<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 19:11:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 19:11:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا ڈائری (14واں دن): بس میں کھڑے ہوکر خبر بنانے کا منفرد تجربہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1193076/</link>
      <description>&lt;p&gt;اس سلسلے کی بقیہ اقساط &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/trends/FIFADiary"&gt;یہاں&lt;/a&gt; پڑھیے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;میں نے اپنی زندگی میں بہت جگہوں پر خبریں لکھی ہیں کبھی ایئر پورٹ کے لاؤنج میں، کبھی ٹیکسی کی پچھلی نشست پر بیٹھے ہوئے تو کبھی بس میں۔ بعض اوقات یہ خطرہ بھی رہتا ہے کہ بس اب انٹرنیٹ کے سگنل گئے۔ اس دوران ڈیڈ لائن قریب ہوتی تھی اور دفتر میں لوگ خبر کا انتظار کررہے ہوتے تھے۔ لیکن اس طرح کے کام میں مزہ آتا ہے۔ بہرحال کل میں نے ایک تجربہ کیا اور وہ تھا بس میں کھڑے ہوکر سفر کرتے ہوئے خبر تیار کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ اب والے مرحلے میں میچوں کے شروع ہونے کا وقت بہت قریب کا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر قطر کے وقت کے مطابق ایک میچ 6 بجے شروع ہوتا ہے تو دوسرا 10 بجے اور جو شٹل فیفا چلاتا ہے وہ پہلا میچ ختم ہونے کے 20 منٹ بعد چلتی ہے۔ یعنی آپ کو آخری لمحات بس میں ہی دیکھنے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کل بھی فرانس اور تیونس کے میچ کے بعد ارجنٹینا اور پولینڈ کا میچ تھا اور قارئین کو اب تک یہ معلوم ہو ہی گیا ہوگا کہ میں ارجنٹینا کا میچ نہیں چھوڑتا۔ اس لیے ہم فرانس کے میچ کے فوراً بعد بس کے لیے بھاگے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193047"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیڈ لائن بھی کچھ ایسی تھی کہ مجھے میچ کی رپورٹ فوری بھیجنی تھی کیونکہ اگر میں دوسرے اسٹیڈیم میں پہنچ کر رپورٹ بھیجتا تو تب تک وقت نکل جاتا۔ اس وجہ سے ہم اضافی وقت شروع ہونے سے پہلے ہی اسٹیڈیم سے نکلے تاکہ ہمیں بس مل جائے کیونکہ اسٹیڈیم سے لے کر بس کے مقام تک ایک طویل فاصلہ ہوتا ہے۔ لیکن ہمارا جلدی نکلنے کا فائدہ نہیں ہوا کیونکہ ہم سے پہلے ہی لوگ بس میں بیٹھے ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب صورتحال یہ تھی کہ ہمیں بس میں کھڑے ہوکر جانا تھا۔ بس میں کھڑے ہوکر اور ہینڈ ریل پکڑ کر سفر کرنے میں جھٹکے بہت لگتے ہیں۔ میں نے خبر لیپ ٹاپ سے موبائل فون میں منتقل کرلی تھی اسے فون پر باآسانی مکمل کرلوں گا لیکن بس میں کھڑے ہوکر سفر کرنا اور پھر فون میں ٹائپنگ کرنا بہرحال ایک مشکل کام تھا۔ اچھا ہوا کہ مجھے اس کام کا بھی تجربہ ہوگیا اور اب میں کہہ سکتا ہوں کہ میں بس کھڑے ہوکر سفر کرتے ہوئے بھی خبر لکھ لیتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی یہ بھی اچھا ہوا کہ ارجنٹینا کی ٹیم اگلے مرحلے میں پہنچ گئی۔ میسی نے پینلٹی تو ضائع کی لیکن ارجنٹینا کے باقی کھلاڑیوں نے گول کرکے ارجنٹینا کو جتوا دیا۔ یہ میچ اس لیے بھی اہم تھا کہ اب ارجنٹینا کا ہر ورلڈ کپ میچ میسی کا آخری ورلڈ کپ میچ ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب میسی نے پینلٹی ضائع کی تو ہم یہ لکھنا شروع ہوگئے کہ یہ میسی کا آخری میچ ہوسکتا ہے۔ لیکن ارجنٹینا نے بہت اچھا کم بیک کیا اور 2 گول کیے، اس وقت تک میچ کا نتیجہ تقریباً سامنے آہی چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولینڈ کے لیے یہ میچ اس لیے مزیدار تھا کہ انہیں معلوم تھا کہ اگر وہ 2 گول سے بھی ہارتے ہیں تو ان کے اگلے مرحلے تک پہنچنے کے امکانات موجود ہیں۔ لیکن جب میکسیکو اور سعودی عرب کے میچ میں میکسیکو نے دو گول کردیے تو میکسیکو اور پولینڈ بالکل برار ہوگئے تھے۔ پولینڈ کے کھلاڑی بھی وہ میچ ختم ہونے کا انتظار کررہے تھے، اس دوران اسٹیڈیم میں بھی بہت تناؤ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/01194124dc63a6a.jpg'  alt='ارجنٹینا اور پولینڈ کا میچ اسٹیڈیم 974 میں کھیلا گیا تھا&amp;mdash; تصویر: لکھاری' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ارجنٹینا اور پولینڈ کا میچ اسٹیڈیم 974 میں کھیلا گیا تھا— تصویر: لکھاری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر جیسے ہی سعودی عرب نے گول کیا تو پولینڈ کے کھلاڑیوں کی خوشی الگ ہی تھی۔ ان کے فینز اور کھلاڑیوں نے خوب جشن منایا۔ مکسڈ زون میں جب ان کے کھلاڑی آئے تو وہ کافی پُرسکون تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اب ان کا مقابلہ فرانس سے ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مکسڈ زون میں سب کو میسی کا انتظار  تھا اور ڈیڑھ گھنٹے کے انتظار کے بعد میسی کی آمد ہوئی۔ جس طرح مکھیاں چھتے سے چمٹی ہوئی ہوتی ہیں اسی طرح تمام رپورٹرز بھی میسی کی جانب لپکے۔ اچھی بات یہ ہے کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ ہمیں معلوم ہوا کہ ہسپانوی زبان کا ترجمہ دستیاب ہے۔ تو میسی ہسپانوی زبان میں بات کرتے رہے، ہم اسے ریکارڈ کرتے رہے اور بعد میں ہمیں اس کا ترجمہ مل گیا۔ بطور صحافی آپ کو بعض اوقات اپنے انتظار کا بہت زبردست صلہ ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذاتی حوالے سے بھی کل ایک بات اچھی رہی کہ ارجنٹینا اور پولینڈ کا میچ اسٹیڈیم 974 میں ہوا تھا۔ یہ اسٹیڈیم 974 کنٹینروں سے بنایا گیا ہے اور اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے بعد اب میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ قطر نے اس فیفا ورلڈ کپ کے لیے جتنے اسٹیڈیم بنائے ہیں میں ان تمام میں میچ دیکھ چکا ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اس سلسلے کی بقیہ اقساط <a href="https://www.dawnnews.tv/trends/FIFADiary">یہاں</a> پڑھیے۔</p>
<hr />
<p>میں نے اپنی زندگی میں بہت جگہوں پر خبریں لکھی ہیں کبھی ایئر پورٹ کے لاؤنج میں، کبھی ٹیکسی کی پچھلی نشست پر بیٹھے ہوئے تو کبھی بس میں۔ بعض اوقات یہ خطرہ بھی رہتا ہے کہ بس اب انٹرنیٹ کے سگنل گئے۔ اس دوران ڈیڈ لائن قریب ہوتی تھی اور دفتر میں لوگ خبر کا انتظار کررہے ہوتے تھے۔ لیکن اس طرح کے کام میں مزہ آتا ہے۔ بہرحال کل میں نے ایک تجربہ کیا اور وہ تھا بس میں کھڑے ہوکر سفر کرتے ہوئے خبر تیار کرنا۔</p>
<p>میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ اب والے مرحلے میں میچوں کے شروع ہونے کا وقت بہت قریب کا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر قطر کے وقت کے مطابق ایک میچ 6 بجے شروع ہوتا ہے تو دوسرا 10 بجے اور جو شٹل فیفا چلاتا ہے وہ پہلا میچ ختم ہونے کے 20 منٹ بعد چلتی ہے۔ یعنی آپ کو آخری لمحات بس میں ہی دیکھنے ہوتے ہیں۔</p>
<p>کل بھی فرانس اور تیونس کے میچ کے بعد ارجنٹینا اور پولینڈ کا میچ تھا اور قارئین کو اب تک یہ معلوم ہو ہی گیا ہوگا کہ میں ارجنٹینا کا میچ نہیں چھوڑتا۔ اس لیے ہم فرانس کے میچ کے فوراً بعد بس کے لیے بھاگے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193047"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈیڈ لائن بھی کچھ ایسی تھی کہ مجھے میچ کی رپورٹ فوری بھیجنی تھی کیونکہ اگر میں دوسرے اسٹیڈیم میں پہنچ کر رپورٹ بھیجتا تو تب تک وقت نکل جاتا۔ اس وجہ سے ہم اضافی وقت شروع ہونے سے پہلے ہی اسٹیڈیم سے نکلے تاکہ ہمیں بس مل جائے کیونکہ اسٹیڈیم سے لے کر بس کے مقام تک ایک طویل فاصلہ ہوتا ہے۔ لیکن ہمارا جلدی نکلنے کا فائدہ نہیں ہوا کیونکہ ہم سے پہلے ہی لوگ بس میں بیٹھے ہوئے تھے۔</p>
<p>اب صورتحال یہ تھی کہ ہمیں بس میں کھڑے ہوکر جانا تھا۔ بس میں کھڑے ہوکر اور ہینڈ ریل پکڑ کر سفر کرنے میں جھٹکے بہت لگتے ہیں۔ میں نے خبر لیپ ٹاپ سے موبائل فون میں منتقل کرلی تھی اسے فون پر باآسانی مکمل کرلوں گا لیکن بس میں کھڑے ہوکر سفر کرنا اور پھر فون میں ٹائپنگ کرنا بہرحال ایک مشکل کام تھا۔ اچھا ہوا کہ مجھے اس کام کا بھی تجربہ ہوگیا اور اب میں کہہ سکتا ہوں کہ میں بس کھڑے ہوکر سفر کرتے ہوئے بھی خبر لکھ لیتا ہوں۔</p>
<p>ساتھ ہی یہ بھی اچھا ہوا کہ ارجنٹینا کی ٹیم اگلے مرحلے میں پہنچ گئی۔ میسی نے پینلٹی تو ضائع کی لیکن ارجنٹینا کے باقی کھلاڑیوں نے گول کرکے ارجنٹینا کو جتوا دیا۔ یہ میچ اس لیے بھی اہم تھا کہ اب ارجنٹینا کا ہر ورلڈ کپ میچ میسی کا آخری ورلڈ کپ میچ ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب میسی نے پینلٹی ضائع کی تو ہم یہ لکھنا شروع ہوگئے کہ یہ میسی کا آخری میچ ہوسکتا ہے۔ لیکن ارجنٹینا نے بہت اچھا کم بیک کیا اور 2 گول کیے، اس وقت تک میچ کا نتیجہ تقریباً سامنے آہی چکا تھا۔</p>
<p>پولینڈ کے لیے یہ میچ اس لیے مزیدار تھا کہ انہیں معلوم تھا کہ اگر وہ 2 گول سے بھی ہارتے ہیں تو ان کے اگلے مرحلے تک پہنچنے کے امکانات موجود ہیں۔ لیکن جب میکسیکو اور سعودی عرب کے میچ میں میکسیکو نے دو گول کردیے تو میکسیکو اور پولینڈ بالکل برار ہوگئے تھے۔ پولینڈ کے کھلاڑی بھی وہ میچ ختم ہونے کا انتظار کررہے تھے، اس دوران اسٹیڈیم میں بھی بہت تناؤ تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/01194124dc63a6a.jpg'  alt='ارجنٹینا اور پولینڈ کا میچ اسٹیڈیم 974 میں کھیلا گیا تھا&mdash; تصویر: لکھاری' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ارجنٹینا اور پولینڈ کا میچ اسٹیڈیم 974 میں کھیلا گیا تھا— تصویر: لکھاری</figcaption>
    </figure></p>
<p>پھر جیسے ہی سعودی عرب نے گول کیا تو پولینڈ کے کھلاڑیوں کی خوشی الگ ہی تھی۔ ان کے فینز اور کھلاڑیوں نے خوب جشن منایا۔ مکسڈ زون میں جب ان کے کھلاڑی آئے تو وہ کافی پُرسکون تھے کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اب ان کا مقابلہ فرانس سے ہوگا۔</p>
<p>مکسڈ زون میں سب کو میسی کا انتظار  تھا اور ڈیڑھ گھنٹے کے انتظار کے بعد میسی کی آمد ہوئی۔ جس طرح مکھیاں چھتے سے چمٹی ہوئی ہوتی ہیں اسی طرح تمام رپورٹرز بھی میسی کی جانب لپکے۔ اچھی بات یہ ہے کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ ہمیں معلوم ہوا کہ ہسپانوی زبان کا ترجمہ دستیاب ہے۔ تو میسی ہسپانوی زبان میں بات کرتے رہے، ہم اسے ریکارڈ کرتے رہے اور بعد میں ہمیں اس کا ترجمہ مل گیا۔ بطور صحافی آپ کو بعض اوقات اپنے انتظار کا بہت زبردست صلہ ملتا ہے۔</p>
<p>ذاتی حوالے سے بھی کل ایک بات اچھی رہی کہ ارجنٹینا اور پولینڈ کا میچ اسٹیڈیم 974 میں ہوا تھا۔ یہ اسٹیڈیم 974 کنٹینروں سے بنایا گیا ہے اور اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے بعد اب میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ قطر نے اس فیفا ورلڈ کپ کے لیے جتنے اسٹیڈیم بنائے ہیں میں ان تمام میں میچ دیکھ چکا ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1193076</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Dec 2022 20:31:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عمید وسیم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/0119462813b1558.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/0119462813b1558.jpg"/>
        <media:title>A man walks his a child as a tourist bus passes by at Katara in Doha on November 30, 2022, during the Qatar 2022 World Cup football tournament. (Photo by PATRICIA DE MELO MOREIRA / AFP)
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
