<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 09:29:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 09:29:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک-انگلینڈ ٹیسٹ سیریز: آئی سی سی نے راولپنڈی ٹیسٹ کی وکٹ کو ’غیر معیاری‘ قرار دے دیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1193669/</link>
      <description>&lt;p&gt;انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان راولپنڈی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کی وکٹ کو غیر معیاری قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی کی جانب سے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ کی پچ کو اوسط سے کم قرار دینے کے بعد راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کو ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تاریخی سیریز کے پہلے ٹسیٹ کی  پہلی اننگز میں انگلینڈ نے 657 بنائے اور دوسری اننگز 7 وکٹوں کے نقصان پر 264 رنز بنا کر ڈکلیئر کردی تھی اور میچ 74 رنز سے جیت لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راولپنڈی ٹیسٹ میں پاکستان نے پہلی اننگز میں 579 رنز بنائے جب کہ دوسری اننگز میں وہ 268 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورننگ باڈی ایلیٹ پینل آف میچ ریفریز کے اینڈی پائکرافٹ کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت ہی فلیٹ پچ تھی جس نے کسی بھی قسم کے باؤلر کو تقریباً کوئی مدد نہیں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہی وہ بنیادی وجہ تھی جس کی وجہ سے بلے بازوں نے بہت تیزی سے رنز بنائے اور دونوں ٹیموں نے بہت بڑا اسکور پوسٹ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193602"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ میچ کے دوران پچ بہت کم خراب ہوئی، اس میں گیند بازوں کے لیے کوئی مدد نہیں تھی، میں نے آئی سی سی گائیڈ لائز کے مطابق پچ کو ’اوسط سے کم‘درجہ پایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دنوں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجا نے بھی پچ کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کرکٹ کے لیے اچھا سائن نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے مارچ میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان راولپنڈی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کی وکٹ کو بھی غیرمعیاری قرار دیا گیا تھا اور  میچ ریفری نے میدان کو  ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے پہلی اننگز امام الحق اور اظہر علی کی سنچریوں کی بدولت 476 رنز چار کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کردی تھی جس کے جواب میں آسٹریلیا نے بھی پہلی اننگز میں 459 رنز بنائے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی اوپنرز نے دوسری اننگز میں مہمان باؤلرز کو تختہ مشق بناتے ہوئے بغیر کسی نقصان کے 252 رنز بنائے تھے اور میچ ڈرا ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر کسی کرکٹ گراؤنڈ کو پانچ سال کے دوران 5 ڈی میرٹ پوائنٹس دیے جاتے ہیں تو اسے ایک سال کے لیے میچ کی میزبانی کے لیے معطل کیا جاسکتا ہے،  اسی طرح سے اگر اسے 10 ڈی میرٹ پوائنٹس دیے جاتے ہیں تو  اسے  دو سال کے لیے معطل کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان راولپنڈی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کی وکٹ کو غیر معیاری قرار دے دیا۔</p>
<p>آئی سی سی کی جانب سے پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ کی پچ کو اوسط سے کم قرار دینے کے بعد راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کو ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دیا گیا۔</p>
<p>پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تاریخی سیریز کے پہلے ٹسیٹ کی  پہلی اننگز میں انگلینڈ نے 657 بنائے اور دوسری اننگز 7 وکٹوں کے نقصان پر 264 رنز بنا کر ڈکلیئر کردی تھی اور میچ 74 رنز سے جیت لیا تھا۔</p>
<p>راولپنڈی ٹیسٹ میں پاکستان نے پہلی اننگز میں 579 رنز بنائے جب کہ دوسری اننگز میں وہ 268 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔</p>
<p>گورننگ باڈی ایلیٹ پینل آف میچ ریفریز کے اینڈی پائکرافٹ کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت ہی فلیٹ پچ تھی جس نے کسی بھی قسم کے باؤلر کو تقریباً کوئی مدد نہیں دی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہی وہ بنیادی وجہ تھی جس کی وجہ سے بلے بازوں نے بہت تیزی سے رنز بنائے اور دونوں ٹیموں نے بہت بڑا اسکور پوسٹ کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193602"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ میچ کے دوران پچ بہت کم خراب ہوئی، اس میں گیند بازوں کے لیے کوئی مدد نہیں تھی، میں نے آئی سی سی گائیڈ لائز کے مطابق پچ کو ’اوسط سے کم‘درجہ پایا۔</p>
<p>گزشتہ دنوں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجا نے بھی پچ کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کرکٹ کے لیے اچھا سائن نہیں ہے۔</p>
<p>انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے مارچ میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان راولپنڈی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کی وکٹ کو بھی غیرمعیاری قرار دیا گیا تھا اور  میچ ریفری نے میدان کو  ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دیا تھا۔</p>
<p>پاکستان نے پہلی اننگز امام الحق اور اظہر علی کی سنچریوں کی بدولت 476 رنز چار کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کردی تھی جس کے جواب میں آسٹریلیا نے بھی پہلی اننگز میں 459 رنز بنائے تھے۔</p>
<p>پاکستانی اوپنرز نے دوسری اننگز میں مہمان باؤلرز کو تختہ مشق بناتے ہوئے بغیر کسی نقصان کے 252 رنز بنائے تھے اور میچ ڈرا ہو گیا تھا۔</p>
<p>اگر کسی کرکٹ گراؤنڈ کو پانچ سال کے دوران 5 ڈی میرٹ پوائنٹس دیے جاتے ہیں تو اسے ایک سال کے لیے میچ کی میزبانی کے لیے معطل کیا جاسکتا ہے،  اسی طرح سے اگر اسے 10 ڈی میرٹ پوائنٹس دیے جاتے ہیں تو  اسے  دو سال کے لیے معطل کیا جاسکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1193669</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Dec 2022 15:14:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/131313080613c89.jpg?r=151518" type="image/jpeg" medium="image" height="3341" width="5567">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/131313080613c89.jpg?r=151518"/>
        <media:title>اینڈی پائکرافٹ نے کہا کہ میں نے آئی سی سی گائیڈ لائنز کے مطابق پچ کو ’اوسط سے کم‘ درجہ پایا — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
