<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 11:43:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 11:43:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ماہرین کا جین ایڈیٹنگ کے ذریعے کینسر ختم کرنے کا دعویٰ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1193637/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانوی ماہرین نے ایک 13 سالہ بچی کے جینیاتی کوڈ میں تبدیلی کرکے کینسر کے کامیاب علاج کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس بچی کے جینیاتی کوڈ میں تبدیلی کی گئی، وہ بچی کیموتھراپی اور بون میورو کے ٹرانسپلانٹ کے باوجود صحت یاب نہیں ہو پائے تھی، جس کے بعد سائنسدانوں نے آخری امید کے طور پر ان کے ڈی این اے کے چار کوڈز کو تبدیل کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے &lt;a href="https://www.bbc.com/news/health-63859184"&gt;&lt;strong&gt;’بی بی سی‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق برطانوی ماہرین نے بلڈ کینسر کی شکار 13 سالہ بچی کے جینیاتی کوڈ میں تبدیلی کی، جس کے بعد ان کا ایک اور بون میورو ٹرانسپلانٹ کیا گیا، جس کے بعد اب بچی میں کینسر کی علامات غائب ہوگئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://www.dawnnews.tv/news/1193486/"  alt="" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ گریٹ آرمنڈ اسٹریٹ ہسپتال کے ماہرین نے 13 سالہ بچی کے چار جینیاتی کوڈز ’ایڈنائن‘ (اے) ’سائٹوسین‘ (سی) ’گوانائن‘ (جی) اور ’تھائمین‘ (ٹی) کو بیس ایڈیٹنگ نامی نئے بائیولاجیکل انجنیئرنگ کے طریقے کے تحت تبدیل کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ طریقہ چند سال قبل ہی تخلیق کیا گیا تھا اور اس یہ طریقہ سائنسدانوں کو جینیاتی کوڈز کو انتہائی قریب سے دیکھ کر انہیں تبدیل کرنے یا ایک دوسرے سے ملانے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین نے مذکورہ طریقے کو استعمال کرتے ہوئے مریض بچی کے چار جینیاتی کوڈز کو تبدیل کیا، جس کے بعد بچی اگرچہ ابتدائی طور پر انتہائی کمزور ہوگئی، تاہم بون میورو ٹرانسپلانٹ اور تین ماہ کے علاج کے بعد وہ صحت یاب ہوگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈاکٹرز کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران دو مرتبہ چیک اپ کیے جانے پر مریض بچی میں کینسر کی کوئی علامت نہیں دیکھی گئی اور اب وہ بلکل صحت مند ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانوی ماہرین نے بتایا کہ مذکورہ طریقہ علاج 6 سال قبل ہی تیار کیا گیا تھا اور تاحال یہ طریقہ عام نہیں ہو پایا اور 13 سالہ مریض بچی ان 10 افراد میں سے پہلی فرد ہیں، جنہیں اس طریقہ علاج کے لیے منتخب کیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ طریقہ علاج کو بہت پیچیدہ اور محنت طلب بتایا جا رہا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس طریقہ علاج سے سال میں صرف ایک درجن مریض ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانوی ماہرین نے ایک 13 سالہ بچی کے جینیاتی کوڈ میں تبدیلی کرکے کینسر کے کامیاب علاج کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔</p>

<p>جس بچی کے جینیاتی کوڈ میں تبدیلی کی گئی، وہ بچی کیموتھراپی اور بون میورو کے ٹرانسپلانٹ کے باوجود صحت یاب نہیں ہو پائے تھی، جس کے بعد سائنسدانوں نے آخری امید کے طور پر ان کے ڈی این اے کے چار کوڈز کو تبدیل کیا۔</p>

<p>برطانوی نشریاتی ادارے <a href="https://www.bbc.com/news/health-63859184"><strong>’بی بی سی‘</strong></a> کے مطابق برطانوی ماہرین نے بلڈ کینسر کی شکار 13 سالہ بچی کے جینیاتی کوڈ میں تبدیلی کی، جس کے بعد ان کا ایک اور بون میورو ٹرانسپلانٹ کیا گیا، جس کے بعد اب بچی میں کینسر کی علامات غائب ہوگئیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://www.dawnnews.tv/news/1193486/"  alt="" /></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ گریٹ آرمنڈ اسٹریٹ ہسپتال کے ماہرین نے 13 سالہ بچی کے چار جینیاتی کوڈز ’ایڈنائن‘ (اے) ’سائٹوسین‘ (سی) ’گوانائن‘ (جی) اور ’تھائمین‘ (ٹی) کو بیس ایڈیٹنگ نامی نئے بائیولاجیکل انجنیئرنگ کے طریقے کے تحت تبدیل کیا۔</p>

<p>یہ طریقہ چند سال قبل ہی تخلیق کیا گیا تھا اور اس یہ طریقہ سائنسدانوں کو جینیاتی کوڈز کو انتہائی قریب سے دیکھ کر انہیں تبدیل کرنے یا ایک دوسرے سے ملانے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔</p>

<p>ماہرین نے مذکورہ طریقے کو استعمال کرتے ہوئے مریض بچی کے چار جینیاتی کوڈز کو تبدیل کیا، جس کے بعد بچی اگرچہ ابتدائی طور پر انتہائی کمزور ہوگئی، تاہم بون میورو ٹرانسپلانٹ اور تین ماہ کے علاج کے بعد وہ صحت یاب ہوگئی۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈاکٹرز کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران دو مرتبہ چیک اپ کیے جانے پر مریض بچی میں کینسر کی کوئی علامت نہیں دیکھی گئی اور اب وہ بلکل صحت مند ہے۔</p>

<p>برطانوی ماہرین نے بتایا کہ مذکورہ طریقہ علاج 6 سال قبل ہی تیار کیا گیا تھا اور تاحال یہ طریقہ عام نہیں ہو پایا اور 13 سالہ مریض بچی ان 10 افراد میں سے پہلی فرد ہیں، جنہیں اس طریقہ علاج کے لیے منتخب کیا جا چکا ہے۔</p>

<p>مذکورہ طریقہ علاج کو بہت پیچیدہ اور محنت طلب بتایا جا رہا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس طریقہ علاج سے سال میں صرف ایک درجن مریض ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1193637</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Dec 2022 23:16:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/1220371311a93c1.jpg?r=203750" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/1220371311a93c1.jpg?r=203750"/>
        <media:title>کینسر سے صحت یاب ہونے والی بچی—فوٹو: بی بی سی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
