<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 18:53:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 18:53:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فضائی آلودگی ماں کے پیٹ میں بچوں کی اموات کا بھی سبب
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1194105/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے 137 ممالک میں کی جانے والی ایک طویل تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ فضائی آلودگی ماں کے پیٹ میں بچوں کی اموات سمیت پیدائش کے فوری بعد موت کا بھی بڑا سبب ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق فضائی آلودگی کی وجہ سے  دنیا بھر میں سالانہ 10 لاکھ بچوں کی اموات ہوتی ہیں جو یا تو پیدائش سے قبل ماں کے پیٹ میں مر جاتے ہیں یا پھر پیدائش کے فوری بعد ان کی موت ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;طبی جریدے ’نیچر کمیونی کیشنز‘ میں شائع &lt;a href="https://www.nature.com/articles/s41467-022-34250-4"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ماہرین نے 1998 سے 2016 تک پاکستان، بھارت اور نائیجیریا سمیت 137 ممالک کی فضائی آلودگی اور بچوں کی اموات پر تحقیق کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین نے براعظم ایشیا، افریقہ او امریکا کے ایسے ممالک کو تحقیق کا حصہ بنایا، جہاں فضائی آلودگی زیادہ ہے اور وہ ممالک غریب یا متوسط آمدنی والے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://www.dawnnews.tv/news/1160491"  alt="" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں فضائی آلودگی کی وجہ سے مرجانے والے 10 لاکھ بچوں میں سے نصف بچے زمین سے نکالے جانے والے ایندھن کی آلودگی سے پیدا ہونے والے خطرناک ذرات کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ فضائی آلودگی سے ہلاک ہونے والے نصف بچوں کے پھیپھڑوں، دماغ اور دوسرے عضووں میں انتہائی چھوٹے آلودہ ذرات چلے جانے کی وجہ سے ان کی اموات ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین نے فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے تجاویز بھی دیں اور کہا کہ جن ممالک میں آلودگی زیادہ ہے، وہاں حاملہ خواتین گھروں سے نہ نکلیں اور گھروں میں بھی ہوا کو صاف کرنے والے ایئر فلٹرز لگائیں جائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل ہونے والی تحقیقات میں بھی فضائی آلودگی کو حاملہ خواتین میں پیچیدگیوں کا سبب قرار دیا جا چکا ہے، علاوہ ازیں آلودگی کو مرد و خواتین کے بانجھ پن کا ایک سبب بھی قرار دیا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماضی میں ہونے والی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی تھیں کہ فضائی آلودگی کی وجہ سے حاملہ خواتین کے پیٹ میں موجود بچوں کے اعضا میں پلاسٹک اور آلودگی کے ذرات جانے کا انکشاف ہوا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں فضائی آلودگی زیادہ ہے اور ملک کے بڑے شہر کراچی، لاہور اور راولپنڈی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے 137 ممالک میں کی جانے والی ایک طویل تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ فضائی آلودگی ماں کے پیٹ میں بچوں کی اموات سمیت پیدائش کے فوری بعد موت کا بھی بڑا سبب ہے۔</p>

<p>تحقیق کے مطابق فضائی آلودگی کی وجہ سے  دنیا بھر میں سالانہ 10 لاکھ بچوں کی اموات ہوتی ہیں جو یا تو پیدائش سے قبل ماں کے پیٹ میں مر جاتے ہیں یا پھر پیدائش کے فوری بعد ان کی موت ہوجاتی ہے۔</p>

<p>طبی جریدے ’نیچر کمیونی کیشنز‘ میں شائع <a href="https://www.nature.com/articles/s41467-022-34250-4"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ماہرین نے 1998 سے 2016 تک پاکستان، بھارت اور نائیجیریا سمیت 137 ممالک کی فضائی آلودگی اور بچوں کی اموات پر تحقیق کی گئی۔</p>

<p>ماہرین نے براعظم ایشیا، افریقہ او امریکا کے ایسے ممالک کو تحقیق کا حصہ بنایا، جہاں فضائی آلودگی زیادہ ہے اور وہ ممالک غریب یا متوسط آمدنی والے تھے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://www.dawnnews.tv/news/1160491"  alt="" /></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں فضائی آلودگی کی وجہ سے مرجانے والے 10 لاکھ بچوں میں سے نصف بچے زمین سے نکالے جانے والے ایندھن کی آلودگی سے پیدا ہونے والے خطرناک ذرات کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ فضائی آلودگی سے ہلاک ہونے والے نصف بچوں کے پھیپھڑوں، دماغ اور دوسرے عضووں میں انتہائی چھوٹے آلودہ ذرات چلے جانے کی وجہ سے ان کی اموات ہوتی ہیں۔</p>

<p>ماہرین نے فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے تجاویز بھی دیں اور کہا کہ جن ممالک میں آلودگی زیادہ ہے، وہاں حاملہ خواتین گھروں سے نہ نکلیں اور گھروں میں بھی ہوا کو صاف کرنے والے ایئر فلٹرز لگائیں جائیں۔</p>

<p>اس سے قبل ہونے والی تحقیقات میں بھی فضائی آلودگی کو حاملہ خواتین میں پیچیدگیوں کا سبب قرار دیا جا چکا ہے، علاوہ ازیں آلودگی کو مرد و خواتین کے بانجھ پن کا ایک سبب بھی قرار دیا جا چکا ہے۔</p>

<p>ماضی میں ہونے والی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی تھیں کہ فضائی آلودگی کی وجہ سے حاملہ خواتین کے پیٹ میں موجود بچوں کے اعضا میں پلاسٹک اور آلودگی کے ذرات جانے کا انکشاف ہوا ہے۔</p>

<p>پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے، جہاں فضائی آلودگی زیادہ ہے اور ملک کے بڑے شہر کراچی، لاہور اور راولپنڈی دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1194105</guid>
      <pubDate>Tue, 20 Dec 2022 22:40:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/20204042ea91215.jpg?r=204317" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/20204042ea91215.jpg?r=204317"/>
        <media:title>—فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
