<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 03:41:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 03:41:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پشاور: کور کمانڈر ہاؤس کے باہر احتجاج کا معاملہ، پی ٹی آئی رہنما کی گرفتاری کا خدشہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1193200/</link>
      <description>&lt;p&gt;پشاور میں 3 نومبر کو کور کمانڈر کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کے معاملے پر  پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی فضل الہٰی کی گرفتاری سے متعلق ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو خط لکھ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1724526/pti-mpa-haji-fazal-elahi-faces-arrest-over-peshawar-rally-outside-corps-commanders-house"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق پنجاب کے شہر وزیر آباد میں سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کے خلاف پشاور کے کور کمانڈر کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرنے پر حاجی فضل الہیٰ سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمالی کنٹونمنٹ پولیس اسٹیشن نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 341، 353 اور 437 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، مقدمے میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، سرکاری ملازم کو نوکری سے روکنے اور حملے کی کوشش کی دفعات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191128"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایف آئی آر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ رکن صوبائی اسمبلی کے خلاف کس نے مقدمہ درج کیا تھا، لیکن پی ٹی آئی کے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ محمود خان اپنی جماعت کے قانون ساز کو گرفتار کرنے کے پولیس کے منصوبے سے ناخوش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پشاور پولیس کے افسر محمود اعجاز خان نے ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی محمود جان کو خط لکھ کر آگاہ کیا کہ  درج کی گئی ایف آئی آر میں رکن صوبائی اسمبلی فضل الہیٰ پولیس کو مطلوب ہیں، متعلقہ حکام کو ملزم کے کیس اور گرفتاری سے متعلق مطلع کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خط میں مزید کہا گیا کہ متعلقہ حکام کو ملزم کے کیس میں ملوث ہونے اور گرفتاری سے متعلق آگاہ کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پشاور میں پی ٹی آئی کے صدر عرفان سلیم نے ڈان سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پولیس نے رکن صوبائی اسمبلی فضل الہیٰ کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پولیس نے 3 نومبر کو احتجاج میں موجود پشاور ضلع میں پی ٹی آئی کے صدر محمد عاصم خان اور دیگر کارکنوں کو طلب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرفان سلیم نے بتایا کہ ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب تحقیقاتی پولیس نے بتایا کہ اس کیس کی کارروائی ابھی جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا اسمبلی کے پروسیجر اور بزنس رولز 1988 کے تحت صوبائی اسمبلی کے دفعہ 63 میں مجسٹریٹ کے ذریعے اسپیکر کو کسی بھی رکن کی گرفتاری یا حراست کی اطلاع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دفعہ کے تحت جب کوئی صوبائی رکن اسمبلی مجرمانہ الزام ، جرم، عدالت کی جانب سے قید کی سزا یا انتظامیہ کے احکامات کے تحت حراست میں لیا جاتا ہے تو اس معاملے پر اسپیکر کو  گرفتاری، حراست یا قید کی وجوہات کے بارے میں فوری طور پر معاملے سے آگاہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191083"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ 3 نومبر کو خیبرپختونخوا کے شہر پشاور میں ہشت نگری چوک سے خیبر روڈ تک گرینڈ ٹرک روڈ پر کور کمانڈر کی رہائش گاہ کے باہر پی ٹی آئی کے تقریباً 300 کارکنوں نے سابق وزیراعظم عمران خان پر حملے کے خلاف احتجاج کیا تھا، مظاہرین نے وفاقی حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مظاہرین نے خیبر روڈ کو ایک گھنٹے کے لیے بند کردیا تھا جس کے بعد وہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب پہنچے جہاں انہوں نے وفاقی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر احتجاج کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی کا ایک کارکن پولیس کی بکتر بند گاڑی پر چڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کارکنان نے بکتر بند گاڑی پر لاٹھیوں سے حملہ کیا اور نقصان پہنچایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا میں گردش ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رکن صوبائی اسمبلی فضل الہیٰ وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کو دھمکیاں دے رہے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پشاور میں 3 نومبر کو کور کمانڈر کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کے معاملے پر  پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی فضل الہٰی کی گرفتاری سے متعلق ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو خط لکھ دیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1724526/pti-mpa-haji-fazal-elahi-faces-arrest-over-peshawar-rally-outside-corps-commanders-house">رپورٹ</a></strong> کے مطابق پنجاب کے شہر وزیر آباد میں سابق وزیراعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کے خلاف پشاور کے کور کمانڈر کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کرنے پر حاجی فضل الہیٰ سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔</p>
<p>شمالی کنٹونمنٹ پولیس اسٹیشن نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 341، 353 اور 437 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا، مقدمے میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، سرکاری ملازم کو نوکری سے روکنے اور حملے کی کوشش کی دفعات شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191128"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم ایف آئی آر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ رکن صوبائی اسمبلی کے خلاف کس نے مقدمہ درج کیا تھا، لیکن پی ٹی آئی کے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ محمود خان اپنی جماعت کے قانون ساز کو گرفتار کرنے کے پولیس کے منصوبے سے ناخوش ہیں۔</p>
<p>پشاور پولیس کے افسر محمود اعجاز خان نے ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی محمود جان کو خط لکھ کر آگاہ کیا کہ  درج کی گئی ایف آئی آر میں رکن صوبائی اسمبلی فضل الہیٰ پولیس کو مطلوب ہیں، متعلقہ حکام کو ملزم کے کیس اور گرفتاری سے متعلق مطلع کیا جاتا ہے۔</p>
<p>خط میں مزید کہا گیا کہ متعلقہ حکام کو ملزم کے کیس میں ملوث ہونے اور گرفتاری سے متعلق آگاہ کیا جاتا ہے۔</p>
<p>پشاور میں پی ٹی آئی کے صدر عرفان سلیم نے ڈان سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پولیس نے رکن صوبائی اسمبلی فضل الہیٰ کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پولیس نے 3 نومبر کو احتجاج میں موجود پشاور ضلع میں پی ٹی آئی کے صدر محمد عاصم خان اور دیگر کارکنوں کو طلب کیا ہے۔</p>
<p>عرفان سلیم نے بتایا کہ ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔</p>
<p>دوسری جانب تحقیقاتی پولیس نے بتایا کہ اس کیس کی کارروائی ابھی جاری ہے۔</p>
<p>خیبرپختونخوا اسمبلی کے پروسیجر اور بزنس رولز 1988 کے تحت صوبائی اسمبلی کے دفعہ 63 میں مجسٹریٹ کے ذریعے اسپیکر کو کسی بھی رکن کی گرفتاری یا حراست کی اطلاع فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>اس دفعہ کے تحت جب کوئی صوبائی رکن اسمبلی مجرمانہ الزام ، جرم، عدالت کی جانب سے قید کی سزا یا انتظامیہ کے احکامات کے تحت حراست میں لیا جاتا ہے تو اس معاملے پر اسپیکر کو  گرفتاری، حراست یا قید کی وجوہات کے بارے میں فوری طور پر معاملے سے آگاہ کیا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191083"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ 3 نومبر کو خیبرپختونخوا کے شہر پشاور میں ہشت نگری چوک سے خیبر روڈ تک گرینڈ ٹرک روڈ پر کور کمانڈر کی رہائش گاہ کے باہر پی ٹی آئی کے تقریباً 300 کارکنوں نے سابق وزیراعظم عمران خان پر حملے کے خلاف احتجاج کیا تھا، مظاہرین نے وفاقی حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی تھی۔</p>
<p>مظاہرین نے خیبر روڈ کو ایک گھنٹے کے لیے بند کردیا تھا جس کے بعد وہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب پہنچے جہاں انہوں نے وفاقی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔</p>
<p>سوشل میڈیا پر احتجاج کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پی ٹی آئی کا ایک کارکن پولیس کی بکتر بند گاڑی پر چڑھ رہا ہے۔</p>
<p>ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کارکنان نے بکتر بند گاڑی پر لاٹھیوں سے حملہ کیا اور نقصان پہنچایا تھا۔</p>
<p>سوشل میڈیا میں گردش ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رکن صوبائی اسمبلی فضل الہیٰ وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کو دھمکیاں دے رہے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1193200</guid>
      <pubDate>Sun, 04 Dec 2022 17:20:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/04115921658e81d.png?r=115946" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/04115921658e81d.png?r=115946"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/04115937521fa91.jpg?r=120142" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/04115937521fa91.jpg?r=120142"/>
        <media:title>پولیس نے فضل الہٰی کی گرفتاری سے متعلق ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو خط لکھ دیا— فوٹو: سراج الدین
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
