<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:25:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:25:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’اِٹ ہیپنز اونلی اِن پاکستان‘ کے فاتحین اب کیا کررہے ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1193396/</link>
      <description>&lt;p&gt;آنجہانی جاپانی مصنف اکیرا کروساوا نے کہا تھا کہ ’کسی تخلیق کار کا سب سے بہترین تعارف اس کا تخلیق کردہ کام ہوتا ہے‘۔ یہی بات ’اِٹ ہیپنز اونلی اِن پاکستان‘ پر بھی صادق آتی ہے۔ یہ ڈان ڈاٹ کام اور ڈوئچے ویلے کے اشتراک سے ہونے والا مختصر فلموں کا مقابلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’واہی‘، ’سیون ورٹیکل مائیلز، ’ان باؤنڈ بریتھ‘ اور ’صفِ اول‘ اس مقابلے میں گزشتہ 4 برس میں بہترین قرار پانے والی فلمیں ہیں، یہ فلمیں ہمیں ان پاکستانیوں کی زندگیوں میں جھانکنے کا موقع فراہم کرتی ہیں جنہیں عام طور پر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ یہ وہ ہیروز ہیں جو ہسپتال کی راہداریوں سے لے کر پنجاب کے کھیتوں تک اور بلوچستان کی تاریک کانوں تک موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کہانیاں جتنی بہترین اتنے ہی بہترین انہیں فلمانے والے بھی ہیں، چاہے اس کی وجہ ان کی محنت ہو، بے آواز لوگوں کی آواز بننے کا عزم ہو یا بچپن کا شوق  پورا کرنے کا منفرد انداز۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال اس مقابلے کے 5 سال مکمل ہورہے ہیں اور اس حوالے سے ہم نے گزشتہ مقابلوں کے فاتحین سے بات کی اور یہ جانا کہ وہ اب کن منصوبوں پر کام کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ارسلان-ماجد-فلم-واہی" href="#ارسلان-ماجد-فلم-واہی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ارسلان ماجد— فلم ’واہی‘&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/01151557820b180.png'  alt='  ارسلان ماجد  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ارسلان ماجد&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارسلان مجید نے حارث سہگل اور غلام عباس کے ساتھ مل کر فلم &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=OPBoyX7FgjU"&gt;’واہی‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; تیار کی تھی۔ یہ فلم اقبال نامی خاتون کسان کی کہانی ہے جو پاکستان کے پدرشاہی معاشرے کے دقیانوسی تصورات کو ختم کررہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/01152017338dffb.png?r=152049'  alt='  فلم کی شوٹنگ کے دوران  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فلم کی شوٹنگ کے دوران&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارسلان کی پرو ڈکشن کمپنی اے ڈبلیو بی کے لیے پہلا انعام جیتنا ایک گیم چینجر تھا۔ انہوں نے ڈان کو بتایا کہ ’مقابلہ جیتنے سے پہلے ہم صرف فلم کے شوقین لوگوں کا ایک گروپ تھے جو ایک بنیادی سا ڈی ایس ایل آر کیمرا لیے گھومتے تھے۔ ہم فیچر فلموں پر کام کرنا چاہتے تھے لیکن یہ نہیں جانتے تھے کہ آغاز کیسے اور کہاں سے کیا جائے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ارسلان جوکہ بچپن سے ہی فلم ساز بننا چاہتے تھے، نے ہمت کرکے اس مقابلے کے لیے اپنی فلم داخل کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/OPBoyX7FgjU?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیناسونک جی ایچ 45 اور ڈی جے آئی میوک پرو سے پنجاب کے دیہی علاقے میں فلمائی گئی یہ فلم اپنے بچوں اور اپنی فصل کے لیے ایک خاتون کی کوششوں اور محنت کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارسلان نے ہمیں بتایا کہ ’ہمیں یہ مقابلہ جیتنے کے بعد دنیا بھر سے جو پیار اور عزت ملی اس نے ہمارے لیے مزید کئی دروازے کھول دیے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم واہی دنیا بھر  کے دیگر فلم فیسٹیول کے لیے بھی منظور ہوئی جن میں 2019ء میں پام اسپرنگز میں ہونے والا امریکن ڈاکومینٹری فلم فیسٹیول بھی شامل ہے۔ اسی سال اس فلم نے ممبئی میں فریمز فلم فیسٹیول میں بھی پہلا انعام حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/01151810318a9ea.jpg'  alt='  فلم کا پوسٹر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فلم کا پوسٹر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارسلان اور ان کی ٹیم کی پاکستان میں بھی پذیرائی ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس پذیرائی کے نتیجے میں ہمیں کئی منصوبے ملے اور ہم نے ملک بھر میں کئی صارفین کے لیے ڈاکومینٹری اور اشتہار تیار کیے‘۔ ان کے صارفین میں &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=YpnCZIKp_dc"&gt;آغا خان یونیورسٹی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; اور &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=Dbm3e-MhBYE"&gt;ایس آئی یو ٹی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; جیسے ادارے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہیں’ آزاد’ فلمز کے روح رواں جامی کے ساتھ کام کرنے کا بھی موقع ملا۔ ارسلان انہیں ’پاکستان کے بہترین فلم سازوں میں سے ایک‘ قرار دیتے ہیں۔ جامی اٹ ہیپنز اونلی ان پاکستان کے ججز میں بھی شامل تھے۔ ارسلان کے مطابق ’یہ سب کچھ کبھی ممکن نہ ہوتا اگر ڈان اور ڈی ڈبلیو ہمیں اپنا کام پیش کرنے کا موقع نہ دیتے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ارسلان اس فلم کے بارے بہت پُرجوش انداز میں بتا رہے تھے کہ کیسے انہیں دشوار گزار راستوں اور سخت موسم کا سامنا کرنا پڑا اور اسی سے فلم سازی کے حوالے سے ان کا جنون ظاہر ہورہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دو  سال سے وہ اپنی پہلی طویل دورانیے کی فیچر فلم ’بییونڈ دی ویٹ لینڈز‘ کی شوٹنگ کررہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ پاکستان کی کوہ پیما برادری پر بننے والی پہلی پاکستانی فلم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/01152029c88f4c3.jpg?r=152049'  alt='  ارسلان کی دوسری فلم کا پوسٹر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ارسلان کی دوسری فلم کا پوسٹر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے کے ٹو کے علاقے میں شوٹنگ کی ہے جہاں درجہ حرارت منفی 30 ڈگری تھا۔۔۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ کسی فلم کریو نے کے 2 کے قریب ایک مکمل فلم شوٹ کی ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہماری کاسٹ میں حقیقی کوہ پیما شامل ہیں جو پاکستانی کی بلند ترین چوٹیاں سر کرچکے ہیں‘۔ اس فلم کی پوسٹ پروڈکشن تقریباً مکمل ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/jsqDJ6M9EeY?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ابھی ان کی یہ فلم مکمل نہیں ہوئی ہے لیکن ارسلان اور ان کی ٹیم نے اپنے اگلے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے جوکہ ایک سائنس فکشن فلم ہے۔ اس بارے میں ارسلان نے کہا کہ ’اس وقت میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اس کا موضوع خلائی سفر ہوگا اور اس میں اس دنیا سے باہر کی زندگی کی کھوج ہوگی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/01152031902ccd4.jpg?r=152049'  alt='  فلم کی شوٹنگ کے مقام پر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فلم کی شوٹنگ کے مقام پر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے ارسلان سے اقبال مائی کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ ’ہم وقتاً فوقتاً ان کی خیریت دریافت کرتے رہتے ہیں۔ واہی کی ریلیز کے بعد وہ اپنے گاؤں کی مشہور شخصیت بن گئی ہیں جو اپنا وقت کھیتی باڑی اور خواتین کو با اختیار بنانے میں گزارتی ہیں اور انہیں گندم کی فصل کے بارے آگاہی دیتی ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="علی-حیدر-فلم-سیون-ورٹیکل-مائیل" href="#علی-حیدر-فلم-سیون-ورٹیکل-مائیل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;علی حیدر— فلم ’سیون ورٹیکل مائیل‘&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/01165711cad6c77.jpg?r=165801'  alt=' علی حیدر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;علی حیدر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمارے دوسرے مقابلے کا موضوع ’اوَر ڈائیورس پاکستان‘ تھا جس کی بنیاد پاکستان کا ثقافتی تنوع تھا۔ اس سال مقابلے کی فاتح علی حیدر کی فلم ’سیون ورٹیکل مائیل‘ تھی۔ یہ فلم بلوچستان میں کوئلے کی کان کنی کے خطرناک کام سے وابستہ ہزارہ برادری کے افراد کی کہانی ہے۔ ان افراد کو صرف زمین کے ہزاروں فٹ نیچے کام کرنے کا خطرہ درپیش نہیں ہوتا بلکہ یہ دہشت گردوں کے نشانے پر بھی رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/011657374276446.jpg?r=165801'  alt='  فلم کی شوٹنگ کا منظر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فلم کی شوٹنگ کا منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فلم میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والا آغا ایواز اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ ’جب ہم گھر سے نکلتے تھے تو اپنے گھر والوں کو اس طرح الوداع کہتے تھے جیسے ہم ان سے آخری مرتبہ مل رہے ہوں‘۔ یہ بات وہ دل چھو لینے والے انداز میں کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/no5DyfnPg0Y?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فلم کا موضوع علی حیدر کے دل سے بہت قریب ہے۔ وہ خود بھی ہزارہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور اس وجہ سے فلم سازی کی جانب آئے کیونکہ وہ اپنی برادری کو درپیش مصائب دنیا کے سامنے لاسکیں۔ انہوں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور 2010ء میں کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے میں وہ زخمی ہوئے تھے۔ انہوں ڈان کو بتایا کہ ’میں شدید زخمی ہوا تھا۔۔۔ میں نے اس دھماکے میں اپنے والد اور کزن کو کھودیا تھا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن وہ جتنے پرعزم ہیں اتنے ہی مضبوط بھی ہیں۔ انہوں نے مقابلے کے بارے میں بات کرنے سے قبل ہمیں بتایا کہ ’اپنی برادری کی آواز کو عالمی سطح تک پہنچانا میرے لیے اہم ہے‘۔ مقابلے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’اس نے میری زندگی بدل دی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/0116575303352a2.jpg?r=165801'  alt='  علی حیدر فلم کی شوٹنگ کرتے ہوئے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;علی حیدر فلم کی شوٹنگ کرتے ہوئے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’یہ میری پہلی مختصر فلم تھی اور ملکی سطح پر انعام حاصل کرنا میرے لیے بہت اہم تھا۔ یہ فیسٹیول بہت دلچسپ اور میرے لیے بہت حوصلہ افزا تھا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیدر علی نے بتایا کہ یہ مقابلہ جیتنے کے بعد انہیں اپنی وڈیوز پر آنے والے تبصروں سے مزید حوصلہ ملا۔ ان کے مطابق ’ناظرین کی طرف سے زبردست مثبت ردعمل ملا۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈان نے میری فلم کو اپنا پلیٹ فارم دیا جس کی وجہ سے بہت سارے لوگوں نے اسے سوشل میڈیا پر دیکھا۔ میں ویڈیو کے نیچے تبصرے پڑھتا تھا جو بہت حوصلہ افزا تھے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس جیت کی وجہ سے ملک بھر کے دیگر فلم ساز بھی ان کے رابطے میں آئے جن میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے فلم ساز بھی شامل ہیں۔ لیکن ایک چیز جو انہیں سب سے زیادہ یاد رہتی ہے وہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1599441"&gt;جنوری 2021ء&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کے قتل کے بعد اس فلم پر آنے والا ردعمل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/011657185368846.jpg?r=165801'  alt='  علی حیدر ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;علی حیدر ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ’اس واقعے کے بعد بہت سے لوگوں نے میری فلم کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کر دیا اور مجھ سے رابطہ کرکے کہا کہ انہیں اس سے پہلے ان حالات کا احساس نہیں تھا جن میں یہ کان کن کام کرتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی اس مقابلے کے بعد سے مصروف ہی رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ میں نے حال ہی میں ہندوستانی اور پاکستانی فلم سازوں کے ایک منصوبے &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.seedsofpeace.org/wp-content/uploads/2022/08/All-Films.jpg"&gt;’سیڈز آف پیس‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پر کام کیا ہے جس کی فنڈنگ کراچی میں امریکی قونصلیٹ جنرل نے کی تھی’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی ایک ڈاکومینٹری &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://youtu.be/F7Vf_4RNqLc"&gt;’اسمال ٹائم سینما‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; رواں سال اورلینڈو فلم فیسٹیول کے لیے منتخب ہوئی اور اس نے 2 نامزدگیاں حاصل کیں۔ گزشتہ ماہ ہی وہ اس فیسٹیول میں شرکت کے لیے اورلینڈو، فلوریڈا  گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/011657286d12d18.jpg?r=165801'  alt='  علی حیدر اورلینڈو فلم فیسٹیول میں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;علی حیدر اورلینڈو فلم فیسٹیول میں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ’یہی نہیں بلکہ میں ایک ایرانی ہدایت کار کی فیچر لینتھ ڈاکومینٹری کے سنیماٹوگرافر کے طورپر بھی کام کررہا ہوں‘۔ حیدر علی ایک تجرباتی مختصر فلم پر بھی کام کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی نے ایک انتہائی ذاتی منصوبے کے بارے میں بتایا کہ ’میں اپنی پہلی فیچر ڈاکومینٹری پر بھی کام کررہا ہوں جو میری ذاتی کہانی پر مبنی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="عمر-نفیس--فلم-اَن-باؤنڈ-بریتھ" href="#عمر-نفیس--فلم-اَن-باؤنڈ-بریتھ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;عمر نفیس — فلم ’اَن باؤنڈ بریتھ‘&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/03220648dc8bc80.jpg'  alt='  عمر نفیس  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;عمر نفیس&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2020ء وہ سال تھا جب دنیا کورونا وائرس کی لپیٹ میں تھی اور سماجی فاصلے کی پابندی رشتے داروں اور دوستوں کو ایک دوسرے سے دور کررہی تھی۔ کورونا وائرس کے حوالے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات ہی اُس سال مقابلے کے موضوع ’کریٹو ڈسٹینسنگ‘ کی بنیاد بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال عمر نفیس کی فلم  ’ان باؤنڈ بریتھ‘نے پہلا انعام حاصل کیا۔ اس وقت لوگ جو کچھ محسوس کررہے تھے اس کا اظہار ایک کورونا وارڈ میں کام کرنے والی ڈاکٹر آمنہ بتول کی کہانی میں ہوتا ہے جو خود دمے کی مریض ہونے کے باوجود معاشرتی توقعات کو اپنے کیریئر کے انتخاب کے آڑے نہیں آنے دیتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/-gv2rdu7ItQ?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر آمنہ کی استقامت ایک طرح عمر نفیس کی کہانی بھی ہے جنہوں نے تیسری مرتبہ میں ’اٹ ہیپنز اونلی ان پاکستان‘ کا مقابلہ جیتا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ’پہلی مرتبہ  مجھے خصوصی انعام ملا، دوسری مرتبہ میں فائنلسٹ رہا اور تیسری مرتبہ میں جیت گیا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمر نفیس لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس سے فلم اور ٹیلی ویژن گریجویٹ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ’یہ انعام جیتنے سے قبل میں اپنی فلمیں بس اپنے دوستوں کو دکھاتا تھا اور انہیں ایک ہارڈ ڈرائیو میں محفوظ کرلیتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/0322075606362e0.jpg'  alt=' عمر نفیس فلم کی شوٹنگ کے دوران  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;عمر نفیس فلم کی شوٹنگ کے دوران&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’انعام جیتنے کے بعد، بہت سے ڈاکٹروں نے مجھ سے رابطہ کیا اور فلم کی تعریف کی جو بہت حوصلہ افزا تھا [اور اس بات کا ثبوت تھا کہ] میری آواز سنی جا رہی تھی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ یہ جان کر بہت خوش ہوئے کہ لوگ خود کو اس فلم سے جوڑ رہے ہیں۔ ’ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ ان کی کہانی تھی اور فلم میں ان مسائل پر بات کی گئی جن کا انہیں سامنا تھا اور انہوں نے ایسا کچھ نہیں دیکھا تھا۔ یہ حقیقت کہ میں اپنے کام کے ذریعے لوگوں سے جڑ رہا تھا، بہت حوصلہ افزا تھی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمر بچپن سے ہی پڑھنے کے شوقین تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے واقعی بہت فلمیں نہیں دیکھی تھیں اور اس کے بجائے عمرو عیار اور الہ دین کی کہانیوں اور نونہال اور تعلیم و تربیت جیسے ڈائجسٹوں میں غرق رہتے تھے جس نے واقعی چیزوں کا تصور کرنے اور دیکھنے کی ان کی صلاحیت کو تقویت بخشی۔ پھر انہی صلاحیتوں کو انہوں نے اپنی فلم میں استعمال کیا جسے انہوں نے نیکون زیڈ 6 کیمرے پر شوٹ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/03225208cedd28b.jpg'  alt='  فلم کی شوٹنگ کا منظر  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فلم کی شوٹنگ کا منظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمر اب بہت مصروف رہتے ہیں، وہ اس وقت جرمنی کی یونیورسٹی آف منسٹر میں ویژول انتھروپولوجی میں ماسٹرز کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’میں ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک ڈاکومینٹری سیریز ’ہَر‘ کے لیے بھی کام کررہا ہوں۔ یہ سیریز ایشیا میں تبدیلی کے لیے کام کرنے والی ایشیائی خواتین کے بارے میں ہے۔۔۔ میں اس کے لیے 6 اقساط پاکستان میں شوٹ کی ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حال ہی میں آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے اور اسکاٹش ڈاکیومینٹری انسٹی ٹیوٹ کے لیے ’مائی مدرز ڈاٹر‘ کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم شوٹ کی جو کہ بین الاقوامی سطح پر مقبول ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/0322533875feb7d.jpg'  alt='  عمر فلم &amp;rsquo;مائی مدرز ڈاٹر&amp;lsquo; کے سنیماٹو گرافر بھی ہیں  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;عمر فلم ’مائی مدرز ڈاٹر‘ کے سنیماٹو گرافر بھی ہیں&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ عرصے سے وہ توہین رسالت کے بارے میں ایک دستاویزی فلم ایڈٹ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں جس چیز پر بھی کام کرتا ہوں، چاہے وہ ڈاکومینٹری ہوں یا فلمیں، میں چاہتا ہوں کہ وہ سب سے متعلق ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اگر ایک شخص بھی میری دستاویزی فلم سے متاثر ہوتا ہے یا اسے اپنے سوال کا جواب مل جاتا ہے تو مجھے یقین ہے کہ میں اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب ہو گیا ہوں۔  اب بھی میں جن پروجیکٹس پر کام کرتا ہوں وہ حقیقی زندگی سے متعلق [مسائل] ہیں، جو نظر انداز ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’میں نے ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ لوگوں کے پیشہ ورانہ یا ذاتی تجربات بغیر کسی ترمیم کے پیش کیے جائیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="افنان-یوسف-اور-ریحان-ظفر-فلم-صفِ-اول" href="#افنان-یوسف-اور-ریحان-ظفر-فلم-صفِ-اول" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;افنان یوسف اور ریحان ظفر— فلم ’صفِ اول‘&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/03221722a4b9b2a.jpg?r=224218'  alt='  ریحان ظفر اور افنان یوسف  ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ریحان ظفر اور افنان یوسف&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021ء میں ڈیرہ اسمٰعیل خان سے تعلق رکھنے والے دو دوستوں، افنان یوسف اور ریحان ظفر نے ’اِٹ ہیپنز اونلی اِن پاکستان‘ مقابلہ جیتا جس کا موضوع ’ہوپ (ہیروز آف پاکستان ایڈیشن)‘ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی فلم ’صف اول‘ ایک ہیلتھ کیئر ورکر محمد اشفاق کی کہانی ہے جو لیب ٹیسٹ کے لیے کورونا کے مشتبہ مریضوں کے نمونے لیتا ہے۔ لیکن اس کی پیشانی پر معمولی سی شکن بھی نہیں پڑتی جبکہ وہ کینسر کا مریض رہ چکا ہے اور اس کا مدافعتی نظام بھی کمزور ہے۔ افنان اور ریحان نے اس تنہا اور غیر یقینی دنیا میں اشفاق کی ہمت اور بے لوثی کی فکر انگیز عکاسی کی جس نے منصفین اور ناظرین دونوں کے دل جیت لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/otbmfhKCaEk?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دونوں تعلیم کے اعتبار سے انجینئر ہیں لیکن فلم سازی کے ان کے شوق نے انہیں اپنا اسٹوڈیو ’کیپچر کریو‘ شروع کرنے پر مجبور کیا جو بنیادی طور پر شادیوں اور کارپوریٹ تقریبات میں کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افنان نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ ’میں ہمیشہ سے فوٹوگرافر بننا چاہتا تھا اور میں نے اسے ایک شوق کے طور پر شروع کیا تھا لیکن آخر کار میں نے سینماٹوگرافی میں بھی دلچسپی لینا شروع کردی کیونکہ میں ہمیشہ سے فلمیں بنانا چاہتا تھا۔۔۔ تو ہاں، آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ بچپن کا خواب تھا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں تک کہ جب افنان تقریبات کو کور کرنے میں مصروف ہوتے تب بھی وہ اس شوق کے لیے وقت نکالتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ’میں ان مختصر فلم کی کہانی لکھتا اور ان پر بحث کرتا جن پر ہم مستقبل میں کام کر سکتے تھے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/medium/2022/12/03231035425344f.jpg'  alt='افنان فلم کی شوٹنگ کے دوران   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;افنان فلم کی شوٹنگ کے دوران&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم سازی کا اتنا ہی جنون ریحان کو بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’میں نے ہمیشہ لوگوں کو کہانیوں کے طور پر دیکھا ہے اور ان کی زندگیوں، جدوجہد اور تجربات کو پڑھنے کی کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اور پھر ہمیشہ اپنے سامعین کو اس طرح محسوس کروانا چاہتا تھا جس طرح میں نے ان کے بارے میں محسوس کیا۔ کہ کس طرح ہر چھوٹا سا ٹکڑا اس پہیلی کو مکمل کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ کیمرے نے مجھے اپنے خواب جینے کی طاقت دی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/03231238f932312.jpg'  alt='صف اول کی شوٹنگ کے مناظر   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;صف اول کی شوٹنگ کے مناظر&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے ان سے یہ مقابلہ جیتنے کے بارے میں دریافت کیا۔ افنان کو تو اس مقابلے نے فلم سازی کو بطور کریئر دیکھنے کی ترغیب دی ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے میرے اعتماد میں اضافہ ہوا اور مجھے فلم سازی کو بطور کریئر اکتیار کرنے کی ترغیب ملی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب انہوں نے اپنی فلم مقابلے کے لیے پیش کی تو وہ جیتنے کی امید نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ’میں جیتنے پر توجہ نہیں دے رہا تھا۔ میں صرف حصہ لینے اور اپنا بہترین کام کرنے پر توجہ مرکوز کر رہا تھا۔ لیکن یہ میرے لیے حیرت انگیز بات تھی جب مجھے معلوم ہوا کہ میں نے پہلا انعام جیتا ہے اور یہ مقابلہ جیتنا واقعی ایک بڑی بات تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’اس کامیابی نے میرے لیے بہت سے دروازے کھول دیے ہیں کیونکہ یہ مقابلہ جیتنے سے میری پروفائل بہتر ہوئی ہے اور اب لوگ میرے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں اور مختلف پروجیکٹس میں تعاون کرنا چاہتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریحان کو اس جیت نے ’اور بھی بہتر [دنیا] کے لیے کام کرتے رہنے‘ کاحوصلہ بخشا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جیتنے کے بعد سے چیزوں میں ’بہت مثبت‘ تبدیلیاں آئی ہیں۔ ’میں نے انعامی رقم ان آلات کو اپ گریڈ کرنے کے لیے استعمال کی جو کافی پرانے ہوچکے تھے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سونی اے 6400 اور کینن 6ڈی کے ساتھ ’صف اول‘ کو شوٹ کیا تھا۔ ریحان کہتے ہیں کہ ’انعامی رقم سے میں نے کینن ایوس آر کیمرہ لے لیا ہے‘۔ اس دوران افنان نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے پوسٹ پروڈکشن سسٹم کو بھی اپ گریڈ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افنان اپنے اسٹوڈیو کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور اسلام آباد میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میوڈا پاکستان میں میڈیا مینیجر بھی ہیں۔ لیکن جب فلمی منصوبوں کی بات آتی ہے تو ان کے پاس کچھ منصوبے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’میرے پاس لائن اپ میں کچھ اسکرپٹس ہیں جن کی شوٹنگ میں جلد شروع کروں گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ’میں نے مقامی برانڈز کے لیے کچھ اشتہارات پر کام کیا ہے اور پھر میں نے ایک مختصر فلم کی جسے میں نے ابھی تک فائنل نہیں کیا۔۔ اس کے علاوہ میں اپنے بائیک  وی بلاگز پر کام کر رہا ہوں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریحان کہتے ہیں کہ انہوں نے صفِ اول جیسی صنف میں ایک سیریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے ’جس میں ہم اپنے معاشرے کے غیر دریافت شدہ کمیونٹیز اور ہیروز کو تلاش کریں گے‘۔ انہوں نے اب تک کے سفر کے بارے میں بتایا کہ ’یہ ایک متاثر کن سفر رہا اور یہ جاننا بہت شاندار رہا کہ ہمارے لوگ کتنے حیرت انگیز ہیں اور ہماری ثقافت کتنی متنوع ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے افنان سے اشفاق کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا کہ ’ہم رابطے ہیں اور بہت اچھے دوست ہیں، ہم ہر کچھ دن بعد چائے پر ضرور ملتے ہیں اور تبادلہ خیال کرتے ہیں‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریحان نے بتایا کہ وہ بھی اشفاق سے رابطے میں ہیں ’ماشا اللہ وہ بہت خوش ہوئے تھے جب انہیں وہ پذیرائی  ملی جس کے وہ حق دار تھے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;اس مقابلے کے 5 سال مکمل ہونے پر ڈان ڈاٹ کام اور ڈی ڈبلیو 11 دسمبر کو ایک ڈاکومنٹری فلم فیسٹیول اور ایوارڈ شو کا اہتمام کررہے ہیں۔ اس پروگرام میں پینل ڈسکشن کے لیے فلم ساز سرمد کھوسٹ، ایک انٹرایکٹو سیشن کے لیے پتنگیر، لائیو پرفارمنس کے لیے میوزک بیڈ خماریاں اور دیگر کئی سرپرائز بھی آپ کے منتظر ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://instagram.com/p/ClnXcrTsY1Y/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=50304280-bfd5-4c77-8249-de052ac0ab6a" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://instagram.com/p/ClnXcrTsY1Y/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=50304280-bfd5-4c77-8249-de052ac0ab6a" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://instagram.com/p/ClnXcrTsY1Y/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=50304280-bfd5-4c77-8249-de052ac0ab6a" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقابلے کے فاتحین کا اعلان بھی اسی پروگرام میں کیا جائے گا۔ مذکورہ پروگرام کے ٹکٹ &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://ticketwala.pk/event/it-happens-only-in-pakistan-film-festival"&gt;ٹکٹ والا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پر دستیاب ہیں۔ دی کامنز کراچی کی جانب سے یہ پروگرام ڈسٹرکٹ 19 میں دن 3 بجے سے رات 10 بجے تک جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آنجہانی جاپانی مصنف اکیرا کروساوا نے کہا تھا کہ ’کسی تخلیق کار کا سب سے بہترین تعارف اس کا تخلیق کردہ کام ہوتا ہے‘۔ یہی بات ’اِٹ ہیپنز اونلی اِن پاکستان‘ پر بھی صادق آتی ہے۔ یہ ڈان ڈاٹ کام اور ڈوئچے ویلے کے اشتراک سے ہونے والا مختصر فلموں کا مقابلہ ہے۔</p>
<p>’واہی‘، ’سیون ورٹیکل مائیلز، ’ان باؤنڈ بریتھ‘ اور ’صفِ اول‘ اس مقابلے میں گزشتہ 4 برس میں بہترین قرار پانے والی فلمیں ہیں، یہ فلمیں ہمیں ان پاکستانیوں کی زندگیوں میں جھانکنے کا موقع فراہم کرتی ہیں جنہیں عام طور پر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ یہ وہ ہیروز ہیں جو ہسپتال کی راہداریوں سے لے کر پنجاب کے کھیتوں تک اور بلوچستان کی تاریک کانوں تک موجود ہیں۔</p>
<p>یہ کہانیاں جتنی بہترین اتنے ہی بہترین انہیں فلمانے والے بھی ہیں، چاہے اس کی وجہ ان کی محنت ہو، بے آواز لوگوں کی آواز بننے کا عزم ہو یا بچپن کا شوق  پورا کرنے کا منفرد انداز۔</p>
<p>رواں سال اس مقابلے کے 5 سال مکمل ہورہے ہیں اور اس حوالے سے ہم نے گزشتہ مقابلوں کے فاتحین سے بات کی اور یہ جانا کہ وہ اب کن منصوبوں پر کام کررہے ہیں۔</p>
<h3><a id="ارسلان-ماجد-فلم-واہی" href="#ارسلان-ماجد-فلم-واہی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ارسلان ماجد— فلم ’واہی‘</h3>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/01151557820b180.png'  alt='  ارسلان ماجد  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ارسلان ماجد</figcaption>
    </figure></p>
<p>ارسلان مجید نے حارث سہگل اور غلام عباس کے ساتھ مل کر فلم <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=OPBoyX7FgjU">’واہی‘</a></strong> تیار کی تھی۔ یہ فلم اقبال نامی خاتون کسان کی کہانی ہے جو پاکستان کے پدرشاہی معاشرے کے دقیانوسی تصورات کو ختم کررہی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/01152017338dffb.png?r=152049'  alt='  فلم کی شوٹنگ کے دوران  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فلم کی شوٹنگ کے دوران</figcaption>
    </figure></p>
<p>ارسلان کی پرو ڈکشن کمپنی اے ڈبلیو بی کے لیے پہلا انعام جیتنا ایک گیم چینجر تھا۔ انہوں نے ڈان کو بتایا کہ ’مقابلہ جیتنے سے پہلے ہم صرف فلم کے شوقین لوگوں کا ایک گروپ تھے جو ایک بنیادی سا ڈی ایس ایل آر کیمرا لیے گھومتے تھے۔ ہم فیچر فلموں پر کام کرنا چاہتے تھے لیکن یہ نہیں جانتے تھے کہ آغاز کیسے اور کہاں سے کیا جائے‘۔</p>
<p>لیکن ارسلان جوکہ بچپن سے ہی فلم ساز بننا چاہتے تھے، نے ہمت کرکے اس مقابلے کے لیے اپنی فلم داخل کردی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/OPBoyX7FgjU?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پیناسونک جی ایچ 45 اور ڈی جے آئی میوک پرو سے پنجاب کے دیہی علاقے میں فلمائی گئی یہ فلم اپنے بچوں اور اپنی فصل کے لیے ایک خاتون کی کوششوں اور محنت کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>ارسلان نے ہمیں بتایا کہ ’ہمیں یہ مقابلہ جیتنے کے بعد دنیا بھر سے جو پیار اور عزت ملی اس نے ہمارے لیے مزید کئی دروازے کھول دیے‘۔</p>
<p>فلم واہی دنیا بھر  کے دیگر فلم فیسٹیول کے لیے بھی منظور ہوئی جن میں 2019ء میں پام اسپرنگز میں ہونے والا امریکن ڈاکومینٹری فلم فیسٹیول بھی شامل ہے۔ اسی سال اس فلم نے ممبئی میں فریمز فلم فیسٹیول میں بھی پہلا انعام حاصل کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/01151810318a9ea.jpg'  alt='  فلم کا پوسٹر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فلم کا پوسٹر</figcaption>
    </figure></p>
<p>ارسلان اور ان کی ٹیم کی پاکستان میں بھی پذیرائی ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس پذیرائی کے نتیجے میں ہمیں کئی منصوبے ملے اور ہم نے ملک بھر میں کئی صارفین کے لیے ڈاکومینٹری اور اشتہار تیار کیے‘۔ ان کے صارفین میں <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=YpnCZIKp_dc">آغا خان یونیورسٹی</a></strong> اور <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.youtube.com/watch?v=Dbm3e-MhBYE">ایس آئی یو ٹی</a></strong> جیسے ادارے بھی شامل ہیں۔</p>
<p>انہیں’ آزاد’ فلمز کے روح رواں جامی کے ساتھ کام کرنے کا بھی موقع ملا۔ ارسلان انہیں ’پاکستان کے بہترین فلم سازوں میں سے ایک‘ قرار دیتے ہیں۔ جامی اٹ ہیپنز اونلی ان پاکستان کے ججز میں بھی شامل تھے۔ ارسلان کے مطابق ’یہ سب کچھ کبھی ممکن نہ ہوتا اگر ڈان اور ڈی ڈبلیو ہمیں اپنا کام پیش کرنے کا موقع نہ دیتے‘۔</p>
<p>ارسلان اس فلم کے بارے بہت پُرجوش انداز میں بتا رہے تھے کہ کیسے انہیں دشوار گزار راستوں اور سخت موسم کا سامنا کرنا پڑا اور اسی سے فلم سازی کے حوالے سے ان کا جنون ظاہر ہورہا تھا۔</p>
<p>گزشتہ دو  سال سے وہ اپنی پہلی طویل دورانیے کی فیچر فلم ’بییونڈ دی ویٹ لینڈز‘ کی شوٹنگ کررہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ پاکستان کی کوہ پیما برادری پر بننے والی پہلی پاکستانی فلم ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/01152029c88f4c3.jpg?r=152049'  alt='  ارسلان کی دوسری فلم کا پوسٹر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ارسلان کی دوسری فلم کا پوسٹر</figcaption>
    </figure></p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے کے ٹو کے علاقے میں شوٹنگ کی ہے جہاں درجہ حرارت منفی 30 ڈگری تھا۔۔۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ کسی فلم کریو نے کے 2 کے قریب ایک مکمل فلم شوٹ کی ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہماری کاسٹ میں حقیقی کوہ پیما شامل ہیں جو پاکستانی کی بلند ترین چوٹیاں سر کرچکے ہیں‘۔ اس فلم کی پوسٹ پروڈکشن تقریباً مکمل ہوچکی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/jsqDJ6M9EeY?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اگرچہ ابھی ان کی یہ فلم مکمل نہیں ہوئی ہے لیکن ارسلان اور ان کی ٹیم نے اپنے اگلے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے جوکہ ایک سائنس فکشن فلم ہے۔ اس بارے میں ارسلان نے کہا کہ ’اس وقت میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اس کا موضوع خلائی سفر ہوگا اور اس میں اس دنیا سے باہر کی زندگی کی کھوج ہوگی‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/01152031902ccd4.jpg?r=152049'  alt='  فلم کی شوٹنگ کے مقام پر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فلم کی شوٹنگ کے مقام پر</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہم نے ارسلان سے اقبال مائی کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ ’ہم وقتاً فوقتاً ان کی خیریت دریافت کرتے رہتے ہیں۔ واہی کی ریلیز کے بعد وہ اپنے گاؤں کی مشہور شخصیت بن گئی ہیں جو اپنا وقت کھیتی باڑی اور خواتین کو با اختیار بنانے میں گزارتی ہیں اور انہیں گندم کی فصل کے بارے آگاہی دیتی ہیں‘۔</p>
<hr />
<h3><a id="علی-حیدر-فلم-سیون-ورٹیکل-مائیل" href="#علی-حیدر-فلم-سیون-ورٹیکل-مائیل" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>علی حیدر— فلم ’سیون ورٹیکل مائیل‘</h3>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/01165711cad6c77.jpg?r=165801'  alt=' علی حیدر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>علی حیدر</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہمارے دوسرے مقابلے کا موضوع ’اوَر ڈائیورس پاکستان‘ تھا جس کی بنیاد پاکستان کا ثقافتی تنوع تھا۔ اس سال مقابلے کی فاتح علی حیدر کی فلم ’سیون ورٹیکل مائیل‘ تھی۔ یہ فلم بلوچستان میں کوئلے کی کان کنی کے خطرناک کام سے وابستہ ہزارہ برادری کے افراد کی کہانی ہے۔ ان افراد کو صرف زمین کے ہزاروں فٹ نیچے کام کرنے کا خطرہ درپیش نہیں ہوتا بلکہ یہ دہشت گردوں کے نشانے پر بھی رہتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/011657374276446.jpg?r=165801'  alt='  فلم کی شوٹنگ کا منظر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فلم کی شوٹنگ کا منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس فلم میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والا آغا ایواز اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ ’جب ہم گھر سے نکلتے تھے تو اپنے گھر والوں کو اس طرح الوداع کہتے تھے جیسے ہم ان سے آخری مرتبہ مل رہے ہوں‘۔ یہ بات وہ دل چھو لینے والے انداز میں کرتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/no5DyfnPg0Y?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس فلم کا موضوع علی حیدر کے دل سے بہت قریب ہے۔ وہ خود بھی ہزارہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور اس وجہ سے فلم سازی کی جانب آئے کیونکہ وہ اپنی برادری کو درپیش مصائب دنیا کے سامنے لاسکیں۔ انہوں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور 2010ء میں کوئٹہ میں ہونے والے بم دھماکے میں وہ زخمی ہوئے تھے۔ انہوں ڈان کو بتایا کہ ’میں شدید زخمی ہوا تھا۔۔۔ میں نے اس دھماکے میں اپنے والد اور کزن کو کھودیا تھا‘۔</p>
<p>لیکن وہ جتنے پرعزم ہیں اتنے ہی مضبوط بھی ہیں۔ انہوں نے مقابلے کے بارے میں بات کرنے سے قبل ہمیں بتایا کہ ’اپنی برادری کی آواز کو عالمی سطح تک پہنچانا میرے لیے اہم ہے‘۔ مقابلے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’اس نے میری زندگی بدل دی‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/0116575303352a2.jpg?r=165801'  alt='  علی حیدر فلم کی شوٹنگ کرتے ہوئے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>علی حیدر فلم کی شوٹنگ کرتے ہوئے</figcaption>
    </figure></p>
<p>’یہ میری پہلی مختصر فلم تھی اور ملکی سطح پر انعام حاصل کرنا میرے لیے بہت اہم تھا۔ یہ فیسٹیول بہت دلچسپ اور میرے لیے بہت حوصلہ افزا تھا‘۔</p>
<p>حیدر علی نے بتایا کہ یہ مقابلہ جیتنے کے بعد انہیں اپنی وڈیوز پر آنے والے تبصروں سے مزید حوصلہ ملا۔ ان کے مطابق ’ناظرین کی طرف سے زبردست مثبت ردعمل ملا۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈان نے میری فلم کو اپنا پلیٹ فارم دیا جس کی وجہ سے بہت سارے لوگوں نے اسے سوشل میڈیا پر دیکھا۔ میں ویڈیو کے نیچے تبصرے پڑھتا تھا جو بہت حوصلہ افزا تھے‘۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس جیت کی وجہ سے ملک بھر کے دیگر فلم ساز بھی ان کے رابطے میں آئے جن میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے فلم ساز بھی شامل ہیں۔ لیکن ایک چیز جو انہیں سب سے زیادہ یاد رہتی ہے وہ <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1599441">جنوری 2021ء</a></strong> میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے کان کنوں کے قتل کے بعد اس فلم پر آنے والا ردعمل تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/011657185368846.jpg?r=165801'  alt='  علی حیدر ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>علی حیدر ایوارڈ حاصل کرتے ہوئے</figcaption>
    </figure></p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ’اس واقعے کے بعد بہت سے لوگوں نے میری فلم کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کر دیا اور مجھ سے رابطہ کرکے کہا کہ انہیں اس سے پہلے ان حالات کا احساس نہیں تھا جن میں یہ کان کن کام کرتے ہیں‘۔</p>
<p>علی اس مقابلے کے بعد سے مصروف ہی رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ میں نے حال ہی میں ہندوستانی اور پاکستانی فلم سازوں کے ایک منصوبے <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.seedsofpeace.org/wp-content/uploads/2022/08/All-Films.jpg">’سیڈز آف پیس‘</a></strong> پر کام کیا ہے جس کی فنڈنگ کراچی میں امریکی قونصلیٹ جنرل نے کی تھی’۔</p>
<p>ان کی ایک ڈاکومینٹری <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://youtu.be/F7Vf_4RNqLc">’اسمال ٹائم سینما‘</a></strong> رواں سال اورلینڈو فلم فیسٹیول کے لیے منتخب ہوئی اور اس نے 2 نامزدگیاں حاصل کیں۔ گزشتہ ماہ ہی وہ اس فیسٹیول میں شرکت کے لیے اورلینڈو، فلوریڈا  گئے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/011657286d12d18.jpg?r=165801'  alt='  علی حیدر اورلینڈو فلم فیسٹیول میں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>علی حیدر اورلینڈو فلم فیسٹیول میں</figcaption>
    </figure></p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ’یہی نہیں بلکہ میں ایک ایرانی ہدایت کار کی فیچر لینتھ ڈاکومینٹری کے سنیماٹوگرافر کے طورپر بھی کام کررہا ہوں‘۔ حیدر علی ایک تجرباتی مختصر فلم پر بھی کام کررہے ہیں۔</p>
<p>علی نے ایک انتہائی ذاتی منصوبے کے بارے میں بتایا کہ ’میں اپنی پہلی فیچر ڈاکومینٹری پر بھی کام کررہا ہوں جو میری ذاتی کہانی پر مبنی ہے‘۔</p>
<hr />
<h3><a id="عمر-نفیس--فلم-اَن-باؤنڈ-بریتھ" href="#عمر-نفیس--فلم-اَن-باؤنڈ-بریتھ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>عمر نفیس — فلم ’اَن باؤنڈ بریتھ‘</h3>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/03220648dc8bc80.jpg'  alt='  عمر نفیس  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>عمر نفیس</figcaption>
    </figure></p>
<p>2020ء وہ سال تھا جب دنیا کورونا وائرس کی لپیٹ میں تھی اور سماجی فاصلے کی پابندی رشتے داروں اور دوستوں کو ایک دوسرے سے دور کررہی تھی۔ کورونا وائرس کے حوالے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات ہی اُس سال مقابلے کے موضوع ’کریٹو ڈسٹینسنگ‘ کی بنیاد بنے۔</p>
<p>اس سال عمر نفیس کی فلم  ’ان باؤنڈ بریتھ‘نے پہلا انعام حاصل کیا۔ اس وقت لوگ جو کچھ محسوس کررہے تھے اس کا اظہار ایک کورونا وارڈ میں کام کرنے والی ڈاکٹر آمنہ بتول کی کہانی میں ہوتا ہے جو خود دمے کی مریض ہونے کے باوجود معاشرتی توقعات کو اپنے کیریئر کے انتخاب کے آڑے نہیں آنے دیتیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/-gv2rdu7ItQ?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈاکٹر آمنہ کی استقامت ایک طرح عمر نفیس کی کہانی بھی ہے جنہوں نے تیسری مرتبہ میں ’اٹ ہیپنز اونلی ان پاکستان‘ کا مقابلہ جیتا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ’پہلی مرتبہ  مجھے خصوصی انعام ملا، دوسری مرتبہ میں فائنلسٹ رہا اور تیسری مرتبہ میں جیت گیا‘۔</p>
<p>عمر نفیس لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس سے فلم اور ٹیلی ویژن گریجویٹ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ’یہ انعام جیتنے سے قبل میں اپنی فلمیں بس اپنے دوستوں کو دکھاتا تھا اور انہیں ایک ہارڈ ڈرائیو میں محفوظ کرلیتا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/0322075606362e0.jpg'  alt=' عمر نفیس فلم کی شوٹنگ کے دوران  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>عمر نفیس فلم کی شوٹنگ کے دوران</figcaption>
    </figure></p>
<p>’انعام جیتنے کے بعد، بہت سے ڈاکٹروں نے مجھ سے رابطہ کیا اور فلم کی تعریف کی جو بہت حوصلہ افزا تھا [اور اس بات کا ثبوت تھا کہ] میری آواز سنی جا رہی تھی‘۔</p>
<p>وہ یہ جان کر بہت خوش ہوئے کہ لوگ خود کو اس فلم سے جوڑ رہے ہیں۔ ’ڈاکٹروں نے کہا کہ یہ ان کی کہانی تھی اور فلم میں ان مسائل پر بات کی گئی جن کا انہیں سامنا تھا اور انہوں نے ایسا کچھ نہیں دیکھا تھا۔ یہ حقیقت کہ میں اپنے کام کے ذریعے لوگوں سے جڑ رہا تھا، بہت حوصلہ افزا تھی‘۔</p>
<p>عمر بچپن سے ہی پڑھنے کے شوقین تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے واقعی بہت فلمیں نہیں دیکھی تھیں اور اس کے بجائے عمرو عیار اور الہ دین کی کہانیوں اور نونہال اور تعلیم و تربیت جیسے ڈائجسٹوں میں غرق رہتے تھے جس نے واقعی چیزوں کا تصور کرنے اور دیکھنے کی ان کی صلاحیت کو تقویت بخشی۔ پھر انہی صلاحیتوں کو انہوں نے اپنی فلم میں استعمال کیا جسے انہوں نے نیکون زیڈ 6 کیمرے پر شوٹ کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/03225208cedd28b.jpg'  alt='  فلم کی شوٹنگ کا منظر  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فلم کی شوٹنگ کا منظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>عمر اب بہت مصروف رہتے ہیں، وہ اس وقت جرمنی کی یونیورسٹی آف منسٹر میں ویژول انتھروپولوجی میں ماسٹرز کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’میں ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک ڈاکومینٹری سیریز ’ہَر‘ کے لیے بھی کام کررہا ہوں۔ یہ سیریز ایشیا میں تبدیلی کے لیے کام کرنے والی ایشیائی خواتین کے بارے میں ہے۔۔۔ میں اس کے لیے 6 اقساط پاکستان میں شوٹ کی ہیں‘۔</p>
<p>انہوں نے حال ہی میں آسکر ایوارڈ یافتہ شرمین عبید چنائے اور اسکاٹش ڈاکیومینٹری انسٹی ٹیوٹ کے لیے ’مائی مدرز ڈاٹر‘ کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم شوٹ کی جو کہ بین الاقوامی سطح پر مقبول ہوئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/0322533875feb7d.jpg'  alt='  عمر فلم &rsquo;مائی مدرز ڈاٹر&lsquo; کے سنیماٹو گرافر بھی ہیں  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>عمر فلم ’مائی مدرز ڈاٹر‘ کے سنیماٹو گرافر بھی ہیں</figcaption>
    </figure></p>
<p>کچھ عرصے سے وہ توہین رسالت کے بارے میں ایک دستاویزی فلم ایڈٹ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں جس چیز پر بھی کام کرتا ہوں، چاہے وہ ڈاکومینٹری ہوں یا فلمیں، میں چاہتا ہوں کہ وہ سب سے متعلق ہوں۔</p>
<p>’اگر ایک شخص بھی میری دستاویزی فلم سے متاثر ہوتا ہے یا اسے اپنے سوال کا جواب مل جاتا ہے تو مجھے یقین ہے کہ میں اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب ہو گیا ہوں۔  اب بھی میں جن پروجیکٹس پر کام کرتا ہوں وہ حقیقی زندگی سے متعلق [مسائل] ہیں، جو نظر انداز ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>’میں نے ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ لوگوں کے پیشہ ورانہ یا ذاتی تجربات بغیر کسی ترمیم کے پیش کیے جائیں‘۔</p>
<hr />
<h3><a id="افنان-یوسف-اور-ریحان-ظفر-فلم-صفِ-اول" href="#افنان-یوسف-اور-ریحان-ظفر-فلم-صفِ-اول" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>افنان یوسف اور ریحان ظفر— فلم ’صفِ اول‘</h3>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2022/12/03221722a4b9b2a.jpg?r=224218'  alt='  ریحان ظفر اور افنان یوسف  ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ریحان ظفر اور افنان یوسف</figcaption>
    </figure></p>
<p>2021ء میں ڈیرہ اسمٰعیل خان سے تعلق رکھنے والے دو دوستوں، افنان یوسف اور ریحان ظفر نے ’اِٹ ہیپنز اونلی اِن پاکستان‘ مقابلہ جیتا جس کا موضوع ’ہوپ (ہیروز آف پاکستان ایڈیشن)‘ تھا۔</p>
<p>ان کی فلم ’صف اول‘ ایک ہیلتھ کیئر ورکر محمد اشفاق کی کہانی ہے جو لیب ٹیسٹ کے لیے کورونا کے مشتبہ مریضوں کے نمونے لیتا ہے۔ لیکن اس کی پیشانی پر معمولی سی شکن بھی نہیں پڑتی جبکہ وہ کینسر کا مریض رہ چکا ہے اور اس کا مدافعتی نظام بھی کمزور ہے۔ افنان اور ریحان نے اس تنہا اور غیر یقینی دنیا میں اشفاق کی ہمت اور بے لوثی کی فکر انگیز عکاسی کی جس نے منصفین اور ناظرین دونوں کے دل جیت لیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/otbmfhKCaEk?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ دونوں تعلیم کے اعتبار سے انجینئر ہیں لیکن فلم سازی کے ان کے شوق نے انہیں اپنا اسٹوڈیو ’کیپچر کریو‘ شروع کرنے پر مجبور کیا جو بنیادی طور پر شادیوں اور کارپوریٹ تقریبات میں کام کرتا ہے۔</p>
<p>افنان نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ ’میں ہمیشہ سے فوٹوگرافر بننا چاہتا تھا اور میں نے اسے ایک شوق کے طور پر شروع کیا تھا لیکن آخر کار میں نے سینماٹوگرافی میں بھی دلچسپی لینا شروع کردی کیونکہ میں ہمیشہ سے فلمیں بنانا چاہتا تھا۔۔۔ تو ہاں، آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ بچپن کا خواب تھا‘۔</p>
<p>یہاں تک کہ جب افنان تقریبات کو کور کرنے میں مصروف ہوتے تب بھی وہ اس شوق کے لیے وقت نکالتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ’میں ان مختصر فلم کی کہانی لکھتا اور ان پر بحث کرتا جن پر ہم مستقبل میں کام کر سکتے تھے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/medium/2022/12/03231035425344f.jpg'  alt='افنان فلم کی شوٹنگ کے دوران   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>افنان فلم کی شوٹنگ کے دوران</figcaption>
    </figure></p>
<p>فلم سازی کا اتنا ہی جنون ریحان کو بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’میں نے ہمیشہ لوگوں کو کہانیوں کے طور پر دیکھا ہے اور ان کی زندگیوں، جدوجہد اور تجربات کو پڑھنے کی کوشش کی ہے۔</p>
<p>’اور پھر ہمیشہ اپنے سامعین کو اس طرح محسوس کروانا چاہتا تھا جس طرح میں نے ان کے بارے میں محسوس کیا۔ کہ کس طرح ہر چھوٹا سا ٹکڑا اس پہیلی کو مکمل کرنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ کیمرے نے مجھے اپنے خواب جینے کی طاقت دی ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/03231238f932312.jpg'  alt='صف اول کی شوٹنگ کے مناظر   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>صف اول کی شوٹنگ کے مناظر</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہم نے ان سے یہ مقابلہ جیتنے کے بارے میں دریافت کیا۔ افنان کو تو اس مقابلے نے فلم سازی کو بطور کریئر دیکھنے کی ترغیب دی ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے میرے اعتماد میں اضافہ ہوا اور مجھے فلم سازی کو بطور کریئر اکتیار کرنے کی ترغیب ملی‘۔</p>
<p>جب انہوں نے اپنی فلم مقابلے کے لیے پیش کی تو وہ جیتنے کی امید نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ’میں جیتنے پر توجہ نہیں دے رہا تھا۔ میں صرف حصہ لینے اور اپنا بہترین کام کرنے پر توجہ مرکوز کر رہا تھا۔ لیکن یہ میرے لیے حیرت انگیز بات تھی جب مجھے معلوم ہوا کہ میں نے پہلا انعام جیتا ہے اور یہ مقابلہ جیتنا واقعی ایک بڑی بات تھی۔</p>
<p>’اس کامیابی نے میرے لیے بہت سے دروازے کھول دیے ہیں کیونکہ یہ مقابلہ جیتنے سے میری پروفائل بہتر ہوئی ہے اور اب لوگ میرے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں اور مختلف پروجیکٹس میں تعاون کرنا چاہتے ہیں‘۔</p>
<p>ریحان کو اس جیت نے ’اور بھی بہتر [دنیا] کے لیے کام کرتے رہنے‘ کاحوصلہ بخشا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جیتنے کے بعد سے چیزوں میں ’بہت مثبت‘ تبدیلیاں آئی ہیں۔ ’میں نے انعامی رقم ان آلات کو اپ گریڈ کرنے کے لیے استعمال کی جو کافی پرانے ہوچکے تھے‘۔</p>
<p>انہوں نے سونی اے 6400 اور کینن 6ڈی کے ساتھ ’صف اول‘ کو شوٹ کیا تھا۔ ریحان کہتے ہیں کہ ’انعامی رقم سے میں نے کینن ایوس آر کیمرہ لے لیا ہے‘۔ اس دوران افنان نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے پوسٹ پروڈکشن سسٹم کو بھی اپ گریڈ کیا ہے۔</p>
<p>افنان اپنے اسٹوڈیو کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور اسلام آباد میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میوڈا پاکستان میں میڈیا مینیجر بھی ہیں۔ لیکن جب فلمی منصوبوں کی بات آتی ہے تو ان کے پاس کچھ منصوبے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’میرے پاس لائن اپ میں کچھ اسکرپٹس ہیں جن کی شوٹنگ میں جلد شروع کروں گا‘۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ’میں نے مقامی برانڈز کے لیے کچھ اشتہارات پر کام کیا ہے اور پھر میں نے ایک مختصر فلم کی جسے میں نے ابھی تک فائنل نہیں کیا۔۔ اس کے علاوہ میں اپنے بائیک  وی بلاگز پر کام کر رہا ہوں‘۔</p>
<p>ریحان کہتے ہیں کہ انہوں نے صفِ اول جیسی صنف میں ایک سیریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے ’جس میں ہم اپنے معاشرے کے غیر دریافت شدہ کمیونٹیز اور ہیروز کو تلاش کریں گے‘۔ انہوں نے اب تک کے سفر کے بارے میں بتایا کہ ’یہ ایک متاثر کن سفر رہا اور یہ جاننا بہت شاندار رہا کہ ہمارے لوگ کتنے حیرت انگیز ہیں اور ہماری ثقافت کتنی متنوع ہے‘۔</p>
<p>ہم نے افنان سے اشفاق کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا کہ ’ہم رابطے ہیں اور بہت اچھے دوست ہیں، ہم ہر کچھ دن بعد چائے پر ضرور ملتے ہیں اور تبادلہ خیال کرتے ہیں‘</p>
<p>ریحان نے بتایا کہ وہ بھی اشفاق سے رابطے میں ہیں ’ماشا اللہ وہ بہت خوش ہوئے تھے جب انہیں وہ پذیرائی  ملی جس کے وہ حق دار تھے‘۔</p>
<hr />
<p>اس مقابلے کے 5 سال مکمل ہونے پر ڈان ڈاٹ کام اور ڈی ڈبلیو 11 دسمبر کو ایک ڈاکومنٹری فلم فیسٹیول اور ایوارڈ شو کا اہتمام کررہے ہیں۔ اس پروگرام میں پینل ڈسکشن کے لیے فلم ساز سرمد کھوسٹ، ایک انٹرایکٹو سیشن کے لیے پتنگیر، لائیو پرفارمنس کے لیے میوزک بیڈ خماریاں اور دیگر کئی سرپرائز بھی آپ کے منتظر ہوں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://instagram.com/p/ClnXcrTsY1Y/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=50304280-bfd5-4c77-8249-de052ac0ab6a" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://instagram.com/p/ClnXcrTsY1Y/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=50304280-bfd5-4c77-8249-de052ac0ab6a" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://instagram.com/p/ClnXcrTsY1Y/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=50304280-bfd5-4c77-8249-de052ac0ab6a" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
<p>اس مقابلے کے فاتحین کا اعلان بھی اسی پروگرام میں کیا جائے گا۔ مذکورہ پروگرام کے ٹکٹ <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://ticketwala.pk/event/it-happens-only-in-pakistan-film-festival">ٹکٹ والا</a></strong> پر دستیاب ہیں۔ دی کامنز کراچی کی جانب سے یہ پروگرام ڈسٹرکٹ 19 میں دن 3 بجے سے رات 10 بجے تک جاری رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1193396</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Dec 2022 11:23:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان نیوز)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/0809175777e3ace.jpg?r=091803" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/0809175777e3ace.jpg?r=091803"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/080914387943398.jpg?r=091803" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="2376">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/080914387943398.jpg?r=091803"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
