<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 05:14:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 05:14:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے حصول کیلئے امریکا، چین اور برطانیہ سے تعاون طلب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1193324/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان نے 7 ارب ڈالر کے اقتصادی بیل آؤٹ پیکج کے حصول میں تعاون کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 3 بڑے شیئر ہولڈرز سے تعاون طلب کرلیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1725086/govt-seeks-major-imf-shareholders-help-for-7bn-plan"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور ان کی ٹیم نے اسلام آباد میں موجود امریکا، چین اور برطانیہ کے سفیروں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور انہیں ان تمام معاشی چیلنجز پر اعتماد میں لیا جوکہ بیشتر خارجی عوامل اور آئی ایم ایف کے عملے کے ساتھ معاہدے میں مشکلات کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193318"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ اس حوالے سے ووٹنگ کے لیے ان تینوں ممالک کے پاس بالترتیب 16.5 فیصد، 6.08 فیصد اور 4.03 فیصد حقوق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے علاوہ جاپان، جرمنی اور فرانس بالترتیب 6.14 فیصد، 5.31 فیصد اور 4.03 فیصد ووٹنگ کے حقوق کے ساتھ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی دیگر 3 اہم قوتیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ طارق باجوہ اور سیکریٹری خزانہ حامد یعقوب شیخ سمیت اقتصادی ٹیم نے یو این ڈی پی کے مشیر سر مائیکل باربر کے ہمراہ امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم، چینی سفیر نونگ رونگ اور برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ کی جانب سے سفارتکاروں اور کاروباری حلقوں کو یقین دہانی کروائی گئی کہ پاکستان تمام تر مشکلات کے باوجود آئی ایم ایف پروگرام کے لیے پُرعزم ہے اور معاشی ایمرجنسی کی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے اپنے ایک انٹرویو کے سبب پیدا ہونے والے اس تاثر کو بھی زائل کرنے کی کوشش کی کہ آئی ایم ایف کا جائزہ تاخیر کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں اسحٰق ڈار نے 2 دسمبر کو کہا تھا کہ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پاکستان کے 7 ارب ڈالر توسیع فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے نویں جائزے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرتی ہے یا نہیں کیونکہ انہیں ملکی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب فنانس ڈویژن نے ملک میں معاشی ایمرجنسی کے نفاذ کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے اور حکومت کی کوششوں سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام ٹریک پر واپس آچکا ہے اور نویں جائزے کے حوالے سے مذاکرات اگلے مرحلے پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان میں معاشی ایمرجنسی کے حوالے سے جھوٹا پیغام سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193154"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں بتایا گیا کہ فنانس ڈویژن نے ایسے دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں معاشی ایمرجنسی لگانے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/FinMinistryPak/status/1600159117989285888"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اس پیغام کا مقصد ملک میں معاشی صورت حال کے بارے میں غیر یقینی کی صورت حال پیدا کرنا ہے اور یہ صرف ایسے لوگوں کی صرف سے پھیلایا جاسکتا ہے جو پاکستان کو خوش حال نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید بتایا گیا کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کو مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہے، اس کے ساتھ ساتھ بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں بھی وقت پر کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان نے 7 ارب ڈالر کے اقتصادی بیل آؤٹ پیکج کے حصول میں تعاون کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 3 بڑے شیئر ہولڈرز سے تعاون طلب کرلیا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1725086/govt-seeks-major-imf-shareholders-help-for-7bn-plan"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور ان کی ٹیم نے اسلام آباد میں موجود امریکا، چین اور برطانیہ کے سفیروں سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور انہیں ان تمام معاشی چیلنجز پر اعتماد میں لیا جوکہ بیشتر خارجی عوامل اور آئی ایم ایف کے عملے کے ساتھ معاہدے میں مشکلات کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193318"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ اس حوالے سے ووٹنگ کے لیے ان تینوں ممالک کے پاس بالترتیب 16.5 فیصد، 6.08 فیصد اور 4.03 فیصد حقوق ہیں۔</p>
<p>ان کے علاوہ جاپان، جرمنی اور فرانس بالترتیب 6.14 فیصد، 5.31 فیصد اور 4.03 فیصد ووٹنگ کے حقوق کے ساتھ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی دیگر 3 اہم قوتیں ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ طارق باجوہ اور سیکریٹری خزانہ حامد یعقوب شیخ سمیت اقتصادی ٹیم نے یو این ڈی پی کے مشیر سر مائیکل باربر کے ہمراہ امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم، چینی سفیر نونگ رونگ اور برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔</p>
<p>وزارت خزانہ کی جانب سے سفارتکاروں اور کاروباری حلقوں کو یقین دہانی کروائی گئی کہ پاکستان تمام تر مشکلات کے باوجود آئی ایم ایف پروگرام کے لیے پُرعزم ہے اور معاشی ایمرجنسی کی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے اپنے ایک انٹرویو کے سبب پیدا ہونے والے اس تاثر کو بھی زائل کرنے کی کوشش کی کہ آئی ایم ایف کا جائزہ تاخیر کا شکار ہے۔</p>
<p>قبل ازیں اسحٰق ڈار نے 2 دسمبر کو کہا تھا کہ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پاکستان کے 7 ارب ڈالر توسیع فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے نویں جائزے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرتی ہے یا نہیں کیونکہ انہیں ملکی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب فنانس ڈویژن نے ملک میں معاشی ایمرجنسی کے نفاذ کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے اور حکومت کی کوششوں سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام ٹریک پر واپس آچکا ہے اور نویں جائزے کے حوالے سے مذاکرات اگلے مرحلے پر ہیں۔</p>
<p>فنانس ڈویژن کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان میں معاشی ایمرجنسی کے حوالے سے جھوٹا پیغام سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193154"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بیان میں بتایا گیا کہ فنانس ڈویژن نے ایسے دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں معاشی ایمرجنسی لگانے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/FinMinistryPak/status/1600159117989285888"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>فنانس ڈویژن کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے اس پیغام کا مقصد ملک میں معاشی صورت حال کے بارے میں غیر یقینی کی صورت حال پیدا کرنا ہے اور یہ صرف ایسے لوگوں کی صرف سے پھیلایا جاسکتا ہے جو پاکستان کو خوش حال نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>بیان میں مزید بتایا گیا کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کو مکمل کرنے کے لیے پُرعزم ہے، اس کے ساتھ ساتھ بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں بھی وقت پر کی جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1193324</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Dec 2022 10:48:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/070751243f9d296.jpg?r=075308" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/070751243f9d296.jpg?r=075308"/>
        <media:title>ملاقات میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خزانہ طارق باجوہ اور سیکریٹری خزانہ حامد یعقوب شیخ بھی شامل تھے—فوٹو : پی پی آئی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
