<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 23:22:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 23:22:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹوئٹر کو ٹکر دینے کے لیے انسٹاگرام پر ٹیکسٹ پوسٹ سمیت متعدد فیچرز متعارف
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1193757/</link>
      <description>&lt;p&gt;ٹوئٹر کو ٹکر دینے کے لیے فیس بک نے اپنی زیر ملکیت سوشل شیئرنگ ایپلی کیشن انسٹاگرام پر ٹیکسٹ پوسٹ شیئر کرنے سمیت گروپ چیٹس کے علاوہ چند فیچر متعارف کرادیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک ہفتہ قبل ہی یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ٹوئٹر کے نئے مالک کے بعد فیس بک ٹوئٹر کے ٹکر کی ایپلی کیشن یا پھر انسٹاگرام پر نئے فیچرز متعارف کرائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اور اب فیس بک نے ٹوئٹر کو ٹکر دینے کے لیے انسٹاگرام پر متعدد فیچرز متعارف کرادیے، جن میں سے سب سے اہم ٹیکسٹ پوسٹ فیچر ہے جو کہ ٹوئٹر سے ملتا جلتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میٹا کی جانب سے &lt;a href="https://about.fb.com/news/2022/12/sharing-features-on-instagram-notes-group-profiles-and-more/"&gt;&lt;strong&gt;جاری بیان&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ’ٹیکسٹ پوسٹ‘ کے ذریعے انسٹاگرام صارفین 60 الفاظ پر مشتمل کوئی بھی پوسٹ کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ پہلی بار ہوگا کہ انسٹاگرام پر ویڈیو یا تصویر کے بغیر الفاظ کی پوسٹ شیئر ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://www.dawnnews.tv/news/1193437/"  alt="" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ مذکورہ فیچر کو ٹوئٹر سے ملتا جلتا قرار دیا جا رہا ہے، تاہم یہ ٹوئٹ کی طرح کام نہیں کرے گا بلکہ یہ انسٹاگرام یا فیس بک کی اسٹوریز کی طرح ہی کام کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ فیچر کے تحت صارفین ٹیکسٹ پوسٹ کو پبلک پوسٹ کے طور پر شیئر نہیں کر سکیں گے بلکہ ان کی پوسٹ صرف ان افراد کو ہی نظر آئے گی، جنہوں نے صارف کو اور صارف نے ان کو فالو کر رکھا ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح مذکورہ فیچر کے تحت ٹیکسٹ پوسٹ انسٹاگرام کے مین پیج پر نظر نہیں آئے گی بلکہ وہ اسٹوری کی طرح انباکس کے اوپر صارف کے ان فالوورز کو نظر آئے گی، جنہیں خود صارف نے بھی فالو کر رکھا ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یوں مذکورہ پوسٹ انسٹاگرام اسٹوریز کی طرح 24 گھنٹے کے دوران خود بخود غائب ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جب کہ ٹوئٹر پر صارفین کو ٹوئٹ کرنے کی آزادی ہوتی ہے اور ان کی ٹوئٹ پروفائل پیج پر نظر آتی ہے اور وہ ہر کسی کو دکھائی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ فیچر کے علاوہ انسٹاگرام نے ایک اور دلچسپ فیچر متعارف کرایا ہے، جسے ’گروپ پروفائل‘ کا نام دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ فیچر ایک طرح سے فیس بک گروپس کی طرح ہوگا، یعنی انسٹاگرام پر ہی ایک گروپ بنایا جائے گا، جس میں گروپ بنانے والا اور اس کے چند دیگر دوست چیزیں شیئر کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گروپ پروفائل میں شیئر کی جانے والی چیزیں صرف ان افراد کو ہی نظر آئیں گی جو اس گروپ کا حصہ ہوں گے جب کہ پوسٹس صارفین کے پروفائل پر بھی پوسٹ نہیں ہوگی بلکہ گروپ پروفائل کا ایک الگ پروفائل بن جائے گا، جہاں تمام پوسٹس نظر آئیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں انسٹاگرام پر ’کینڈڈ‘ نامی اسٹوریز شیئرنگ کا نیا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت متعدد صارفین گروپ کی شکل میں اسٹوریز شیئر کر سکیں گے، تاہم اس فیچر کے تحت صرف تصاویر یا ویڈیوز ہی شیئر کی جا سکیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح انسٹاگرام نے Collaborative Collections کا فیچر بھی پیش کیا ہے، جس کے تحت متعدد صارفین انسٹاگرام پر نظر آنے والی ویڈیوز اور تصاویر سمیت پوسٹس کو ایک جگہ پر مشترکہ طور پر محفوظ کرکے دیکھ سکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ انسٹاگرام نے مذکورہ فیچر کو متعارف کرانے کا اعلان کردیا، تاہم یہ فیچرز پاکستان سمیت دیگر ممالک کے صارفین کو آئندہ چند ہفتوں میں دستیاب ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فوری طور پر ان فیچرز پر امریکا سمیت دیگر ممالک کے محدود صارفین کو رسائی دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;    &lt;span&gt;
        &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
            &lt;a href="https://twitter.com/MetaNewsroom/status/1602710231263416341"&gt;&lt;/a&gt;
        &lt;/blockquote&gt;
    &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ٹوئٹر کو ٹکر دینے کے لیے فیس بک نے اپنی زیر ملکیت سوشل شیئرنگ ایپلی کیشن انسٹاگرام پر ٹیکسٹ پوسٹ شیئر کرنے سمیت گروپ چیٹس کے علاوہ چند فیچر متعارف کرادیے۔</p>

<p>ایک ہفتہ قبل ہی یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ٹوئٹر کے نئے مالک کے بعد فیس بک ٹوئٹر کے ٹکر کی ایپلی کیشن یا پھر انسٹاگرام پر نئے فیچرز متعارف کرائے گا۔</p>

<p>اور اب فیس بک نے ٹوئٹر کو ٹکر دینے کے لیے انسٹاگرام پر متعدد فیچرز متعارف کرادیے، جن میں سے سب سے اہم ٹیکسٹ پوسٹ فیچر ہے جو کہ ٹوئٹر سے ملتا جلتا ہے۔</p>

<p>میٹا کی جانب سے <a href="https://about.fb.com/news/2022/12/sharing-features-on-instagram-notes-group-profiles-and-more/"><strong>جاری بیان</strong></a> کے مطابق ’ٹیکسٹ پوسٹ‘ کے ذریعے انسٹاگرام صارفین 60 الفاظ پر مشتمل کوئی بھی پوسٹ کر سکیں گے۔</p>

<p>یہ پہلی بار ہوگا کہ انسٹاگرام پر ویڈیو یا تصویر کے بغیر الفاظ کی پوسٹ شیئر ہوگی۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://www.dawnnews.tv/news/1193437/"  alt="" /></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اگرچہ مذکورہ فیچر کو ٹوئٹر سے ملتا جلتا قرار دیا جا رہا ہے، تاہم یہ ٹوئٹ کی طرح کام نہیں کرے گا بلکہ یہ انسٹاگرام یا فیس بک کی اسٹوریز کی طرح ہی کام کرے گا۔</p>

<p>مذکورہ فیچر کے تحت صارفین ٹیکسٹ پوسٹ کو پبلک پوسٹ کے طور پر شیئر نہیں کر سکیں گے بلکہ ان کی پوسٹ صرف ان افراد کو ہی نظر آئے گی، جنہوں نے صارف کو اور صارف نے ان کو فالو کر رکھا ہوگا۔</p>

<p>اسی طرح مذکورہ فیچر کے تحت ٹیکسٹ پوسٹ انسٹاگرام کے مین پیج پر نظر نہیں آئے گی بلکہ وہ اسٹوری کی طرح انباکس کے اوپر صارف کے ان فالوورز کو نظر آئے گی، جنہیں خود صارف نے بھی فالو کر رکھا ہوگا۔</p>

<p>یوں مذکورہ پوسٹ انسٹاگرام اسٹوریز کی طرح 24 گھنٹے کے دوران خود بخود غائب ہوجائے گی۔</p>

<p>جب کہ ٹوئٹر پر صارفین کو ٹوئٹ کرنے کی آزادی ہوتی ہے اور ان کی ٹوئٹ پروفائل پیج پر نظر آتی ہے اور وہ ہر کسی کو دکھائی دیتی ہے۔</p>

<p>مذکورہ فیچر کے علاوہ انسٹاگرام نے ایک اور دلچسپ فیچر متعارف کرایا ہے، جسے ’گروپ پروفائل‘ کا نام دیا گیا ہے۔</p>

<p>یہ فیچر ایک طرح سے فیس بک گروپس کی طرح ہوگا، یعنی انسٹاگرام پر ہی ایک گروپ بنایا جائے گا، جس میں گروپ بنانے والا اور اس کے چند دیگر دوست چیزیں شیئر کر سکیں گے۔</p>

<p>گروپ پروفائل میں شیئر کی جانے والی چیزیں صرف ان افراد کو ہی نظر آئیں گی جو اس گروپ کا حصہ ہوں گے جب کہ پوسٹس صارفین کے پروفائل پر بھی پوسٹ نہیں ہوگی بلکہ گروپ پروفائل کا ایک الگ پروفائل بن جائے گا، جہاں تمام پوسٹس نظر آئیں گی۔</p>

<p>علاوہ ازیں انسٹاگرام پر ’کینڈڈ‘ نامی اسٹوریز شیئرنگ کا نیا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت متعدد صارفین گروپ کی شکل میں اسٹوریز شیئر کر سکیں گے، تاہم اس فیچر کے تحت صرف تصاویر یا ویڈیوز ہی شیئر کی جا سکیں گی۔</p>

<p>اسی طرح انسٹاگرام نے Collaborative Collections کا فیچر بھی پیش کیا ہے، جس کے تحت متعدد صارفین انسٹاگرام پر نظر آنے والی ویڈیوز اور تصاویر سمیت پوسٹس کو ایک جگہ پر مشترکہ طور پر محفوظ کرکے دیکھ سکیں گے۔</p>

<p>اگرچہ انسٹاگرام نے مذکورہ فیچر کو متعارف کرانے کا اعلان کردیا، تاہم یہ فیچرز پاکستان سمیت دیگر ممالک کے صارفین کو آئندہ چند ہفتوں میں دستیاب ہوں گے۔</p>

<p>فوری طور پر ان فیچرز پر امریکا سمیت دیگر ممالک کے محدود صارفین کو رسائی دی گئی ہے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>    <span>
        <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
            <a href="https://twitter.com/MetaNewsroom/status/1602710231263416341"></a>
        </blockquote>
    </span></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1193757</guid>
      <pubDate>Wed, 14 Dec 2022 22:36:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/14205349425310e.jpg?r=205512" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/14205349425310e.jpg?r=205512"/>
        <media:title>نئے فیچرز تک جلد تمام صارفین کو رسائی دی جائے گی—فوٹو: میٹا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
