<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 11:22:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 11:22:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنوں سی ٹی ڈی کمپلیکس کلیئر، سیکیورٹی فورسز کا بھرپور آپریشن، 25 دہشتگرد ہلاک، ترجمان پاک فوج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1194085/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل احمد شریف چوہدری  نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بنوں میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے کمپلیکس میں بھرپور آپریشن کیا، آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں 25 دہشت گرد مارے گئے، 3 گرفتار ہوئے اور 7 نے سرنڈر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیو نیوز کے پروگرام ’آپس کی بات ’ میں گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ 18 دسمبر 2022 کو بنوں میں سی ٹی ڈی کمپلیکس میں 35 دہشت گرد زیر تفتیش تھے، ان میں سے ایک نے سی ٹی ڈی کے ایک جوان کو قابو میں کرکے اس کا ہتھیار چھینا، اور اپنے دیگر زیر تفتیش ساتھیوں کو آزاد کروالیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ  ان لوگوں (دہشت گردوں) نے سی ٹی ڈی کمپلیکس میں موجود مال خانے میں جو ضبط شدہ ہتھیار ہیں، ان کو اپنے قابو میں لیا اور فائرنگ کرکے سی ٹی ڈی کے ایک سپاہی کو شہید کر دیا جبکہ ایک زخمی ہو گیا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میجر جنرل احمد شریف نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کا ایک جے سی او ایس ایم خورشید جو تفتیش کے لیے سی ٹی ڈی میں موجود تھے، انہیں یرغمال بنا لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ فائرنگ کی آواز سنتے ہی سیکیورٹی  فورسز وہاں پہنچیں اور انہوں نے کمپلیکس کا محاصرہ کر لیا، جو دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، اس دوران دو دہشت گرد مارے گئے جبکہ تین دہشت گرد جو فرار ہونا چاہتے تھے، وہ گرفتار ہو گئے، اس دوران سیکیورٹی فورسز کے دو جوان بھی زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193087"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان افواج پاکستان نے مزید کہا کہ اس کے بعد وہاں پر جو فورسز تھیں، انہوں نے پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا، دہشت گردوں نے وہاں سے فرار ہونے کی جو بھی کوشش کی، وہ ناکام بنا دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 48 گھنٹے میں بھرپور کوشش کی گئی کہ دہشت گرد بلامشروط سرنڈر کردیں جبکہ جو دہشت گرد افغانستان جانے کے لیے محفوظ راستہ مانگ رہے تھے، دہشت گردوں کے اس مطالبے کو مکمل طور پر رد کیا گیا، اور یہ بتا دیا گیا کہ اس طرح کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ چونکہ وہ وہاں سے بلامشروط سرنڈر ہونے اور کسی صورت میں ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں تھے، تو آج سیکیورٹی فورسز نے سی ٹی ڈی کمپلیکس پر بھرپور آپریشن شروع کیا، آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، اور مرحلہ وار کمروں کی کلیئرنس کی گئی ، اس دوران ہمارے جوان انتہائی بہادری سے لڑے، اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں 25 دہشت گرد مارے گئے، 3 گرفتار ہوئے، اس دوران 7 دہشتگردوں نے سرنڈر کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پوری کارروائی میں صوبیدار میجر خورشید اکرم جنہیں یرغمال بنایا ہوا تھے، وہ بھی بڑی بہادری سے لڑے اور شہادت کا مرتبہ حاصل کیا، ان کے ساتھ سپاہی سعید اور سپاہی بابر بھی پاکستان اور اپنے وطن پر قربان ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ دوران آپریشن سیکیورٹی فورسز کے تین افسران سمیت 10 جوان زخمی بھی ہوئے، انہوں نے کہا کہ یہ جو آپریشن ہے، یہ افواج پاکستان کی ہمت، دلیری، عزم اور دہشت گردی کے خاتمے کے خلاف ہماری جنگ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="افواج-پاکستان-دہشت-گردی-کے-ناسور-کو-جڑ-سے-اکھاڑ-دینے-کے-لیے-پرعزم-ہے" href="#افواج-پاکستان-دہشت-گردی-کے-ناسور-کو-جڑ-سے-اکھاڑ-دینے-کے-لیے-پرعزم-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’افواج پاکستان دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ دینے کے  لیے پرعزم ہے‘&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی تائید اور پورے یقین کے ساتھ ریاست کی رٹ قائم کرنے اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ دینے کے  لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، اور ہمارے شہدا کی عظیم قربانی ہے، ہمارے ہمت اور حوصلے کو مزید بڑھاتی ہے، اور ہمارے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ میں ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان افواج پاکستان نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اس سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ یہ آپریشن کیسے لڑا گیا، اور کس طرح آج ہماری عظیم افواج کے  بہادر سپوتوں نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193996"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان سے سوال پوچھا گیا کہ اس حوالے سے ہر پاکستانی کو تشویش بھی ہے اور وہ آپ کی طرف سے جاننا بھی چاہتا ہے کہ کچھ خدشات ہیں کہ خدانخواستہ یہ دہشت گردی پاکستان میں پھر سر اٹھا رہی ہے، وہ امن جو بہت ہی قربانیوں کےبعد پاکستان کی مسلح افواج نے دلوایا، جس میں سپاہیوں کے ساتھ افسران نے بھی شہادت پائی، کیا پاکستان کی افواج کوئی ضرورت محسوس کررہی ہے کہ کوئی دوبارہ کوئی آپریشن کرنا پڑے گا ایسے گروپس کے خلاف جو دوبارہ منظم ہو رہے ہیں یا جو پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین کو استعمال کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سوال کے جواب میں میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ آپ کے توسط سے یہ بات بتانا چاہوں گا کہ جیسے آپ نے کہا کہ یہ عظیم قربانیوں کا ایک بڑا پرانا سلسلہ ہے، جو افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف دے رہی ہیں، ہمارا عزم اس پر مکمل قائم ہے، اور جو دہشت گردی کی تازہ ہوا نظر آتی ہے کہ یہ چل رہی ہے، جو بھی ہمارے خلاف آئے گا اس کو ہم سر سے کچلنے کی پوری ہمت اور ارادہ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ  مغربی سائیڈ سے دہشت گردی کی جو بھی ہوا چلی ہے، اس کو افواج پاکستان اور قانون فافذ کرنے والے ادارے کسی صورت بھی ابھرنے نہیں دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان سے پوچھا گیا کہ ایک تاثر تھا، متضاد خبریں بھی آرہی تھیں کہ کچھ لوگ باہر سے آئے ہیں، اور ان کی وجہ سے دہشت گردی ہوئی؟ اس سوال کے جواب میں میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ اندر جو زیر تفتیش لوگ تھے، یہ انہی نے سی ٹی ڈی کے جو سپاہی اور جوان تھے، ان کو قابو کر کے یہ صورتحال پیدا کی،  باہر سے کوئی حملہ نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیا افغان حکومت سے رابطے کیے جارہے ہیں کہ وہ اپنی زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس بارے میں انتہائی سنجیدہ ہے اور افواج پاکستان بھی بہت سنجیدہ ہے، اس کے لیے جو اقدامات حکومت نے کرنے  ہیں وہ حکومت کررہی ہے اور جو افواج پاکستان نے کرنے ہیں، وہ ہم کررہے ہیں، سرحد سے شہروں تک حفاظت کی جارہی ہے، اسی طرح انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیے جارہے ہیں،  ہر لیول پر  مکمل طور پر  تمام سرکاری ایجنسیاں اور ادارے متحرک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="دو-سیکیورٹی-اہلکار-شہید-تمام-دہشت-گرد-ہلاک-ہوگئے-خواجہ-آصف" href="#دو-سیکیورٹی-اہلکار-شہید-تمام-دہشت-گرد-ہلاک-ہوگئے-خواجہ-آصف" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;دو سیکیورٹی اہلکار شہید، تمام دہشت گرد ہلاک ہوگئے، خواجہ آصف&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;آج صبح وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے بنوں میں سی ٹی ڈی کے مرکز میں کارروائی کرکے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے کمپاؤنڈ واگزار کرا لیا جہاں تمام دہشت گرد مارے گئے جبکہ 2 سیکیورٹی اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران بنوں میں سی ٹی ڈی میں دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ کلیئر کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بنوں میں اُس وقت 33 دہشت گرد گرفتار تھے، ان میں سے ایک دہشت گرد بیت الخلا کی طرف جارہا تھا تو ایک اہلکار کے سر پر اینٹ مار کر اس سے اسلحہ چھین لیا، اس کے بعد انہوں نے عملے کو یرغمال بنایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ 20 دسمبر کو ساڑھے بارہ بجے ایس ایس جی نے یہ آپریشن شروع کیا، اس آپریشن میں تمام دہشت گرد مارے گئے، اور آج ڈھائی بجے سی ٹی ڈی کا سارا کمپاؤنڈ کلیئر کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://instagram.com/reel/CmY-kpqMM1D/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=0624b0db-f114-41e0-9876-d15f4cc35d82" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://instagram.com/reel/CmY-kpqMM1D/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=0624b0db-f114-41e0-9876-d15f4cc35d82" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt;&lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;&lt;a href="https://instagram.com/reel/CmY-kpqMM1D/?utm_source=ig_embed&amp;amp;ig_rid=0624b0db-f114-41e0-9876-d15f4cc35d82" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;script async src="https://www.instagram.com/embed.js"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف نے کہا کہ کارروائی میں شامل ایک افسر سمیت ایس ایس جی کے 10 سے 15 جوان زخمی ہوئے ہیں، اس کے علاوہ 2 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے اور  تمام یرغمالیوں کو چھڑوا لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی خصوصاً خیبرپختونخوا میں دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، واقعات دوسرے صوبوں میں بھی ہوئے ہیں لیکن وہاں پر بڑے واضح ثبوت مل رہے ہیں کہ دہشت گرد سرحد پار یا پھر مقامی سطح پر سر اٹھا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ 33 دہشت گرد اسی سلسلے میں وہاں پکڑے گئے تھے، ان کا تعلق مختلف گروہوں سے تھا، اس سلسلے میں سی ٹی ڈی جو ایک صوبائی ذمہ داری تھی، اس میں صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پوری صوبائی حکومت عمران خان کے پاس یرغمال بنی ہوئی ہے، خیبرپختونخوا میں بے گناہ افراد یرغمال بنے ہوئے ہیں اور عمران خان نے حکومت کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ 9 سال سے ان کی وہاں حکومت ہے، وہاں جب بھی کوئی مشکل وقت آیا ہے، وہاں پر سیلاب آیا تب بھی وہ ناکام ہوئے اور اب بھی یہ ناکامی ہے، جو گزشتہ تین دن سے وہاں پر سلسلہ چل رہا تھا، بالآخر ہماری افواج نے وہاں پر یرغمال افراد کو رہا کروایا، دہشت گرد بھی مارے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ  وہاں اس بحران کے خاتمے کے لیے افواج نے قربانیاں بھی دی ہیں، اس میں صوبائی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے فنڈز اور ہیلی کاپٹر عمران خان استعمال کرتا ہے، چار بھائی پتھروں پر کھڑے رہے اور سیلاب کی نذر ہوگئے لیکن وہاں پر ہیلی کاپٹر نہ پہنچا اور وہ شخص خواب دیکھ رہا ہے کہ  اس ملک پر دوبارہ حکمرانی کرے گا تاکہ اگر تباہی میں کوئی کسر رہ گئی ہے تو اسے پوری کرسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے حکمران کہاں ہیں؟ وہاں پر بحران تھا اور وزیراعلیٰ عمران خان کا یرغمال بنا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے مختصر بیان میں کہا کہ آپریشن کے حوالے تفصیلات بہت جلد جاری کردی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواجہ آصف کے بیان کے بعد ڈان ڈاٹ کام کو سینئر پولیس افسر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کیا کہ آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اتوار کو بنوں میں محکمہ انسداد دہشت گردی کی عمارت میں زیر حراست دہشت گردوں نے عمارت کو قبضے میں لے لیا تھا اور اپنی باحفاظت افغانستان منتقلی کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے زیر انتظام چلائے جانے والے حراستی مرکز میں عسکریت پسند لاک اَپ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے اور سیکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکیورٹی فورسز نے آج صبح دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا اور ٹی وی پر نشر ہونے والی فوٹیج میں سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ سے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘  نے مقامی لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے مرکز کے اطراف سے دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/taahir_khan/status/1605116533348630529"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کو بھی بنوں میں آپریشن جاری ہونے کی تصدیق ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز بھی بنوں میں صورت حال کشیدہ رہی جب پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے کینٹ ایریا کو سیل کر دیا اور مکینوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی تھی، اس کے علاوہ علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی معطل کردی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت پاکستان میں دہشت گردوں کے حملوں میں تیزی کی لہر کے دوران دیکھنے میں آئی،  اتوار کو بنوں ڈویژن کے ضلع لکی مروت میں رات گئے ایک پولیس اسٹیشن پر دہشت گردوں کے حملے میں 4 پولیس اہلکار شہید اور 4 زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز بھی پشاور میں انٹیلی جنس بیورو کے سب انسپکٹر کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا جب کہ شمالی وزیرستان میں خودکش حملے میں ایک فوجی اہلکار اور دو شہری شہید ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بلوچستان میں گزشتہ روز خضدار میں یکے بعد دیگرے 2 بم دھماکوں میں 20 افراد زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="ٹی-ٹی-پی-نے-ذمہ-داری-قبول-کرلی" href="#ٹی-ٹی-پی-نے-ذمہ-داری-قبول-کرلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول کرلی&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے کمپاؤنڈ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی تھی، ایک بیان میں ترجمان ٹی ٹی پی نے کہا کہ اس کے ارکان نے سی ٹی ڈی کے عملے اور سیکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عسکریت پسند گروپ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ہمارے لوگوں نے اپنے ویڈیو بیان میں محفوظ راستے کا مطالبہ کیا لیکن غلطی سے افغانستان کا ذکر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے رات بھر سرکاری حکام سے بات چیت اور مذاکرات کیے اور ان سے کہا کہ وہ قیدیوں کو جنوبی یا شمالی وزیرستان منتقل کریں لیکن افسوس کا اظہار کیا کہ تاحال اس سلسلے میں کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیر قبضہ سی ٹی ڈی سینٹر کے اندر موجود عسکریت پسندوں نے کئی ویڈیوز بھی جاری کیں جن میں بنوں کے لوگوں، خاص طور پر علما سے کہا گیا کہ وہ عسکریت پسندوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعطل کو  بات چیت کے ذریعے ختم کروانے میں کردار ادا کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ویڈیو کلپ میں زیر حراست شخص نے خود کو ’بے گناہ‘ قرار دیا اور کہا کہ طالبان عسکریت پسندوں کی جانب سے یرغمال بنائے گئے افراد میں کئی دیگر بے گناہ بھی کمپاؤنڈ کے اندر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194021"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور ویڈیو کلپ میں مبینہ طور پر ایک عسکریت پسند نے ایک سیکیورٹی اہلکار پر بندوق تان کر اسے  پکڑ رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مبینہ عسکریت پسندوں نے افغانستان جانے کے لیے محفوظ راستہ دینے کا مطالبہ کیا اور مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں سنگین نتائج سے خبردار کیا، ایک اور مبینہ عسکریت پسند کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ان کی قید میں 8 سے 10 سیکیورٹی اہلکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فدائین کے نام سے مشہور ان کے وہ 35 ساتھی جنہیں حراست میں لیا گیا تھا، وہ آزاد ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فضائی راستے سے ان کی افغانستان روانگی یقینی بنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جیل توڑ دی ہے اور سیکیورٹی اہلکار ہماری قید میں ہیں اور اگر ہمیں محفوظ راستہ فراہم کیا گیا تو انہیں باحفاظت رہا کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل احمد شریف چوہدری  نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بنوں میں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے کمپلیکس میں بھرپور آپریشن کیا، آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں 25 دہشت گرد مارے گئے، 3 گرفتار ہوئے اور 7 نے سرنڈر کیا۔</p>
<p>جیو نیوز کے پروگرام ’آپس کی بات ’ میں گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ 18 دسمبر 2022 کو بنوں میں سی ٹی ڈی کمپلیکس میں 35 دہشت گرد زیر تفتیش تھے، ان میں سے ایک نے سی ٹی ڈی کے ایک جوان کو قابو میں کرکے اس کا ہتھیار چھینا، اور اپنے دیگر زیر تفتیش ساتھیوں کو آزاد کروالیا۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ  ان لوگوں (دہشت گردوں) نے سی ٹی ڈی کمپلیکس میں موجود مال خانے میں جو ضبط شدہ ہتھیار ہیں، ان کو اپنے قابو میں لیا اور فائرنگ کرکے سی ٹی ڈی کے ایک سپاہی کو شہید کر دیا جبکہ ایک زخمی ہو گیا جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا۔</p>
<p>میجر جنرل احمد شریف نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز کا ایک جے سی او ایس ایم خورشید جو تفتیش کے لیے سی ٹی ڈی میں موجود تھے، انہیں یرغمال بنا لیا گیا۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ فائرنگ کی آواز سنتے ہی سیکیورٹی  فورسز وہاں پہنچیں اور انہوں نے کمپلیکس کا محاصرہ کر لیا، جو دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، اس دوران دو دہشت گرد مارے گئے جبکہ تین دہشت گرد جو فرار ہونا چاہتے تھے، وہ گرفتار ہو گئے، اس دوران سیکیورٹی فورسز کے دو جوان بھی زخمی ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193087"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ترجمان افواج پاکستان نے مزید کہا کہ اس کے بعد وہاں پر جو فورسز تھیں، انہوں نے پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا، دہشت گردوں نے وہاں سے فرار ہونے کی جو بھی کوشش کی، وہ ناکام بنا دی گئی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 48 گھنٹے میں بھرپور کوشش کی گئی کہ دہشت گرد بلامشروط سرنڈر کردیں جبکہ جو دہشت گرد افغانستان جانے کے لیے محفوظ راستہ مانگ رہے تھے، دہشت گردوں کے اس مطالبے کو مکمل طور پر رد کیا گیا، اور یہ بتا دیا گیا کہ اس طرح کا کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔</p>
<p>میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ چونکہ وہ وہاں سے بلامشروط سرنڈر ہونے اور کسی صورت میں ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں تھے، تو آج سیکیورٹی فورسز نے سی ٹی ڈی کمپلیکس پر بھرپور آپریشن شروع کیا، آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، اور مرحلہ وار کمروں کی کلیئرنس کی گئی ، اس دوران ہمارے جوان انتہائی بہادری سے لڑے، اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں 25 دہشت گرد مارے گئے، 3 گرفتار ہوئے، اس دوران 7 دہشتگردوں نے سرنڈر کر دیا۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پوری کارروائی میں صوبیدار میجر خورشید اکرم جنہیں یرغمال بنایا ہوا تھے، وہ بھی بڑی بہادری سے لڑے اور شہادت کا مرتبہ حاصل کیا، ان کے ساتھ سپاہی سعید اور سپاہی بابر بھی پاکستان اور اپنے وطن پر قربان ہوئے۔</p>
<p>میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ دوران آپریشن سیکیورٹی فورسز کے تین افسران سمیت 10 جوان زخمی بھی ہوئے، انہوں نے کہا کہ یہ جو آپریشن ہے، یہ افواج پاکستان کی ہمت، دلیری، عزم اور دہشت گردی کے خاتمے کے خلاف ہماری جنگ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
<h4><a id="افواج-پاکستان-دہشت-گردی-کے-ناسور-کو-جڑ-سے-اکھاڑ-دینے-کے-لیے-پرعزم-ہے" href="#افواج-پاکستان-دہشت-گردی-کے-ناسور-کو-جڑ-سے-اکھاڑ-دینے-کے-لیے-پرعزم-ہے" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’افواج پاکستان دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ دینے کے  لیے پرعزم ہے‘</h4>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی تائید اور پورے یقین کے ساتھ ریاست کی رٹ قائم کرنے اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ دینے کے  لیے مکمل طور پر پرعزم ہے، اور ہمارے شہدا کی عظیم قربانی ہے، ہمارے ہمت اور حوصلے کو مزید بڑھاتی ہے، اور ہمارے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ میں ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔</p>
<p>ترجمان افواج پاکستان نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اس سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ یہ آپریشن کیسے لڑا گیا، اور کس طرح آج ہماری عظیم افواج کے  بہادر سپوتوں نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193996"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان سے سوال پوچھا گیا کہ اس حوالے سے ہر پاکستانی کو تشویش بھی ہے اور وہ آپ کی طرف سے جاننا بھی چاہتا ہے کہ کچھ خدشات ہیں کہ خدانخواستہ یہ دہشت گردی پاکستان میں پھر سر اٹھا رہی ہے، وہ امن جو بہت ہی قربانیوں کےبعد پاکستان کی مسلح افواج نے دلوایا، جس میں سپاہیوں کے ساتھ افسران نے بھی شہادت پائی، کیا پاکستان کی افواج کوئی ضرورت محسوس کررہی ہے کہ کوئی دوبارہ کوئی آپریشن کرنا پڑے گا ایسے گروپس کے خلاف جو دوبارہ منظم ہو رہے ہیں یا جو پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین کو استعمال کر رہے ہیں۔</p>
<p>اس سوال کے جواب میں میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ آپ کے توسط سے یہ بات بتانا چاہوں گا کہ جیسے آپ نے کہا کہ یہ عظیم قربانیوں کا ایک بڑا پرانا سلسلہ ہے، جو افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف دے رہی ہیں، ہمارا عزم اس پر مکمل قائم ہے، اور جو دہشت گردی کی تازہ ہوا نظر آتی ہے کہ یہ چل رہی ہے، جو بھی ہمارے خلاف آئے گا اس کو ہم سر سے کچلنے کی پوری ہمت اور ارادہ رکھتے ہیں۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ  مغربی سائیڈ سے دہشت گردی کی جو بھی ہوا چلی ہے، اس کو افواج پاکستان اور قانون فافذ کرنے والے ادارے کسی صورت بھی ابھرنے نہیں دے گی۔</p>
<p>ان سے پوچھا گیا کہ ایک تاثر تھا، متضاد خبریں بھی آرہی تھیں کہ کچھ لوگ باہر سے آئے ہیں، اور ان کی وجہ سے دہشت گردی ہوئی؟ اس سوال کے جواب میں میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ اندر جو زیر تفتیش لوگ تھے، یہ انہی نے سی ٹی ڈی کے جو سپاہی اور جوان تھے، ان کو قابو کر کے یہ صورتحال پیدا کی،  باہر سے کوئی حملہ نہیں ہوا۔</p>
<p>کیا افغان حکومت سے رابطے کیے جارہے ہیں کہ وہ اپنی زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس بارے میں انتہائی سنجیدہ ہے اور افواج پاکستان بھی بہت سنجیدہ ہے، اس کے لیے جو اقدامات حکومت نے کرنے  ہیں وہ حکومت کررہی ہے اور جو افواج پاکستان نے کرنے ہیں، وہ ہم کررہے ہیں، سرحد سے شہروں تک حفاظت کی جارہی ہے، اسی طرح انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیے جارہے ہیں،  ہر لیول پر  مکمل طور پر  تمام سرکاری ایجنسیاں اور ادارے متحرک ہیں۔</p>
<h4><a id="دو-سیکیورٹی-اہلکار-شہید-تمام-دہشت-گرد-ہلاک-ہوگئے-خواجہ-آصف" href="#دو-سیکیورٹی-اہلکار-شہید-تمام-دہشت-گرد-ہلاک-ہوگئے-خواجہ-آصف" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>دو سیکیورٹی اہلکار شہید، تمام دہشت گرد ہلاک ہوگئے، خواجہ آصف</h4>
<p>آج صبح وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے بنوں میں سی ٹی ڈی کے مرکز میں کارروائی کرکے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے کمپاؤنڈ واگزار کرا لیا جہاں تمام دہشت گرد مارے گئے جبکہ 2 سیکیورٹی اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔</p>
<p>وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے دوران بنوں میں سی ٹی ڈی میں دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ کلیئر کردیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بنوں میں اُس وقت 33 دہشت گرد گرفتار تھے، ان میں سے ایک دہشت گرد بیت الخلا کی طرف جارہا تھا تو ایک اہلکار کے سر پر اینٹ مار کر اس سے اسلحہ چھین لیا، اس کے بعد انہوں نے عملے کو یرغمال بنایا تھا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ 20 دسمبر کو ساڑھے بارہ بجے ایس ایس جی نے یہ آپریشن شروع کیا، اس آپریشن میں تمام دہشت گرد مارے گئے، اور آج ڈھائی بجے سی ٹی ڈی کا سارا کمپاؤنڈ کلیئر کر دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--instagram  media__item--relative'><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://instagram.com/reel/CmY-kpqMM1D/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=0624b0db-f114-41e0-9876-d15f4cc35d82" data-instgrm-version="13" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:540px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://instagram.com/reel/CmY-kpqMM1D/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=0624b0db-f114-41e0-9876-d15f4cc35d82" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div> <div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center; margin-bottom: 24px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 224px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 144px;"></div></div></a><p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"><a href="https://instagram.com/reel/CmY-kpqMM1D/?utm_source=ig_embed&amp;ig_rid=0624b0db-f114-41e0-9876-d15f4cc35d82" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none;" target="_blank"></a></p></div></blockquote><script async src="https://www.instagram.com/embed.js"></script></div>
        
    </figure></p>
<p>خواجہ آصف نے کہا کہ کارروائی میں شامل ایک افسر سمیت ایس ایس جی کے 10 سے 15 جوان زخمی ہوئے ہیں، اس کے علاوہ 2 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے اور  تمام یرغمالیوں کو چھڑوا لیا گیا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اس کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ دہشت گردی خصوصاً خیبرپختونخوا میں دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، واقعات دوسرے صوبوں میں بھی ہوئے ہیں لیکن وہاں پر بڑے واضح ثبوت مل رہے ہیں کہ دہشت گرد سرحد پار یا پھر مقامی سطح پر سر اٹھا رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ 33 دہشت گرد اسی سلسلے میں وہاں پکڑے گئے تھے، ان کا تعلق مختلف گروہوں سے تھا، اس سلسلے میں سی ٹی ڈی جو ایک صوبائی ذمہ داری تھی، اس میں صوبائی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے۔</p>
<p>وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پوری صوبائی حکومت عمران خان کے پاس یرغمال بنی ہوئی ہے، خیبرپختونخوا میں بے گناہ افراد یرغمال بنے ہوئے ہیں اور عمران خان نے حکومت کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ 9 سال سے ان کی وہاں حکومت ہے، وہاں جب بھی کوئی مشکل وقت آیا ہے، وہاں پر سیلاب آیا تب بھی وہ ناکام ہوئے اور اب بھی یہ ناکامی ہے، جو گزشتہ تین دن سے وہاں پر سلسلہ چل رہا تھا، بالآخر ہماری افواج نے وہاں پر یرغمال افراد کو رہا کروایا، دہشت گرد بھی مارے گئے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ  وہاں اس بحران کے خاتمے کے لیے افواج نے قربانیاں بھی دی ہیں، اس میں صوبائی حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔</p>
<p>خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے فنڈز اور ہیلی کاپٹر عمران خان استعمال کرتا ہے، چار بھائی پتھروں پر کھڑے رہے اور سیلاب کی نذر ہوگئے لیکن وہاں پر ہیلی کاپٹر نہ پہنچا اور وہ شخص خواب دیکھ رہا ہے کہ  اس ملک پر دوبارہ حکمرانی کرے گا تاکہ اگر تباہی میں کوئی کسر رہ گئی ہے تو اسے پوری کرسکے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے حکمران کہاں ہیں؟ وہاں پر بحران تھا اور وزیراعلیٰ عمران خان کا یرغمال بنا ہوا تھا۔</p>
<p>دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے مختصر بیان میں کہا کہ آپریشن کے حوالے تفصیلات بہت جلد جاری کردی جائیں گی۔</p>
<p>خواجہ آصف کے بیان کے بعد ڈان ڈاٹ کام کو سینئر پولیس افسر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کیا کہ آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ اتوار کو بنوں میں محکمہ انسداد دہشت گردی کی عمارت میں زیر حراست دہشت گردوں نے عمارت کو قبضے میں لے لیا تھا اور اپنی باحفاظت افغانستان منتقلی کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p>خیبرپختونخوا پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے زیر انتظام چلائے جانے والے حراستی مرکز میں عسکریت پسند لاک اَپ سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے تھے اور سیکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔</p>
<p>سیکیورٹی فورسز نے آج صبح دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا اور ٹی وی پر نشر ہونے والی فوٹیج میں سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ سے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘  نے مقامی لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے مرکز کے اطراف سے دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/taahir_khan/status/1605116533348630529"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کو بھی بنوں میں آپریشن جاری ہونے کی تصدیق ہوئی۔</p>
<p>گزشتہ روز بھی بنوں میں صورت حال کشیدہ رہی جب پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے کینٹ ایریا کو سیل کر دیا اور مکینوں کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی تھی، اس کے علاوہ علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بھی معطل کردی گئی تھی۔</p>
<p>یہ پیش رفت پاکستان میں دہشت گردوں کے حملوں میں تیزی کی لہر کے دوران دیکھنے میں آئی،  اتوار کو بنوں ڈویژن کے ضلع لکی مروت میں رات گئے ایک پولیس اسٹیشن پر دہشت گردوں کے حملے میں 4 پولیس اہلکار شہید اور 4 زخمی ہوگئے تھے۔</p>
<p>گزشتہ روز بھی پشاور میں انٹیلی جنس بیورو کے سب انسپکٹر کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا جب کہ شمالی وزیرستان میں خودکش حملے میں ایک فوجی اہلکار اور دو شہری شہید ہوئے۔</p>
<p>دوسری جانب بلوچستان میں گزشتہ روز خضدار میں یکے بعد دیگرے 2 بم دھماکوں میں 20 افراد زخمی ہوئے تھے۔</p>
<h4><a id="ٹی-ٹی-پی-نے-ذمہ-داری-قبول-کرلی" href="#ٹی-ٹی-پی-نے-ذمہ-داری-قبول-کرلی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ٹی ٹی پی نے ذمہ داری قبول کرلی</h4>
<p>کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے کمپاؤنڈ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی تھی، ایک بیان میں ترجمان ٹی ٹی پی نے کہا کہ اس کے ارکان نے سی ٹی ڈی کے عملے اور سیکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنایا۔</p>
<p>عسکریت پسند گروپ کے ترجمان نے مزید کہا کہ ہمارے لوگوں نے اپنے ویڈیو بیان میں محفوظ راستے کا مطالبہ کیا لیکن غلطی سے افغانستان کا ذکر کیا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے رات بھر سرکاری حکام سے بات چیت اور مذاکرات کیے اور ان سے کہا کہ وہ قیدیوں کو جنوبی یا شمالی وزیرستان منتقل کریں لیکن افسوس کا اظہار کیا کہ تاحال اس سلسلے میں کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا۔</p>
<p>زیر قبضہ سی ٹی ڈی سینٹر کے اندر موجود عسکریت پسندوں نے کئی ویڈیوز بھی جاری کیں جن میں بنوں کے لوگوں، خاص طور پر علما سے کہا گیا کہ وہ عسکریت پسندوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعطل کو  بات چیت کے ذریعے ختم کروانے میں کردار ادا کریں۔</p>
<p>ایک اور ویڈیو کلپ میں زیر حراست شخص نے خود کو ’بے گناہ‘ قرار دیا اور کہا کہ طالبان عسکریت پسندوں کی جانب سے یرغمال بنائے گئے افراد میں کئی دیگر بے گناہ بھی کمپاؤنڈ کے اندر موجود ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194021"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک اور ویڈیو کلپ میں مبینہ طور پر ایک عسکریت پسند نے ایک سیکیورٹی اہلکار پر بندوق تان کر اسے  پکڑ رکھا ہے۔</p>
<p>مبینہ عسکریت پسندوں نے افغانستان جانے کے لیے محفوظ راستہ دینے کا مطالبہ کیا اور مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں سنگین نتائج سے خبردار کیا، ایک اور مبینہ عسکریت پسند کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ان کی قید میں 8 سے 10 سیکیورٹی اہلکار ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ فدائین کے نام سے مشہور ان کے وہ 35 ساتھی جنہیں حراست میں لیا گیا تھا، وہ آزاد ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فضائی راستے سے ان کی افغانستان روانگی یقینی بنائے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جیل توڑ دی ہے اور سیکیورٹی اہلکار ہماری قید میں ہیں اور اگر ہمیں محفوظ راستہ فراہم کیا گیا تو انہیں باحفاظت رہا کردیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1194085</guid>
      <pubDate>Wed, 21 Dec 2022 01:39:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی اکبرویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/210053151adea9b.jpg?r=010029" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/210053151adea9b.jpg?r=010029"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/20141151f9c88ad.png?r=173438" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/20141151f9c88ad.png?r=173438"/>
        <media:title>ٹی وی پر نشر ہونے والی فوٹیج میں سی ٹی ڈی کمپاؤنڈ سے دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دیے — فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
