<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 01:35:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 01:35:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ: تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 4 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1193774/</link>
      <description>&lt;p&gt;شدید سردی کی لہر سے متاثرہ برطانیہ میں  سخت سرد پانی میں تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے  چار افراد ہلاک ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1726400/four-dead-as-migrants-boat-capsizes-in-channel"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق برطانوی حکومت کے مطابق حادثہ رات کے اوقات میں پیش آیا، برطانیہ اور فرانس کی  ایمرجنسی سروسز پر مشتمل ٹیم کے ریسکیو آپریشن میں دنیا کی مصروف ترین شپنگ لین میں سے ایک پر پیش آئے حادثے کے بعد پانی سے درجنوں مسافروں کو نکالا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تارکین وطن کی ریکارڈ تعداد کی غیر قانونی آمد کو روکنے کے لیے قوانین کو سخت کرنے کی کوششوں میں مصروف برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سوناک نے حادثے کو انسانی جانوں کا المناک نقصان قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ غیر محفوظ بوٹس میں چینل کو عبور کرنا سخت خطرناک ہے، انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ یہ ہی سب سے بڑی وجہ ہے  کہ برطانیہ عوامی اسمگلنگ کے کاروباری ماڈل کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193648"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حادثے کے بعد وزیر اعظم پر ہونے والی تنقید کو مسترد کر تے ہوئے ان کے ترجمان نے  اسے نامناسب قرار دیا، انہوں نے کہا کہ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پر عزم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی ذرائع نے بتایا کہ کشتی الٹنے کے حادثے کے بعد 43 افراد کو بچایا  گیا جن میں 30 سے زائد وہ افراد بھی شامل ہیں جو بوٹ سے پانی میں گر گئے تھے جب کہ  ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کے خدشات کا بھی اظہار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال اب تک 43 ہزار  سے زیادہ تارکین وطن اس  چینل  سے گزر چکے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ ہے، اس صورتحال کے باعث تارکین وطن کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات کے بارے میں لندن اور پیرس کے درمیان تناؤ پیدا ہو رہا ہے جب کہ اس معاملے پر  برطانوی حکومت پر سیاسی دباؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس نے بریگزٹ کے تحت یورپی یونین سے اخراج کے بعد امیگریشن کنٹرول واپس لینے کا وعدہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک حکومتی ترجمان نے کہا کہ حکام کو تارکین وطن کی چھوٹی کشتی مصیبت میں گھرے ہونے کی اطلاع ملی، حادثے کے نتیجے میں 4 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی، تحقیقات جاری ہیں اور ہم مناسب وقت پر مزید معلومات فراہم کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1188505"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق  کم از کم 4  لائف بوٹس، تین کوسٹ گارڈ ریسکیو ٹیموں کے ساتھ ساتھ 2 کوسٹ گارڈ ہیلی کاپٹر روانہ کیے گئے، فرانسیسی حکام نے ہیلی کاپٹر اور بحریہ کی گشت کے لیے موجود  کشتی فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مخالفین نے حکومت کی جانب سےملک میں  داخلے کے قوانین کو سخت کرنے کی کوششوں پر تنقید کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کے روز رشی سوناک نے البانیہ کے ساتھ ایک نئے معاہدے کا اعلان کیا تاکہ مین لینڈ یورپ سے چینل عبور کرنے والے تارکین وطن کی آمد کو روکا جا سکے، رواں سال برطانیہ کی حدود میں داخل ہونے والوں میں سے ایک تہائی یعنی تقریباً 13 ہزار کا تعلق  البانیہ سے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے کے تحت چینل کے ذریعے آنے والے البانیہ کے شہریوں کو فوری طور پر ان کے آبائی ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شدید سردی کی لہر سے متاثرہ برطانیہ میں  سخت سرد پانی میں تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے  چار افراد ہلاک ہو گئے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1726400/four-dead-as-migrants-boat-capsizes-in-channel">رپورٹ</a></strong> کے مطابق برطانوی حکومت کے مطابق حادثہ رات کے اوقات میں پیش آیا، برطانیہ اور فرانس کی  ایمرجنسی سروسز پر مشتمل ٹیم کے ریسکیو آپریشن میں دنیا کی مصروف ترین شپنگ لین میں سے ایک پر پیش آئے حادثے کے بعد پانی سے درجنوں مسافروں کو نکالا گیا۔</p>
<p>تارکین وطن کی ریکارڈ تعداد کی غیر قانونی آمد کو روکنے کے لیے قوانین کو سخت کرنے کی کوششوں میں مصروف برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سوناک نے حادثے کو انسانی جانوں کا المناک نقصان قرار دیا۔</p>
<p>وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ غیر محفوظ بوٹس میں چینل کو عبور کرنا سخت خطرناک ہے، انہوں نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ یہ ہی سب سے بڑی وجہ ہے  کہ برطانیہ عوامی اسمگلنگ کے کاروباری ماڈل کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193648"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حادثے کے بعد وزیر اعظم پر ہونے والی تنقید کو مسترد کر تے ہوئے ان کے ترجمان نے  اسے نامناسب قرار دیا، انہوں نے کہا کہ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پر عزم ہے۔</p>
<p>حکومتی ذرائع نے بتایا کہ کشتی الٹنے کے حادثے کے بعد 43 افراد کو بچایا  گیا جن میں 30 سے زائد وہ افراد بھی شامل ہیں جو بوٹ سے پانی میں گر گئے تھے جب کہ  ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کے خدشات کا بھی اظہار کیا گیا۔</p>
<p>رواں سال اب تک 43 ہزار  سے زیادہ تارکین وطن اس  چینل  سے گزر چکے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ ہے، اس صورتحال کے باعث تارکین وطن کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات کے بارے میں لندن اور پیرس کے درمیان تناؤ پیدا ہو رہا ہے جب کہ اس معاملے پر  برطانوی حکومت پر سیاسی دباؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس نے بریگزٹ کے تحت یورپی یونین سے اخراج کے بعد امیگریشن کنٹرول واپس لینے کا وعدہ کیا تھا۔</p>
<p>ایک حکومتی ترجمان نے کہا کہ حکام کو تارکین وطن کی چھوٹی کشتی مصیبت میں گھرے ہونے کی اطلاع ملی، حادثے کے نتیجے میں 4 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی، تحقیقات جاری ہیں اور ہم مناسب وقت پر مزید معلومات فراہم کریں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1188505"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حکام کے مطابق  کم از کم 4  لائف بوٹس، تین کوسٹ گارڈ ریسکیو ٹیموں کے ساتھ ساتھ 2 کوسٹ گارڈ ہیلی کاپٹر روانہ کیے گئے، فرانسیسی حکام نے ہیلی کاپٹر اور بحریہ کی گشت کے لیے موجود  کشتی فراہم کی۔</p>
<p>مخالفین نے حکومت کی جانب سےملک میں  داخلے کے قوانین کو سخت کرنے کی کوششوں پر تنقید کی۔</p>
<p>منگل کے روز رشی سوناک نے البانیہ کے ساتھ ایک نئے معاہدے کا اعلان کیا تاکہ مین لینڈ یورپ سے چینل عبور کرنے والے تارکین وطن کی آمد کو روکا جا سکے، رواں سال برطانیہ کی حدود میں داخل ہونے والوں میں سے ایک تہائی یعنی تقریباً 13 ہزار کا تعلق  البانیہ سے تھا۔</p>
<p>معاہدے کے تحت چینل کے ذریعے آنے والے البانیہ کے شہریوں کو فوری طور پر ان کے آبائی ملک واپس بھیج دیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1193774</guid>
      <pubDate>Thu, 15 Dec 2022 10:48:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/15101714bd49bd7.jpg?r=101756" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/15101714bd49bd7.jpg?r=101756"/>
        <media:title>—فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
