<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 13:33:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 13:33:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: عدم ثبوت کی بنا پر عزیر بلوچ مزید دو مقدمات سے بری</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1193973/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر کالعدم پیپلز  امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کو مزید دو مقدماتسے بری کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1726871/uzair-baloch-acquitted-in-two-more-cases-for-lack-of-evidence"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق  گزشتہ روز (17 دسمبر کو) انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 7 کے جج نے سینٹرل جیل کے اندر جوڈیشل کمپلیکس میں مقدمے کی سماعت کی، جج نے دونوں فریقین کے شواہد اور حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ فیصلہ سنایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے لیاری میں سال 2012 کے دوران جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کے دوران پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے کے الزامات میں عزیر بلوچ اور ان کے دو ساتھیوں کو بری کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1181375"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروسیکیوشن کے مطابق عزیر بلوچ نے شریک ملزم شاہد عرف ایم سی بی اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ یکم مئی 2012 کو نیپیئر تھانے کی حدود میں گرفتاری کے لیے مارے گئے چھاپے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ملزمان نے اسلحہ اور تشدد کا سہارا لے کر علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ عدالت نے عزیر بلوچ کو کھارادر پولیس اسٹیشن میں درج اسی طرح کے ایک اور مقدمے میں بری کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروسیکیوشن نے الزام لگایا کہ پولیس نے لیاری میں گینگ وار میں ملوث مجرموں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تھا جہاں عزیر بلوچ اور ان کے ساتھیوں نے قتل کرنے کی نیت سے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو جرم کے ارتکاب پر سزا سنانے کے لیے کافی شواہد موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل دفاع عابد زمان نے موقف اختیار کیا کہ پروسیکیوشن کے شواہد میں واضح تضاد ہے اور ان کے موکل کے خلاف لگائے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1181375"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عزیر بلوچ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے  الزامات کی تردید تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ عزیر بلوچ کے خلاف نیپیئر اور کھارادر پولیس اسٹیشن میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 کے ساتھ تعزیرات پاکستان کی دفعات  324، 337، 427، 34 کے تحت دو  الگ الگ مقدمات درج تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیاری گینگ وار کے سربراہ عزیر بلوچ پر قتل، اقدام قتل، اغوا، ظلم و جبر، پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے سے متعلق درجنوں فوجداری مقدمات درج ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک عدم شواہد کی بنا پر عدالت نے عزیر بلوچ کو تقریباً  22 مقدمات سے بری کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر کالعدم پیپلز  امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کو مزید دو مقدماتسے بری کردیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1726871/uzair-baloch-acquitted-in-two-more-cases-for-lack-of-evidence">رپورٹ</a></strong> کے مطابق  گزشتہ روز (17 دسمبر کو) انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 7 کے جج نے سینٹرل جیل کے اندر جوڈیشل کمپلیکس میں مقدمے کی سماعت کی، جج نے دونوں فریقین کے شواہد اور حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ فیصلہ سنایا تھا۔</p>
<p>عدالت نے لیاری میں سال 2012 کے دوران جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کے دوران پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے کے الزامات میں عزیر بلوچ اور ان کے دو ساتھیوں کو بری کر دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1181375"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پروسیکیوشن کے مطابق عزیر بلوچ نے شریک ملزم شاہد عرف ایم سی بی اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ یکم مئی 2012 کو نیپیئر تھانے کی حدود میں گرفتاری کے لیے مارے گئے چھاپے کے دوران قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ کیا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ملزمان نے اسلحہ اور تشدد کا سہارا لے کر علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا تھا۔</p>
<p>اس کے علاوہ عدالت نے عزیر بلوچ کو کھارادر پولیس اسٹیشن میں درج اسی طرح کے ایک اور مقدمے میں بری کردیا۔</p>
<p>پروسیکیوشن نے الزام لگایا کہ پولیس نے لیاری میں گینگ وار میں ملوث مجرموں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تھا جہاں عزیر بلوچ اور ان کے ساتھیوں نے قتل کرنے کی نیت سے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی۔</p>
<p>سرکاری وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو جرم کے ارتکاب پر سزا سنانے کے لیے کافی شواہد موجود ہیں۔</p>
<p>وکیل دفاع عابد زمان نے موقف اختیار کیا کہ پروسیکیوشن کے شواہد میں واضح تضاد ہے اور ان کے موکل کے خلاف لگائے الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1181375"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عزیر بلوچ نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے  الزامات کی تردید تھی۔</p>
<p>خیال رہے کہ عزیر بلوچ کے خلاف نیپیئر اور کھارادر پولیس اسٹیشن میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 کے ساتھ تعزیرات پاکستان کی دفعات  324، 337، 427، 34 کے تحت دو  الگ الگ مقدمات درج تھے۔</p>
<p>لیاری گینگ وار کے سربراہ عزیر بلوچ پر قتل، اقدام قتل، اغوا، ظلم و جبر، پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے سے متعلق درجنوں فوجداری مقدمات درج ہیں۔</p>
<p>اب تک عدم شواہد کی بنا پر عدالت نے عزیر بلوچ کو تقریباً  22 مقدمات سے بری کردیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1193973</guid>
      <pubDate>Sun, 18 Dec 2022 16:43:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نعیم سہوترا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/18134030de39c14.png?r=134038" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/18134030de39c14.png?r=134038"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/18133947ecbcb05.jpg?r=133957" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/18133947ecbcb05.jpg?r=133957"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: حسین افضل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
