<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 01:08:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 01:08:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نصاب تعلیم کے حوالے سے ہدایات دینا عدالت کا کام نہیں، سندھ ہائی کورٹ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1193936/</link>
      <description>&lt;p&gt;سندھ ہائی کورٹ نے اسکولوں اور کالجوں میں قرآن کی تعلیم لازمی قرار دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کا کام نصاب کے مواد کے حوالے سے ہدایات دینا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دائر کی جانے والی درخواست میں پرائمری، ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں/کالج کے نصاب میں ترمیم کرنے کی استدعا کی گئی تھی کہ تمام اسکولوں اور کالجوں میں اردو ترجمے کے ساتھ قرآن کی تعلیم لازمی قرار دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;13 دسمبر کو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ اور جسٹس یوسف علی سید پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1153009"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں، جمعے کو 3 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ ہائی کورٹ نے فیصلے میں بتایا کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد ریاست کے تین ستونوں کے درمیان طاقت کے نظریات پر قائم ہے جس میں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحریری فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ موجودہ حالات میں نصاب کے متن کے حوالے سے حکم دے جبکہ کسی قانون یا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہوئی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1174633"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں بتایا گیا کہ ہمارے خیال میں عقیدے کے معاملات ذاتی نوعیت کے ہیں اور انہیں انفرادی لوگوں پر چھوڑنا بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے 2014 کے ایک مقدمے میں فیصلے کا حوالہ دیا گیا جس میں عدالت عظمیٰ نے مشاہدہ کیا تھا کہ مذہب کی آزادی اور مذہبی اداروں کو منظم کرنے کے حوالے سے ریاست پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ افراد کے مذہبی عقائد اور نظریات میں مداخلت نہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ ہائی کورٹ نے بتایا کہ اس طرح درخواست کے بارے میں غلط فہمی پائی جاتی ہے، ہم اس کے مطابق اسے دوسری زیر التوا متفرق درخواست کے ساتھ مسترد کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سندھ ہائی کورٹ نے اسکولوں اور کالجوں میں قرآن کی تعلیم لازمی قرار دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کا کام نصاب کے مواد کے حوالے سے ہدایات دینا نہیں ہے۔</p>
<p>دائر کی جانے والی درخواست میں پرائمری، ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں/کالج کے نصاب میں ترمیم کرنے کی استدعا کی گئی تھی کہ تمام اسکولوں اور کالجوں میں اردو ترجمے کے ساتھ قرآن کی تعلیم لازمی قرار دی جائے۔</p>
<p>13 دسمبر کو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ اور جسٹس یوسف علی سید پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1153009"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بعد ازاں، جمعے کو 3 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا گیا تھا۔</p>
<p>سندھ ہائی کورٹ نے فیصلے میں بتایا کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد ریاست کے تین ستونوں کے درمیان طاقت کے نظریات پر قائم ہے جس میں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ شامل ہے۔</p>
<p>تحریری فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ موجودہ حالات میں نصاب کے متن کے حوالے سے حکم دے جبکہ کسی قانون یا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہوئی ہو۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1174633"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فیصلے میں بتایا گیا کہ ہمارے خیال میں عقیدے کے معاملات ذاتی نوعیت کے ہیں اور انہیں انفرادی لوگوں پر چھوڑنا بہتر ہے۔</p>
<p>سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے 2014 کے ایک مقدمے میں فیصلے کا حوالہ دیا گیا جس میں عدالت عظمیٰ نے مشاہدہ کیا تھا کہ مذہب کی آزادی اور مذہبی اداروں کو منظم کرنے کے حوالے سے ریاست پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ افراد کے مذہبی عقائد اور نظریات میں مداخلت نہ کرے۔</p>
<p>سندھ ہائی کورٹ نے بتایا کہ اس طرح درخواست کے بارے میں غلط فہمی پائی جاتی ہے، ہم اس کے مطابق اسے دوسری زیر التوا متفرق درخواست کے ساتھ مسترد کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1193936</guid>
      <pubDate>Sat, 17 Dec 2022 19:06:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسحاق تنولی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/17174345cdffa71.jpg?r=190640" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/17174345cdffa71.jpg?r=190640"/>
        <media:title>2 رکنی بینچ نے سماعت کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا — فائل فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
