<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 25 Apr 2026 02:22:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 25 Apr 2026 02:22:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹی ٹی پی نے ریڈ لائن عبور کی تو ہرگِز برداشت نہیں کریں گے، بلاول بھٹو</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1194176/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ہمارے لیے حتمی ریڈ لائن ہے اور کسی کو بھی وہ لکیر عبور کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1727634/ttp-is-pakistans-absolute-red-line"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وزیر خارجہ نے واشنگٹن میں اٹلانٹک کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’جہاں تک ٹی ٹی پی کا تعلق ہے تو یہ ہماری ریڈ لائن ہے، یہ ایسی چیز ہے جسے ہم برداشت نہیں کریں گے، ہم اپنے لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر آپشن پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خارجہ نے واشنگٹن میں اپنی گفتگو کے دوران عسکریت پسندوں سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا، دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر منیر اکرم نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ خطے میں استحکام کے لیے طالبان کے ساتھ بات چیت بہترین آپشن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/BBhuttoZardari/status/1605406891810643969"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کی صورت حال پر اقوام متحدہ میں ہونے والی بحث میں حصہ لیتے ہوئے منیر اکرم نے کہا کہ ’ماضی میں جبر یا تنہا کرنے کی پالیسی کامیاب ثابت نہیں ہوئی، اس سے اب اور مستقبل میں بھی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوں گے، ہمیں عالمی برادری کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے افغان حکومت کے ساتھ ایک مربوط اور عملی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اٹلانٹک کونسل میں گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے بھی اسی رائے کا اظہار کرتے ہوئے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ خطے میں استحکام کے لیے افغانستان کے موجودہ حکام کے ساتھ مل کر کام کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروپوں کی جانب سے حملوں کو روکنے کے لیے افغانستان کے اندر یا سرحد پر فوج تعینات کرنے کے حوالے سے سوال پر وزیرخارجہ نے کہا کہ عسکریت پسندی کو ختم کرنے کے لیے افغانستان کے تعاون سے دہشت گرد گروہوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول بھٹو نے نشاندہی کی کہ ان سرحد پار حملوں کے باوجود حالات اب 2007 کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ اور مستحکم ہیں، جب پاکستان نے ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے کہا کہ ’اگر احتیاط نہ کی گئی تو صورتحال خطرے میں پڑ سکتی ہے اور اس سے یقیناً کسی بھی منصوبے کو نقصان پہنچ سکتا ہے، چاہے وہ سی پیک ہو یا معاشی سرگرمی کی کوئی اور شکل ہو کیونکہ کوئی بھی کاروبار کے لیے اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالنا چاہے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194135"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’یہی وجہ ہے کہ میں خاص طور پر ٹی ٹی پی اور مجموعی طور پر دہشت گردی کے معاملے کا جائزہ لے رہا ہوں، ناصرف سرحد بلکہ بنوں کے تازہ واقعے سمیت خطے میں دہشت گردی کے دیگر حالیہ واقعات یقیناً تشویشناک ہیں، بنوں واقعے میں ہمارے سیکیورٹی کمانڈرز نے صورتحال پر بڑی بہادری سے قابو پایا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے پڑوسی ممالک اور خاص طور پر افغانستان کو یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ انہیں ٹی ٹی پی یا وہاں سے سرگرم دیگر گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بھرپور قوت اور صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلاول بھٹو نے اعتراف کیا کہ امریکا کی طرح پاکستان کی افغان پالیسی میں بھی بہتری کی گنجائش ہے، انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم آگے کیا کر سکتے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’کیا ہم اپنی غلطیوں سے سیکھ رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہم انہیں دوبارہ نہ دہرائیں، اس سوال کا جواب افغانستان کی سلامتی اور استحکام، پاکستان کی سلامتی اور استحکام اور ہمارے خطے کی سلامتی اور استحکام کو واضح کرے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193864"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پہلا آپشن افغانستان کی عبوری حکومت سے یہ ثابت کروانا ہے کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ وینڈی آر شرمین سے بھی ملاقات کی جہاں انہوں نے سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں اور جنیوا میں 9 جنوری کو ہونے والی ’انٹرنیشنل کانفرنس آن کلائمیٹ ریزیلنٹ پاکستان‘ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/BBhuttoZardari/status/1605801811037736961"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق وینڈی آر شرمین نے حالیہ دہشت گرد حملوں میں پاکستانی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کا عزم کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ہمارے لیے حتمی ریڈ لائن ہے اور کسی کو بھی وہ لکیر عبور کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1727634/ttp-is-pakistans-absolute-red-line"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق وزیر خارجہ نے واشنگٹن میں اٹلانٹک کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’جہاں تک ٹی ٹی پی کا تعلق ہے تو یہ ہماری ریڈ لائن ہے، یہ ایسی چیز ہے جسے ہم برداشت نہیں کریں گے، ہم اپنے لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر آپشن پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں‘۔</p>
<p>وزیر خارجہ نے واشنگٹن میں اپنی گفتگو کے دوران عسکریت پسندوں سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا، دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر منیر اکرم نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو آگاہ کیا کہ خطے میں استحکام کے لیے طالبان کے ساتھ بات چیت بہترین آپشن ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/BBhuttoZardari/status/1605406891810643969"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>افغانستان کی صورت حال پر اقوام متحدہ میں ہونے والی بحث میں حصہ لیتے ہوئے منیر اکرم نے کہا کہ ’ماضی میں جبر یا تنہا کرنے کی پالیسی کامیاب ثابت نہیں ہوئی، اس سے اب اور مستقبل میں بھی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوں گے، ہمیں عالمی برادری کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے افغان حکومت کے ساتھ ایک مربوط اور عملی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے‘۔</p>
<p>اٹلانٹک کونسل میں گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے بھی اسی رائے کا اظہار کرتے ہوئے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ خطے میں استحکام کے لیے افغانستان کے موجودہ حکام کے ساتھ مل کر کام کریں۔</p>
<p>افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروپوں کی جانب سے حملوں کو روکنے کے لیے افغانستان کے اندر یا سرحد پر فوج تعینات کرنے کے حوالے سے سوال پر وزیرخارجہ نے کہا کہ عسکریت پسندی کو ختم کرنے کے لیے افغانستان کے تعاون سے دہشت گرد گروہوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا۔</p>
<p>بلاول بھٹو نے نشاندہی کی کہ ان سرحد پار حملوں کے باوجود حالات اب 2007 کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ اور مستحکم ہیں، جب پاکستان نے ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔</p>
<p>تاہم انہوں نے کہا کہ ’اگر احتیاط نہ کی گئی تو صورتحال خطرے میں پڑ سکتی ہے اور اس سے یقیناً کسی بھی منصوبے کو نقصان پہنچ سکتا ہے، چاہے وہ سی پیک ہو یا معاشی سرگرمی کی کوئی اور شکل ہو کیونکہ کوئی بھی کاروبار کے لیے اپنی جان خطرے میں نہیں ڈالنا چاہے گا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194135"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’یہی وجہ ہے کہ میں خاص طور پر ٹی ٹی پی اور مجموعی طور پر دہشت گردی کے معاملے کا جائزہ لے رہا ہوں، ناصرف سرحد بلکہ بنوں کے تازہ واقعے سمیت خطے میں دہشت گردی کے دیگر حالیہ واقعات یقیناً تشویشناک ہیں، بنوں واقعے میں ہمارے سیکیورٹی کمانڈرز نے صورتحال پر بڑی بہادری سے قابو پایا‘۔</p>
<p>تاہم وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمارے پڑوسی ممالک اور خاص طور پر افغانستان کو یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ انہیں ٹی ٹی پی یا وہاں سے سرگرم دیگر گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بھرپور قوت اور صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔</p>
<p>بلاول بھٹو نے اعتراف کیا کہ امریکا کی طرح پاکستان کی افغان پالیسی میں بھی بہتری کی گنجائش ہے، انہوں نے کہا کہ ’ہمیں اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم آگے کیا کر سکتے ہیں‘۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’کیا ہم اپنی غلطیوں سے سیکھ رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہم انہیں دوبارہ نہ دہرائیں، اس سوال کا جواب افغانستان کی سلامتی اور استحکام، پاکستان کی سلامتی اور استحکام اور ہمارے خطے کی سلامتی اور استحکام کو واضح کرے گا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193864"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پہلا آپشن افغانستان کی عبوری حکومت سے یہ ثابت کروانا ہے کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>علاوہ ازیں وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ وینڈی آر شرمین سے بھی ملاقات کی جہاں انہوں نے سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں اور جنیوا میں 9 جنوری کو ہونے والی ’انٹرنیشنل کانفرنس آن کلائمیٹ ریزیلنٹ پاکستان‘ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/BBhuttoZardari/status/1605801811037736961"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق وینڈی آر شرمین نے حالیہ دہشت گرد حملوں میں پاکستانی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کا عزم کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1194176</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Dec 2022 14:43:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/2213440484124b3.jpg?r=134411" type="image/jpeg" medium="image" height="579" width="965">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/2213440484124b3.jpg?r=134411"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/220823561675eee.jpg?r=134411" type="image/jpeg" medium="image" height="484" width="789">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/220823561675eee.jpg?r=134411"/>
        <media:title>—فوٹو : بلاول بھٹو/ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
