<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 13:18:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 13:18:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2 کروڑ سیلاب زدگان انسانی امداد پر انحصار کر رہے ہیں، شیری رحمٰن</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1194081/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ سیلاب کے بعد تباہ کاریوں کے نتیجے میں 2 کروڑ متاثرہ افراد آج بھی انسانی امداد کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1727244/20m-flood-hit-people-dependent-on-humanitarian-aid-sherry"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق شیری رحمٰن نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے 81 کروڑ 60 لاکھ ڈالر امداد میں سے صرف 30 فیصد امداد پاکستان کو موصول ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب کسی ملک کے لوگ بحالی اور کثیرالجہتی امداد پر انحصار کرتے ہیں تو ان کی بحالی کے لیے منصوبہ بندی کرنا آسان نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1186985"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیری رحمٰن نے اپنے بیان میں کہا کہ سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا لہٰذا بحالی اور تباہی کے بعد تعمیر نو کے لیے کم از کم 16 ارب 30 کروڑ ڈالر امداد کی ضرورت ہے، اس میں ماحولیاتی تبدیلی اور مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے سرمایہ کاری کے لیے امداد شامل نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ 84 سے 91 افراد غربت کی لکیر سے نیچے جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر موسمیاتی تبدیلی نے مزید کہا کہ موسم سرما میں سیلاب زدگان کے لیے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ متاثرین کی تعداد تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ ہے جس کا مطلب ہے کہ ہم ایک ہی وقت میں درمیانے درجے کے تین یورپی ممالک کی آبادی کی زندگی کو بحال کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’سیلاب زدگان کی انسانی بحالی کے کئی ماہ بعد بھی دسمبر 2022 سے مارچ 2023 تک ایک کروڑ 46 لاکھ افراد کو فوری خوراک کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سندھ میں 39 لاکھ اور بلوچستان میں 16 لاکھ لوگوں کو خوراک کے شدید عدم تحفظ کا سامنا ہے، جبکہ 55 لاکھ افراد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1189573"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ سیلاب کے بعد تباہ کاریوں میں سب سے زیادہ بچے متاثر ہوئے ہیں، 2 کروڑ سیلاب زدگان میں سے 96 لاکھ بچوں کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’موسم سرما میں کیمپ میں بچوں کی زندگی خطرے میں ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیری رحمٰن نے تمام مخیر حضرات اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کا بوجھ کم کرنے میں صوبائی حکومتوں کی مدد کریں، انہوں نے کہا کہ 16 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور 70 لاکھ بچوں کو فوری غذائیت اور خوراک کے شدید ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایک لاکھ سے زائد بچے ویکسین سے محروم ہیں جو پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں  کے لیے خوفناک ثابت ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیلاب سے 34 ہزار سے زائد اسکولوں کو شدید نقصان پہنچا جس کے باعث 20 لاکھ سے زائد بچے اسکول نہیں جارہے جن میں لڑکیوں کی تعلیم شدید متاثر ہوئی، جس کے نتیجے ان بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ سیلاب کے بعد تباہ کاریوں کے نتیجے میں 2 کروڑ متاثرہ افراد آج بھی انسانی امداد کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1727244/20m-flood-hit-people-dependent-on-humanitarian-aid-sherry">رپورٹ</a></strong> کے مطابق شیری رحمٰن نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے 81 کروڑ 60 لاکھ ڈالر امداد میں سے صرف 30 فیصد امداد پاکستان کو موصول ہوئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب کسی ملک کے لوگ بحالی اور کثیرالجہتی امداد پر انحصار کرتے ہیں تو ان کی بحالی کے لیے منصوبہ بندی کرنا آسان نہیں ہوتا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1186985"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>شیری رحمٰن نے اپنے بیان میں کہا کہ سیلاب سے 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا لہٰذا بحالی اور تباہی کے بعد تعمیر نو کے لیے کم از کم 16 ارب 30 کروڑ ڈالر امداد کی ضرورت ہے، اس میں ماحولیاتی تبدیلی اور مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے سرمایہ کاری کے لیے امداد شامل نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ 84 سے 91 افراد غربت کی لکیر سے نیچے جاسکتے ہیں۔</p>
<p>وزیر موسمیاتی تبدیلی نے مزید کہا کہ موسم سرما میں سیلاب زدگان کے لیے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ متاثرین کی تعداد تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ ہے جس کا مطلب ہے کہ ہم ایک ہی وقت میں درمیانے درجے کے تین یورپی ممالک کی آبادی کی زندگی کو بحال کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’سیلاب زدگان کی انسانی بحالی کے کئی ماہ بعد بھی دسمبر 2022 سے مارچ 2023 تک ایک کروڑ 46 لاکھ افراد کو فوری خوراک کی ضرورت ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سندھ میں 39 لاکھ اور بلوچستان میں 16 لاکھ لوگوں کو خوراک کے شدید عدم تحفظ کا سامنا ہے، جبکہ 55 لاکھ افراد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1189573"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ سیلاب کے بعد تباہ کاریوں میں سب سے زیادہ بچے متاثر ہوئے ہیں، 2 کروڑ سیلاب زدگان میں سے 96 لاکھ بچوں کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’موسم سرما میں کیمپ میں بچوں کی زندگی خطرے میں ہے۔‘</p>
<p>شیری رحمٰن نے تمام مخیر حضرات اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کا بوجھ کم کرنے میں صوبائی حکومتوں کی مدد کریں، انہوں نے کہا کہ 16 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور 70 لاکھ بچوں کو فوری غذائیت اور خوراک کے شدید ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایک لاکھ سے زائد بچے ویکسین سے محروم ہیں جو پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں  کے لیے خوفناک ثابت ہوسکتا ہے۔</p>
<p>سیلاب سے 34 ہزار سے زائد اسکولوں کو شدید نقصان پہنچا جس کے باعث 20 لاکھ سے زائد بچے اسکول نہیں جارہے جن میں لڑکیوں کی تعلیم شدید متاثر ہوئی، جس کے نتیجے ان بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1194081</guid>
      <pubDate>Tue, 20 Dec 2022 14:59:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (قلب علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/201402393620ded.png?r=150033" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/201402393620ded.png?r=150033"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
