<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 22:29:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 22:29:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’دو خواتین کی ملاقات کی وجہ محض یکساں جنس یا عمر نہیں ہوتی‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1193072/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن اور فن لینڈ کی وزیراعظم سنا مارین کی مشترکہ پریس کانفرس کے دوران رپورٹر کے غیر موزوں سوال پر دونوں خواتین رہنماؤں کی حاضر جوابی نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ سمیٹ لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر جیسنڈا آرڈرن اور سنا مارین کی پریس کانفرس کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک رپورٹر نے سوال کیا کہ ’بہت سارے لوگ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا آپ دونوں اس لیے مل رہی ہیں کہ کیونکہ آپ دونوں ہم عمر ہیں اور دونوں میں کئی چیزیں مشترک ہیں؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ianbremmer/status/1598072124622897152"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جواب میں جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ ’میں سوچتی ہوں کہ کیا کبھی کسی نے یہ سوال سابق امریکی صدر براک اوباما اور نیوزی لینڈ کے سابق وزیر اعظم جان کی سے بھی کیا کہ کیا وہ اس لیے ملتے ہیں کیونکہ وہ ہم عمر ہیں؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ براک اوباما اور جان کی 1961 میں چند دنوں کے فرق سے پیدا ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسنڈا آرڈرن نے مزید کہا کہ ’2 خواتین صرف اس لیے نہیں ملتیں کہ ان دونوں کی جنس مشترک ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فن لینڈ کی نیوزی لینڈ میں آنے والی برآمدات کی مالیت 19 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہے، ان کے پاس نوکیا جیسی کمپنیوں میں ٹیکنالوجی ہے، بائیو فیول ہے، زرعی شعبوں میں کام آنے والی مشینری بھی فن لینڈ میں بنائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’نیوزی لینڈ کی فن لینڈ کو برآمدات کی مالیت ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہے جس میں بڑا حصہ وائن اور گائے کے گوشت کی تجارت پر مشتمل ہے، ہماری جنس سے قطع نظر بطور سربراہان یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے مزید فروغ دیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنا مارین نے بھی جیسنڈا آرڈرن سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں اس لیے مل رہی ہیں کیونکہ وہ دونوں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ سنا مارین اپنے پہلے سرکاری دورے پر نیوزی لینڈ میں تھیں اور وہ نیوزی لینڈ کا دورہ کرنے والی فن لینڈ کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں وزرائے اعظم سے سوال کیا گیا کہ وہ بطور خاتون سربراہان اقلیت میں ہونے کی وجہ سے کیا محسوس کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ یہ سوال ان موضوعات میں شامل ہے جس پر ان دونوں نے تبادلہ خیال کیا تھا اور اس پر غور کیا کہ وہ مل کر کیا کر سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنا مارین نے کہا کہ خواتین کو دنیا بھر میں مردوں کے برابر حقوق ملنے کی ضرورت ہے، اس معاملے پر وہ دونوں متحد ہو کر کھڑی ہونا چاہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حاضر جوابی پر دونوں خواتین وزرائے اعظم کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھرپور انداز میں سراہا جارہا ہے جبکہ رپورٹر کے غیرموزوں سوال پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک صارف نے جیسنڈا آرڈرن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’انہوں نے ایک بچکانہ، ہتک آمیز سوال کا انتہائی عقلمندانہ، معلوماتی اور تعلیم یافتہ ردعمل دیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/cleotibbitts/status/1597709699314778112"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور صارف نے کہا کہ ’شرم کی بات ہے کہ صحافی نے ان سے ایسے بات کی جیسے وہ 1950 کی دہائی کی گھریلو خواتین ہیں جو صبح کی کافی تیار کر رہی ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/copontolife/status/1597735329028780034"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور صارف نے کہا کہ ’ایسا سوال کرنے والے شخص کو صحافی نہیں کہا جاسکتا، ان کے ساتھیوں کو ان سے دور رہنا چاہیے، کیا ان کا ایڈیٹر اس صحافی کے اس عمل کی توثیق کرے گا؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SimonBanksHB/status/1597927220940394496"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمنسٹی انٹرنیشنل کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی دونوں خواتین رہنماؤں کی اس پریس کانفرنس کی وائرل ویڈیو شیئر کی گئی اور ساتھ خواتین کے حقوق کا نعرہ بھی درج کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/amnesty/status/1598261474144784385"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن اور فن لینڈ کی وزیراعظم سنا مارین کی مشترکہ پریس کانفرس کے دوران رپورٹر کے غیر موزوں سوال پر دونوں خواتین رہنماؤں کی حاضر جوابی نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ سمیٹ لی۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر جیسنڈا آرڈرن اور سنا مارین کی پریس کانفرس کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک رپورٹر نے سوال کیا کہ ’بہت سارے لوگ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا آپ دونوں اس لیے مل رہی ہیں کہ کیونکہ آپ دونوں ہم عمر ہیں اور دونوں میں کئی چیزیں مشترک ہیں؟‘</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ianbremmer/status/1598072124622897152"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>جواب میں جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ ’میں سوچتی ہوں کہ کیا کبھی کسی نے یہ سوال سابق امریکی صدر براک اوباما اور نیوزی لینڈ کے سابق وزیر اعظم جان کی سے بھی کیا کہ کیا وہ اس لیے ملتے ہیں کیونکہ وہ ہم عمر ہیں؟‘</p>
<p>خیال رہے کہ براک اوباما اور جان کی 1961 میں چند دنوں کے فرق سے پیدا ہوئے تھے۔</p>
<p>جیسنڈا آرڈرن نے مزید کہا کہ ’2 خواتین صرف اس لیے نہیں ملتیں کہ ان دونوں کی جنس مشترک ہے‘۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ فن لینڈ کی نیوزی لینڈ میں آنے والی برآمدات کی مالیت 19 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ہے، ان کے پاس نوکیا جیسی کمپنیوں میں ٹیکنالوجی ہے، بائیو فیول ہے، زرعی شعبوں میں کام آنے والی مشینری بھی فن لینڈ میں بنائی جاتی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’نیوزی لینڈ کی فن لینڈ کو برآمدات کی مالیت ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہے جس میں بڑا حصہ وائن اور گائے کے گوشت کی تجارت پر مشتمل ہے، ہماری جنس سے قطع نظر بطور سربراہان یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے مزید فروغ دیں‘۔</p>
<p>سنا مارین نے بھی جیسنڈا آرڈرن سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں اس لیے مل رہی ہیں کیونکہ وہ دونوں وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہیں۔</p>
<p>خیال رہے کہ سنا مارین اپنے پہلے سرکاری دورے پر نیوزی لینڈ میں تھیں اور وہ نیوزی لینڈ کا دورہ کرنے والی فن لینڈ کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہیں۔</p>
<p>دونوں وزرائے اعظم سے سوال کیا گیا کہ وہ بطور خاتون سربراہان اقلیت میں ہونے کی وجہ سے کیا محسوس کرتی ہیں۔</p>
<p>جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ یہ سوال ان موضوعات میں شامل ہے جس پر ان دونوں نے تبادلہ خیال کیا تھا اور اس پر غور کیا کہ وہ مل کر کیا کر سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے معاملات میں جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔</p>
<p>سنا مارین نے کہا کہ خواتین کو دنیا بھر میں مردوں کے برابر حقوق ملنے کی ضرورت ہے، اس معاملے پر وہ دونوں متحد ہو کر کھڑی ہونا چاہتی ہیں۔</p>
<p>حاضر جوابی پر دونوں خواتین وزرائے اعظم کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھرپور انداز میں سراہا جارہا ہے جبکہ رپورٹر کے غیرموزوں سوال پر سخت تنقید کی جارہی ہے۔</p>
<p>ایک صارف نے جیسنڈا آرڈرن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’انہوں نے ایک بچکانہ، ہتک آمیز سوال کا انتہائی عقلمندانہ، معلوماتی اور تعلیم یافتہ ردعمل دیا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/cleotibbitts/status/1597709699314778112"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک اور صارف نے کہا کہ ’شرم کی بات ہے کہ صحافی نے ان سے ایسے بات کی جیسے وہ 1950 کی دہائی کی گھریلو خواتین ہیں جو صبح کی کافی تیار کر رہی ہیں۔‘</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/copontolife/status/1597735329028780034"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک اور صارف نے کہا کہ ’ایسا سوال کرنے والے شخص کو صحافی نہیں کہا جاسکتا، ان کے ساتھیوں کو ان سے دور رہنا چاہیے، کیا ان کا ایڈیٹر اس صحافی کے اس عمل کی توثیق کرے گا؟‘</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SimonBanksHB/status/1597927220940394496"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ایمنسٹی انٹرنیشنل کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھی دونوں خواتین رہنماؤں کی اس پریس کانفرنس کی وائرل ویڈیو شیئر کی گئی اور ساتھ خواتین کے حقوق کا نعرہ بھی درج کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/amnesty/status/1598261474144784385"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1193072</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Dec 2022 16:57:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/0115594911f21ae.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/0115594911f21ae.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/01155949e1224a3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/01155949e1224a3.jpg"/>
        <media:title>جیسنڈا آرڈرن نے کہا میں سوچتی ہوں کہ کیا کبھی کسی نے یہ سوال سابق امریکی صدر براک اوباما اور نیوزی لینڈ کے سابق وزیراعظم جان کی سے بھی کیا — فوٹو: یورو نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
