<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:06:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:06:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایک کیس میں متعدد ایف آئی آر کا اندراج ڈرانے، دھمکانے کے مترادف ہے، عدالت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1193969/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ ایک جرم میں متعدد ایف آئی آر کا اندراج ڈرانے دھمکانے کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1726950/multiple-firs-in-one-case-amount-to-intimidation"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق عدالت نے گزشتہ روز سیکریٹری اطلاعات و نشریات شاہرہ شاہد، پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے مینجر ڈائریکٹر سہیل علی خان اور ڈائریکٹر نیوز مرزا راشد بیگ کی جانب سے دائر درخواست پر تفصیلی حکم نامہ جاری کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور اور پشاور میں انسداد دہشت گردی قانون کے تحت دو مقدمات درج کیے جانے کے بعد درخواست گزاروں نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193770"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے تفصیلی حکم نامے میں کہا کہ اسلام آباد کی حدود سے باہر درج کی گئی ایف آئی آر سپریم کورٹ کے حکم نامے کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت عظمیٰ نے ایم ایس ٹی صغراں بی بی اور ریاست کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک جرم کے خلاف صرف ایک ایف آئی آر درج کی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس طارق محمود نے کہا کہ درخواست گزاروں کے ساتھ اسلام آباد کی حدود میں پیش آنے والے مبینہ واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا جبکہ لاہور اور پشاور میں درج کی گئی ایف آئی آر سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا  ’اختیارات کا غلط استعمال‘ گیا جس کی وجہ سے درخواست گزار ذہنی اذیت کے ساتھ ساتھ ہراسانی کا شکار ہوئے اور اپنی زندگی اور آزادی کے حوالے سے خوف میں مبتلا ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے نشاندہی کی کہ درخواست گزار اعلیٰ حکومتی افسران ہیں جو اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں جبکہ ایف آئی آر کے مواد اور الزامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام درخواست گزار دہشت گردی کے مرتکب نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس کے نتیجے میں عدالت نے لاہور اور پشاور میں درج ایف آئی آر کالعدم قرار دے دی اور پولیس کو مذکورہ کیس میں درخواست گزاروں کے خلاف ایف آئی کے اندراج سے روک دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے درخواست گزاروں کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ شکایت کنندگان کو مقدمے میں فریق بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1156323"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید لطیف نے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1156323"&gt;پریس کانفرنس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے  خلاف مذہبی بنیادوں پر تشویش ناک الزامات عائد کیے تھے جسے پی ٹی وی نے براہ راست نشر کیا تھا اور بعدازاں  درخواست گزاروں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;19 ستمبر کو لاہور کے گرین ٹاؤن تھانے میں پولیس نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 9- 11 ایکس (3) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفعہ 9 کے تحت اگر کسی نے نفرت پھیلانے کے جرم میں 5 سال قید کی سزا سنائی جائے گی جبکہ دفعہ 11 ایکس (3) کے تحت مجمع کے دوران خطاب میں مذہبی، فرقہ وارانہ یا نسلی نفرت پر اکسانے کے لیے جرم میں 10 سال تک قید کی سزا سنائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شکایت کنندگان نے  کہا کہ جاوید لطیف کی پریس کانفرنس وزیراطلاعات مریم اورنگزیب اور درخواست گزار پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے مینجر ڈائریکٹر سہیل علی خان اور ڈائریکٹر نیوز مرزا راشد بیگ کی ملی بھگت سے پی ٹی وی پر نشر کی گئی، دوسری ایف آئی آر  پشاور کے ضلع رحمٰن بابا تھانے میں درج کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ ایک جرم میں متعدد ایف آئی آر کا اندراج ڈرانے دھمکانے کے مترادف ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1726950/multiple-firs-in-one-case-amount-to-intimidation">رپورٹ</a></strong> کے مطابق عدالت نے گزشتہ روز سیکریٹری اطلاعات و نشریات شاہرہ شاہد، پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے مینجر ڈائریکٹر سہیل علی خان اور ڈائریکٹر نیوز مرزا راشد بیگ کی جانب سے دائر درخواست پر تفصیلی حکم نامہ جاری کیا۔</p>
<p>لاہور اور پشاور میں انسداد دہشت گردی قانون کے تحت دو مقدمات درج کیے جانے کے بعد درخواست گزاروں نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193770"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے تفصیلی حکم نامے میں کہا کہ اسلام آباد کی حدود سے باہر درج کی گئی ایف آئی آر سپریم کورٹ کے حکم نامے کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>عدالت عظمیٰ نے ایم ایس ٹی صغراں بی بی اور ریاست کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک جرم کے خلاف صرف ایک ایف آئی آر درج کی جاسکتی ہے۔</p>
<p>جسٹس طارق محمود نے کہا کہ درخواست گزاروں کے ساتھ اسلام آباد کی حدود میں پیش آنے والے مبینہ واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا جبکہ لاہور اور پشاور میں درج کی گئی ایف آئی آر سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا  ’اختیارات کا غلط استعمال‘ گیا جس کی وجہ سے درخواست گزار ذہنی اذیت کے ساتھ ساتھ ہراسانی کا شکار ہوئے اور اپنی زندگی اور آزادی کے حوالے سے خوف میں مبتلا ہیں۔</p>
<p>عدالت نے نشاندہی کی کہ درخواست گزار اعلیٰ حکومتی افسران ہیں جو اپنی ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں جبکہ ایف آئی آر کے مواد اور الزامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام درخواست گزار دہشت گردی کے مرتکب نہیں ہیں۔</p>
<p>جس کے نتیجے میں عدالت نے لاہور اور پشاور میں درج ایف آئی آر کالعدم قرار دے دی اور پولیس کو مذکورہ کیس میں درخواست گزاروں کے خلاف ایف آئی کے اندراج سے روک دیا۔</p>
<p>عدالت نے درخواست گزاروں کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ شکایت کنندگان کو مقدمے میں فریق بنائیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1156323"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید لطیف نے <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1156323">پریس کانفرنس</a></strong> کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے  خلاف مذہبی بنیادوں پر تشویش ناک الزامات عائد کیے تھے جسے پی ٹی وی نے براہ راست نشر کیا تھا اور بعدازاں  درخواست گزاروں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے۔</p>
<p>19 ستمبر کو لاہور کے گرین ٹاؤن تھانے میں پولیس نے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 9- 11 ایکس (3) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔</p>
<p>دفعہ 9 کے تحت اگر کسی نے نفرت پھیلانے کے جرم میں 5 سال قید کی سزا سنائی جائے گی جبکہ دفعہ 11 ایکس (3) کے تحت مجمع کے دوران خطاب میں مذہبی، فرقہ وارانہ یا نسلی نفرت پر اکسانے کے لیے جرم میں 10 سال تک قید کی سزا سنائی جائے گی۔</p>
<p>شکایت کنندگان نے  کہا کہ جاوید لطیف کی پریس کانفرنس وزیراطلاعات مریم اورنگزیب اور درخواست گزار پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کے مینجر ڈائریکٹر سہیل علی خان اور ڈائریکٹر نیوز مرزا راشد بیگ کی ملی بھگت سے پی ٹی وی پر نشر کی گئی، دوسری ایف آئی آر  پشاور کے ضلع رحمٰن بابا تھانے میں درج کی گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1193969</guid>
      <pubDate>Sun, 18 Dec 2022 14:10:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/1812494304c71e6.png?r=125017" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/1812494304c71e6.png?r=125017"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
