<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 10:41:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 10:41:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 8 سال کی کم ترین سطح پر آگئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1194227/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی کا رجحان جاری ہے اور 16 دسمبر کو 58 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی کمی کے ساتھ 8 سال کی کم تر سطح 6.1 ارب ڈالر پر آگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر 6.1 ارب ڈالر کے ساتھ اپریل 2014 کے بعد کم تر سطح پر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193839"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ایک سال کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 11.6 ارب ڈالر کمی آئی ہے، دسمبر 2021 میں مرکزی بینک کے ذخائر 17.7 ارب ڈالر تھے جو اب کم ہو کر 6.1 ارب ڈالر ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے موجودہ ذخائر تقریباً ایک ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد وشمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس مجموعی طور پر بیرونی ذخائر اس وقت 5.9 ارب ڈالر ہیں، جس کے بعد ملکی ذخائر 12 ارب ڈالر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مالیاتی ادرہ (آئی ایم ایف) کے نویں جائزے کے حوالے سے مبہم رپورٹس کے باعث سابق وزیرخزانہ مفتاح اسمٰعیل سمیت ماہرین کا دعویٰ ہے کہ جب تک عالمی مالیاتی ادارے کا پروگرام بحال نہیں ہوتا اس وقت تک پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کے خطرات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ پاکستان نے 2019 میں آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا جو رواں برس بڑھا کر 7 ارب ڈال کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کا نواں جائزہ زیرالتوا ہے جس میں 1.18 ارب ڈالر کے اجرا کے لیے عالمی ادارے اور پاکستانی عہدیداروں کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیرجانب دار ماہرین کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف کی قسط میں تاخیر کی وجہ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی پیشگی شرائط پورا نہ کرنا بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کو آئی ایم ایف کی اگلی قسط حاصل کرنے سے تقریباً 8 کھرب روپے کا اضافی ریونیو حاصل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ اضافی آمدن حاصل کرنے کا بوجھ عوام کی جیبوں پر ڈالنے کی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنا پڑے گی جو کہ اس کوشش میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193449"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے دو ہفتے قبل ایک پوڈ کاسٹ میں کہا تھا کہ گزشتہ 5 ماہ کے دوران آمدن صرف 4 ارب ڈالر رہی لیکن توقع ہے کہ جون 2023 میں ختم ہونے والے رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں یہ شرح بڑھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے 2 کمرشل بینکوں کو ایک ارب ڈالر اور پھر مزید ایک ارب 20 کروڑ ڈالر ادا کیے ہیں جنہوں نے چند روز میں دوبارہ اتنی ہی رقم قرض دینے کی ہانمی بھری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمیل احمد نے مزید بتایا تھا کہ پاکستان کو رواں مالی سال کے لیے 33 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی کا رجحان جاری ہے اور 16 دسمبر کو 58 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی کمی کے ساتھ 8 سال کی کم تر سطح 6.1 ارب ڈالر پر آگئے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر 6.1 ارب ڈالر کے ساتھ اپریل 2014 کے بعد کم تر سطح پر ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193839"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>گزشتہ ایک سال کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 11.6 ارب ڈالر کمی آئی ہے، دسمبر 2021 میں مرکزی بینک کے ذخائر 17.7 ارب ڈالر تھے جو اب کم ہو کر 6.1 ارب ڈالر ہوگئے ہیں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے موجودہ ذخائر تقریباً ایک ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہوں گے۔</p>
<p>اعداد وشمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس مجموعی طور پر بیرونی ذخائر اس وقت 5.9 ارب ڈالر ہیں، جس کے بعد ملکی ذخائر 12 ارب ڈالر ہیں۔</p>
<p>عالمی مالیاتی ادرہ (آئی ایم ایف) کے نویں جائزے کے حوالے سے مبہم رپورٹس کے باعث سابق وزیرخزانہ مفتاح اسمٰعیل سمیت ماہرین کا دعویٰ ہے کہ جب تک عالمی مالیاتی ادارے کا پروگرام بحال نہیں ہوتا اس وقت تک پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کے خطرات موجود ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ پاکستان نے 2019 میں آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا جو رواں برس بڑھا کر 7 ارب ڈال کردیا گیا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کا نواں جائزہ زیرالتوا ہے جس میں 1.18 ارب ڈالر کے اجرا کے لیے عالمی ادارے اور پاکستانی عہدیداروں کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔</p>
<p>غیرجانب دار ماہرین کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف کی قسط میں تاخیر کی وجہ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کی پیشگی شرائط پورا نہ کرنا بھی ہے۔</p>
<p>معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کو آئی ایم ایف کی اگلی قسط حاصل کرنے سے تقریباً 8 کھرب روپے کا اضافی ریونیو حاصل کرنا ہوگا۔</p>
<p>تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ اضافی آمدن حاصل کرنے کا بوجھ عوام کی جیبوں پر ڈالنے کی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنا پڑے گی جو کہ اس کوشش میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193449"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے دو ہفتے قبل ایک پوڈ کاسٹ میں کہا تھا کہ گزشتہ 5 ماہ کے دوران آمدن صرف 4 ارب ڈالر رہی لیکن توقع ہے کہ جون 2023 میں ختم ہونے والے رواں مالی سال کی دوسری ششماہی میں یہ شرح بڑھے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے 2 کمرشل بینکوں کو ایک ارب ڈالر اور پھر مزید ایک ارب 20 کروڑ ڈالر ادا کیے ہیں جنہوں نے چند روز میں دوبارہ اتنی ہی رقم قرض دینے کی ہانمی بھری ہے۔</p>
<p>جمیل احمد نے مزید بتایا تھا کہ پاکستان کو رواں مالی سال کے لیے 33 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1194227</guid>
      <pubDate>Fri, 23 Dec 2022 07:32:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/22235254d8b2d23.jpg?r=235311" type="image/jpeg" medium="image" height="560" width="934">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/22235254d8b2d23.jpg?r=235311"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/222344342ca54b8.jpg?r=235311" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/222344342ca54b8.jpg?r=235311"/>
        <media:title>اسٹیٹ بینک نے بتایا ملکی ذخائر مجموعی طور پر 12 ارب ڈالرہیں— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
