<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 23:23:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 23:23:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اقتدار سنبھالنے کے بعد افغان طالبان کی جانب سے پہلی بار سرِعام سزائے موت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1193415/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغان طالبان نے تصدیق کی ہے کہ ایک افغان شہری کو قتل کا جرم ثابت ہونے کے بعد سرعام سزائے موت دے دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1725149/afghan-taliban-carry-out-first-public-execution-since-takeover"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق گزشتہ برس اگست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ طالبان کی جانب سے دی جانے والی پہلی سزائے موت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ججوں کو حکم دیا تھا کہ وہ شرعی قوانین کو مکمل طور پر نافذ کریں جن میں سرعام پھانسی، سنگسار، کوڑے مارنا اور چوروں کے ہاتھ کاٹنا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1181729"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد سے کئی مجرمان کو سرعام کوڑے مارے جاچکے ہیں لیکن گزشتہ روز صوبہ فرح کے دارالحکومت میں سرعام دی جانے والی یہ پہلی سزائے موت ہے جس کا طالبان نے اعتراف کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ جیسے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ شہریوں کے سامنے عوامی سطح پر قصاص جیسے حکم کا اطلاق کریں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Zabehulah_M33/status/1600438257640087552"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کی جانب سے جاری بیان میں سزائے موت پانے والے شخص کا نام تاج میر ولد غلام سرور بتایا گیا ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ صوبہ ہرات کے ضلع انجیل کا رہائشی تھا، اس پر ایک شخص کو قتل اور اس کی موٹر سائیکل اور موبائل فون چوری کرنے کا الزام تھا، متوفی کے ورثا نے اسے پہچان لیا تھا اور اس نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹوئٹ میں واضح کیا کہ مجرم کو سزائے موت مقتول کے والد نے دی جنہوں نے اس شخص کو 3 گولیاں ماریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Zabehulah_M33/status/1600484237102153737"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ افغانستان میں اپنے گزشتہ دورِ اقتدار کے دوران طالبان کی جانب سے باقاعدہ طور پر عوامی سطح پر سزائیں دی جاتی تھیں، کابل کے نیشنل اسٹیڈیم میں کوڑے اور پھانسیاں بھی دی جاتی تھیں جہاں مقامی شہریوں کی شرکت کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بار افغان طالبان کی جانب سے معتدل طرز حکمرانی کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن افغان عوام کی زندگیوں پر تیزی سے سخت پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ سپریم لیڈر کی جانب سے گزشتہ روز دی جانے والی سرعام سزائے موت کے حکم سے قبل متعدد عدالتوں نے اس کیس کی اچھی طرح سے جانچ پڑتال کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’اس معاملے کی بہت مؤثر طریقے سے جانچ کی گئی جس کے بعد بالآخر قاتل پر شرعی قانون لاگو کرنے کا حکم دیا گیا۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغان طالبان نے تصدیق کی ہے کہ ایک افغان شہری کو قتل کا جرم ثابت ہونے کے بعد سرعام سزائے موت دے دی گئی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1725149/afghan-taliban-carry-out-first-public-execution-since-takeover"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق گزشتہ برس اگست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ طالبان کی جانب سے دی جانے والی پہلی سزائے موت ہے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ججوں کو حکم دیا تھا کہ وہ شرعی قوانین کو مکمل طور پر نافذ کریں جن میں سرعام پھانسی، سنگسار، کوڑے مارنا اور چوروں کے ہاتھ کاٹنا شامل ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1181729"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے بعد سے کئی مجرمان کو سرعام کوڑے مارے جاچکے ہیں لیکن گزشتہ روز صوبہ فرح کے دارالحکومت میں سرعام دی جانے والی یہ پہلی سزائے موت ہے جس کا طالبان نے اعتراف کیا ہے۔</p>
<p>ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ جیسے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ شہریوں کے سامنے عوامی سطح پر قصاص جیسے حکم کا اطلاق کریں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Zabehulah_M33/status/1600438257640087552"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>حکام کی جانب سے جاری بیان میں سزائے موت پانے والے شخص کا نام تاج میر ولد غلام سرور بتایا گیا ہے جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ صوبہ ہرات کے ضلع انجیل کا رہائشی تھا، اس پر ایک شخص کو قتل اور اس کی موٹر سائیکل اور موبائل فون چوری کرنے کا الزام تھا، متوفی کے ورثا نے اسے پہچان لیا تھا اور اس نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا تھا۔</p>
<p>ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹوئٹ میں واضح کیا کہ مجرم کو سزائے موت مقتول کے والد نے دی جنہوں نے اس شخص کو 3 گولیاں ماریں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Zabehulah_M33/status/1600484237102153737"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ افغانستان میں اپنے گزشتہ دورِ اقتدار کے دوران طالبان کی جانب سے باقاعدہ طور پر عوامی سطح پر سزائیں دی جاتی تھیں، کابل کے نیشنل اسٹیڈیم میں کوڑے اور پھانسیاں بھی دی جاتی تھیں جہاں مقامی شہریوں کی شرکت کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی تھی۔</p>
<p>اس بار افغان طالبان کی جانب سے معتدل طرز حکمرانی کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن افغان عوام کی زندگیوں پر تیزی سے سخت پابندیاں عائد کردی گئی ہیں۔</p>
<p>ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ سپریم لیڈر کی جانب سے گزشتہ روز دی جانے والی سرعام سزائے موت کے حکم سے قبل متعدد عدالتوں نے اس کیس کی اچھی طرح سے جانچ پڑتال کی تھی۔</p>
<p>انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’اس معاملے کی بہت مؤثر طریقے سے جانچ کی گئی جس کے بعد بالآخر قاتل پر شرعی قانون لاگو کرنے کا حکم دیا گیا۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1193415</guid>
      <pubDate>Thu, 08 Dec 2022 17:55:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/08130848ab58c3a.jpg?r=175611" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/08130848ab58c3a.jpg?r=175611"/>
        <media:title>حکام کی جانب سے جاری بیان میں سزائے موت پانے والے شخص کا نام تاج میر ولد غلام سرور بتایا گیا — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
