<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 11:42:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 11:42:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹوئٹر پر ماہانہ فیس کے فیچر کا دوبارہ آغاز</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1193635/</link>
      <description>&lt;p&gt;مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ماہانہ فیس کا فیچر دوبارہ شروع کردیا گیا جب کہ اس بار ایپل کی ڈیوائسز پر ٹوئٹر کو استعمال کرنے والے صارفین کی ماہانہ فیس بھی بڑھا دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوئٹر کے نئے مالک ایلون مسک نے گزشتہ ماہ 7 نومبر کو ماہانہ 8 ڈالر فیس کے عوض ٹوئٹر بلیو نامی سروس کا آغاز کیا تھا، جسے ابتدائی طور پر امریکا، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ میں شروع کیا گیا تھا مگر جلد ہی اس میں خرابی آنے کے بعد اسے بند کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Twitter/status/1601692766257709056"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ فیچر کو 12 نومبر کو بند کردیا گیا تھا اور بعد ازاں ایلون مسک نے اسے 29 نومبر کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں انہوں نے مذکورہ فیچر کو مزید وقت کے لیے مؤخر کردیا تھا لیکن اب اسے دوبارہ متعارف کرادیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1192492"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوئٹر کی جانب سے ایک ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ 12 دسمبر کو ’ٹوئٹر بلیو‘ کو متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت عام صارفین ماہانہ 8 جب کہ ایپل ڈیوائسز کے صارفین ماہانہ 11 ڈالر کی فیس ادا کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوئٹ میں ’ٹوئٹر بلیو‘ کے چند فیچرز بھی بتائے گئے کہ ماہانہ فیس ادا کرنے والے افراد اپنی ٹوئٹ کو ایڈٹ کرنے کے علاوہ اس میں اعلیٰ کوالٹی کی طویل ویڈیو بھی شیئر کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوئٹر کی جانب سے بتایا گیا کہ ’ٹوئٹر بلیو‘ کی سروس کے تحت لوگ اپنا یوزر اور ڈسپلے نیم بھی تبدیل کر سکیں گے، تاہم ایسا کرنے پر عارضی طور پر ان کا بلیو ٹک ہٹ جائے گا اور ٹوئٹر کی جانب سے ان کے اکاؤنٹ کو دوبارہ جائزہ لینے کے بعد ان کا بلیو ٹک بحال کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191548"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی اس بات کی بھی تصدیق کردی گئی کہ اب ٹوئٹر پر تین طرح کے تصدیقی اکاؤنٹس ہوں گے، جس میں سے کاروباری و حکومتی اداروں کو ’گولڈن ٹک‘ دیا جائے گا جب کہ حکومتی اور ملٹی نیشنل اداروں کو ’گرے ٹک‘ دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوئٹر کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ نامور شخصیات، صحافیوں، سیاستدانوں، سماجی کارکنان اور دیگر افراد کے تصدیقی اکاؤنٹس کو ’بلیو ٹک‘ ہی دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ٹوئٹر نے ماہانہ فیس کے عوض ’ٹوئٹر بلیو‘ کا دوبارہ آغاز کردیا، تاہم اسے فوری طور پر پاکستان سمیت کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں نہیں متعارف کرایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ فیچر کو ابتدائی طور پر امریکا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا جیسے ممالک میں متعارف کرایا گیا ہے، تاہم اسے ترتیب وار جلد یورپ اور ایشیائی ممالک میں بھی متعارف کرادیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ماہانہ فیس کا فیچر دوبارہ شروع کردیا گیا جب کہ اس بار ایپل کی ڈیوائسز پر ٹوئٹر کو استعمال کرنے والے صارفین کی ماہانہ فیس بھی بڑھا دی گئی۔</p>
<p>ٹوئٹر کے نئے مالک ایلون مسک نے گزشتہ ماہ 7 نومبر کو ماہانہ 8 ڈالر فیس کے عوض ٹوئٹر بلیو نامی سروس کا آغاز کیا تھا، جسے ابتدائی طور پر امریکا، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ میں شروع کیا گیا تھا مگر جلد ہی اس میں خرابی آنے کے بعد اسے بند کردیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Twitter/status/1601692766257709056"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>مذکورہ فیچر کو 12 نومبر کو بند کردیا گیا تھا اور بعد ازاں ایلون مسک نے اسے 29 نومبر کو دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>بعد ازاں انہوں نے مذکورہ فیچر کو مزید وقت کے لیے مؤخر کردیا تھا لیکن اب اسے دوبارہ متعارف کرادیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1192492"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ٹوئٹر کی جانب سے ایک ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ 12 دسمبر کو ’ٹوئٹر بلیو‘ کو متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت عام صارفین ماہانہ 8 جب کہ ایپل ڈیوائسز کے صارفین ماہانہ 11 ڈالر کی فیس ادا کریں گے۔</p>
<p>ٹوئٹ میں ’ٹوئٹر بلیو‘ کے چند فیچرز بھی بتائے گئے کہ ماہانہ فیس ادا کرنے والے افراد اپنی ٹوئٹ کو ایڈٹ کرنے کے علاوہ اس میں اعلیٰ کوالٹی کی طویل ویڈیو بھی شیئر کر سکیں گے۔</p>
<p>ٹوئٹر کی جانب سے بتایا گیا کہ ’ٹوئٹر بلیو‘ کی سروس کے تحت لوگ اپنا یوزر اور ڈسپلے نیم بھی تبدیل کر سکیں گے، تاہم ایسا کرنے پر عارضی طور پر ان کا بلیو ٹک ہٹ جائے گا اور ٹوئٹر کی جانب سے ان کے اکاؤنٹ کو دوبارہ جائزہ لینے کے بعد ان کا بلیو ٹک بحال کردیا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191548"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ساتھ ہی اس بات کی بھی تصدیق کردی گئی کہ اب ٹوئٹر پر تین طرح کے تصدیقی اکاؤنٹس ہوں گے، جس میں سے کاروباری و حکومتی اداروں کو ’گولڈن ٹک‘ دیا جائے گا جب کہ حکومتی اور ملٹی نیشنل اداروں کو ’گرے ٹک‘ دیا جائے گا۔</p>
<p>ٹوئٹر کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ نامور شخصیات، صحافیوں، سیاستدانوں، سماجی کارکنان اور دیگر افراد کے تصدیقی اکاؤنٹس کو ’بلیو ٹک‘ ہی دیا جائے گا۔</p>
<p>اگرچہ ٹوئٹر نے ماہانہ فیس کے عوض ’ٹوئٹر بلیو‘ کا دوبارہ آغاز کردیا، تاہم اسے فوری طور پر پاکستان سمیت کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں نہیں متعارف کرایا گیا۔</p>
<p>مذکورہ فیچر کو ابتدائی طور پر امریکا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا جیسے ممالک میں متعارف کرایا گیا ہے، تاہم اسے ترتیب وار جلد یورپ اور ایشیائی ممالک میں بھی متعارف کرادیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1193635</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Dec 2022 20:46:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/1219281085855e7.jpg?r=192839" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/1219281085855e7.jpg?r=192839"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
