<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 15:55:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 15:55:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹوئٹر کے مقابلے میں فیس بک کی ایپ یا فیچر متعارف کیے جانے کا امکان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1193437/</link>
      <description>&lt;p&gt;خبریں ہیں کہ فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی مالک کمپنی ’میٹا‘ جلد ہی ٹوئٹر کے مقابلے میں ایپلی کیشن یا پھر اس جیسے فیچرز کو اپنی پرانی ویب سائٹس میں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اخبار &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nytimes.com/2022/12/07/technology/twitter-rivals-alternative-platforms.html"&gt;&lt;strong&gt;’نیو یارک ٹائمز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق حال ہی میں ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر کا انتظام سنبھالے جانے اور پلیٹ فارم کے مشکل میں پھنسنے کے بعد فیس بک کے اعلیٰ عہدیداروں نے ایک اجلاس کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ اجلاس میں ٹوئٹر کے ٹکر کی ایپلی کیشن یا پھر اس سے ملتے جلتے فیچرز کو انسٹاگرام یا فیس بک میں متعارف کرائے جانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیس بک کی مالک کمپنی میٹا کے اعلیٰ عہدیداروں کا خیال ہے کہ اس وقت ٹوئٹر مشکلات کا شکار ہے اور یہی وقت ہے کہ اس کے ٹکر کی ایپلی کیشن یا فیچرز کو متعارف کرایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MattNavarra/status/1600469869673127936"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ فوری طور پر میٹا کے اعلیٰ عہدیدار اس بات پر متفق نہیں ہو سکے کہ آیا ٹوئٹر کے ٹکر کی ایپلی کیشن متعارف کرائی جائے یا پھر اس سے ملتے جلتے فیچرز کو انسٹاگرام یا فیس بک میں پیش کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ ٹوئٹر کے ٹکر کی نئی ایپلی کیشن متعارف کراکر اس میں انسٹاگرام کی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اجلاس میں عہدیداروں نے مختلف تجاویز پیش کیں اور بعض عہدیداروں نے کہا کہ ’ریئل ٹائم یا ریئل ریلز‘ کے نام سے انسٹاگرام یا فیس بک پر ٹوئٹر کی طرز کے فیچرز متعارف کرائے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ بعض عہدیداروں نے تجویز دی کہ ’انسٹنٹ‘ یا پھر اسی طرح کے دوسرے نام سے نئی ایپلی کیشن متعارف کرائی جائے جو کہ ٹوئٹر کی طرح مختصر تحریری پیغام شیئر کرنے کے لیے بہترین آپشن ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ فیس بک کی جانب سے ٹوئٹر کے ٹکر کی ایپلی کیشن متعارف کرائی جائے گی یا پھر انسٹاگرام یا فیس بک پر ٹوئٹر کی طرز کے فیچرز پیش کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیس بک پہلے سے ہی حریف ایپلی کیشنز جن میں ٹک ٹاک اور ٹوئتر سرفہرست ہیں، ان کے فیچرز کو کاپی کرنے میں بدنام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیس بک عام طور پر اپنی تمام حریف ایپلی کیشنز کے فیچرز کی نقل کرکے صارفین کو زیادہ سے زیادہ مصروف رکھنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت فیس بک کو دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا ویب سائٹ کا اعزاز حاصل ہے جب کہ اسی کمپنی کی انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ بھی دنیا کی سب سے بڑی میسیجنگ ایپ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں انسٹاگرام نے بھی ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کے لیے ان کے ہی چرائے گئے فیچرز کو کاپی کرکے صارفین کو مصروف رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خبریں ہیں کہ فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی مالک کمپنی ’میٹا‘ جلد ہی ٹوئٹر کے مقابلے میں ایپلی کیشن یا پھر اس جیسے فیچرز کو اپنی پرانی ویب سائٹس میں متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
<p>امریکی اخبار <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.nytimes.com/2022/12/07/technology/twitter-rivals-alternative-platforms.html"><strong>’نیو یارک ٹائمز‘</strong></a> کے مطابق حال ہی میں ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹر کا انتظام سنبھالے جانے اور پلیٹ فارم کے مشکل میں پھنسنے کے بعد فیس بک کے اعلیٰ عہدیداروں نے ایک اجلاس کیا۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ اجلاس میں ٹوئٹر کے ٹکر کی ایپلی کیشن یا پھر اس سے ملتے جلتے فیچرز کو انسٹاگرام یا فیس بک میں متعارف کرائے جانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>فیس بک کی مالک کمپنی میٹا کے اعلیٰ عہدیداروں کا خیال ہے کہ اس وقت ٹوئٹر مشکلات کا شکار ہے اور یہی وقت ہے کہ اس کے ٹکر کی ایپلی کیشن یا فیچرز کو متعارف کرایا جائے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MattNavarra/status/1600469869673127936"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ فوری طور پر میٹا کے اعلیٰ عہدیدار اس بات پر متفق نہیں ہو سکے کہ آیا ٹوئٹر کے ٹکر کی ایپلی کیشن متعارف کرائی جائے یا پھر اس سے ملتے جلتے فیچرز کو انسٹاگرام یا فیس بک میں پیش کیا جائے۔</p>
<p>اجلاس میں اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ ٹوئٹر کے ٹکر کی نئی ایپلی کیشن متعارف کراکر اس میں انسٹاگرام کی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جائے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اجلاس میں عہدیداروں نے مختلف تجاویز پیش کیں اور بعض عہدیداروں نے کہا کہ ’ریئل ٹائم یا ریئل ریلز‘ کے نام سے انسٹاگرام یا فیس بک پر ٹوئٹر کی طرز کے فیچرز متعارف کرائے جائیں۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ بعض عہدیداروں نے تجویز دی کہ ’انسٹنٹ‘ یا پھر اسی طرح کے دوسرے نام سے نئی ایپلی کیشن متعارف کرائی جائے جو کہ ٹوئٹر کی طرح مختصر تحریری پیغام شیئر کرنے کے لیے بہترین آپشن ہو۔</p>
<p>ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ فیس بک کی جانب سے ٹوئٹر کے ٹکر کی ایپلی کیشن متعارف کرائی جائے گی یا پھر انسٹاگرام یا فیس بک پر ٹوئٹر کی طرز کے فیچرز پیش کیے جائیں گے۔</p>
<p>فیس بک پہلے سے ہی حریف ایپلی کیشنز جن میں ٹک ٹاک اور ٹوئتر سرفہرست ہیں، ان کے فیچرز کو کاپی کرنے میں بدنام ہے۔</p>
<p>فیس بک عام طور پر اپنی تمام حریف ایپلی کیشنز کے فیچرز کی نقل کرکے صارفین کو زیادہ سے زیادہ مصروف رکھنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔</p>
<p>اس وقت فیس بک کو دنیا کی سب سے بڑی سوشل میڈیا ویب سائٹ کا اعزاز حاصل ہے جب کہ اسی کمپنی کی انسٹنٹ میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ بھی دنیا کی سب سے بڑی میسیجنگ ایپ ہے۔</p>
<p>علاوہ ازیں انسٹاگرام نے بھی ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کے لیے ان کے ہی چرائے گئے فیچرز کو کاپی کرکے صارفین کو مصروف رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1193437</guid>
      <pubDate>Fri, 09 Dec 2022 13:20:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/0819290473c52a4.jpg?r=192927" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/0819290473c52a4.jpg?r=192927"/>
        <media:title>—فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
