کم از کم 30 فیصد سے زائد مدد کی وجہ سے صنعتکار 12 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے چینی برآمدگان کو خبردار کیا کہ اس اقدام سے ڈومیسٹک مارکیٹ میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہوگا جبکہ اکتوبر میں مہنگائی کی شرح 26.6 فیصد پہنچنے کی وجہ سے موجودہ پی ڈی ایم حکومت کو پہلے ہی عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب گزشتہ روز 28 اکتوبر کو وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی سربراہی میں چینی سپلائی کی صورتحال اور طلب کی ضرورت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا، ایف بی آر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی جانب سے اسٹاک کی تصدیق شدہ رپورٹ پر بھی بات چیت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1172040"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تحفظ خوراک، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ طارق باجوہ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو طارق محمود پاشا کے علاوہ سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں موجودہ اسٹاک پوزیشن اور مستقبل میں اس کی طلب پر بھی نظر ثانی کی گئی، ذرائع نے بتایا کہ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ چینی کا اسٹاک وافر مقدار میں موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبہ سندھ اور پنجاب میں ملز نے گنے کی کرشنگ شروع کردی ہے جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے رواں سال سیلاب کی وجہ سے صوبہ سندھ میں گنے کی پیداوار میں بھی کمی آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی صنعتکار نے دعویٰ کیا کہ گنے کی سپورٹ پرائز فی من 225 روپے سے 33 فیصد اضافے کے بعد 300 روپے تک پہنچنے کے سبب چینی کی موجودہ قیمت فی کلو 85 روپے سے بڑھا کر33  فیصد اضافے کے بعد 115 روپے فی کلو گرام کرنا پڑ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران پنجاب میں41 میں سے 31 شوگر ملز کام کر رہی ہیں جس کی وجہ سے پنجاب میں گنے کی کرشنگ کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب شوگر کین کمشنر حسین بہادرعلی شاہ نے بتایا کہ 28 نومبر سے 41 میں سے 31 ملز گنے کی کاشت کی کرشنگ کا آغاز ہوا جبکہ اس حوالے سے 25 نومبر کی ڈیڈلائن کی خلاف ورزی کی وجہ سے دیگر 10 یونٹ کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ 7 ڈیفالٹ ملز نے دعویٰ کیا ہے کہ کاشتکار گنے کی سپلائی نہیں کر رہے جس کی وجہ سے ان کے یونٹ کسی کام کے نہیں ہیں اور باقی تین یونٹ نے کہا کہ ان کے پلانٹ میں خامیاں ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کئی ہفتے بعد حکومت نے بالآخر ملز مالکان اور گنے کے کاشتکاروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے چینی برآمد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1723771/govt-decides-to-allow-sugar-export">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ چینی کی برآمد اور اس کے متعلق عمل کے حوالے سے فیصلے شوگر ایڈوائزری بورڈ (ایس اے بی) اور اکنامک کوآرڈینشن کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں کیے گئے۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ وزیر قومی تحفظ خوراک و تحقیق طارق بشیر چیمہ کی سربراہی میں شوگر ایڈوائزری اجلاس میں برآمد کی مقدار کو بڑھانے اور کمی سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات اور ڈومیسٹک مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے سے بچنے کے لیے تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1181809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیر تجارت اور صنعتکار، خوارک کے وزرا سمیت چاروں صوبوں سے ایک ایک رکن اور صوبائی شوگر مل ایسوسی ایشن نے اجلاس میں شرکت کی۔</p>
<p>چینی کی برآمد کے حوالے سے سمری ای سی سی کے اجلاس میں جاری کی گئی تاکہ باضابطہ طور پر فیصلہ ہوسکے۔</p>
<p>صوبائی حکومتوں کی رواں گندم کے موسم میں کم از کم 30 فیصد سے زائد مدد کی وجہ سے صنعتکار 12 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔</p>
<p>حکومت نے چینی برآمدگان کو خبردار کیا کہ اس اقدام سے ڈومیسٹک مارکیٹ میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ ہوگا جبکہ اکتوبر میں مہنگائی کی شرح 26.6 فیصد پہنچنے کی وجہ سے موجودہ پی ڈی ایم حکومت کو پہلے ہی عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب گزشتہ روز 28 اکتوبر کو وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی سربراہی میں چینی سپلائی کی صورتحال اور طلب کی ضرورت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا، ایف بی آر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی جانب سے اسٹاک کی تصدیق شدہ رپورٹ پر بھی بات چیت کی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1172040"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیر تحفظ خوراک، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ طارق باجوہ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو طارق محمود پاشا کے علاوہ سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔</p>
<p>اجلاس میں موجودہ اسٹاک پوزیشن اور مستقبل میں اس کی طلب پر بھی نظر ثانی کی گئی، ذرائع نے بتایا کہ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ چینی کا اسٹاک وافر مقدار میں موجود ہے۔</p>
<p>اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبہ سندھ اور پنجاب میں ملز نے گنے کی کرشنگ شروع کردی ہے جبکہ گزشتہ سال کے مقابلے رواں سال سیلاب کی وجہ سے صوبہ سندھ میں گنے کی پیداوار میں بھی کمی آئی۔</p>
<p>چینی صنعتکار نے دعویٰ کیا کہ گنے کی سپورٹ پرائز فی من 225 روپے سے 33 فیصد اضافے کے بعد 300 روپے تک پہنچنے کے سبب چینی کی موجودہ قیمت فی کلو 85 روپے سے بڑھا کر33  فیصد اضافے کے بعد 115 روپے فی کلو گرام کرنا پڑ جائے گی۔</p>
<p>اسی دوران پنجاب میں41 میں سے 31 شوگر ملز کام کر رہی ہیں جس کی وجہ سے پنجاب میں گنے کی کرشنگ کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔</p>
<p>پنجاب شوگر کین کمشنر حسین بہادرعلی شاہ نے بتایا کہ 28 نومبر سے 41 میں سے 31 ملز گنے کی کاشت کی کرشنگ کا آغاز ہوا جبکہ اس حوالے سے 25 نومبر کی ڈیڈلائن کی خلاف ورزی کی وجہ سے دیگر 10 یونٹ کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ 7 ڈیفالٹ ملز نے دعویٰ کیا ہے کہ کاشتکار گنے کی سپلائی نہیں کر رہے جس کی وجہ سے ان کے یونٹ کسی کام کے نہیں ہیں اور باقی تین یونٹ نے کہا کہ ان کے پلانٹ میں خامیاں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1192952</guid>
      <pubDate>Tue, 29 Nov 2022 14:38:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/11/29123029a333591.png?r=123037" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/11/29123029a333591.png?r=123037"/>
        <media:title>— شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
