<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 18:54:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 18:54:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی: عدالت کا کالے شیشے والی گاڑیوں، غیر قانونی نمبر پلیٹس کے خلاف کارروائی کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1194310/</link>
      <description>&lt;p&gt;سندھ ہائی کورٹ نے ٹریفک پولیس کو کالے شیشے والی گاڑیوں، سائرن،  بار لائٹس، ہوٹرز اور غیر قانونی نمبر پلیٹس کے استعمال کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1727919/times-up-for-vehicles-with-illegal-sirens-fancy-plates-tinted-glasses-in-karachi"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق عدالت کی سماعت کے دوران متعدد بار ہدایات دینے کے باوجود شہر میں ہیوی ٹریفک کی صورتحال سے متعلق عدالت عظمیٰ کے حکم پر عمل درآمد کے حوالے سے تعمیلی رپورٹ جمع نہ کرانے پر سندھ ہائی کورٹ نے چیف سیکریٹری سندھ پر برہمی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس ندیم اختر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی جس میں چیف سیکریٹری کو 25 جنوری 2023 سے پہلے تفصیلی تعمیلی رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کی گئی اور رپورٹ جمع نہ کرنے کی صورت میں آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1175794"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماعت کے آغاز میں ڈی آئی جی ٹریفک احمد نواز چیمہ رپورٹ کے ساتھ حاضر ہوئے اور کہا کہ تمام داخلی اور خارجہ راستوں پر چوکیاں قائم کردی گئی ہیں، تاکہ صبح 6 بجے سے رات 11 بجے تک بھاری گاڑیوں کو روکنے کی یقین دہانی کروائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی نے کہا کہ ہیوی ٹریفک کے حوالے سے ٹریفک پولیس عدالت عظمیٰ کے احکامات پر عمل درآمد کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ ٹریفک جام اور ٹریفک حادثات میں کمی ہوئی ہے، لیکن عدالتی احکامات کی اب بھی خلاف ورزی کی جارہی ہے کیونکہ بھاری گاڑیاں دن کے وقت بھی سڑکوں پر چلتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آئی جی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹریفک پولیس نے غیر قانونی طور  استعمال ہونے والے ہارن، فینسی اور غیر قانونی نمبر پلیٹ، کالے شیشے والی گاڑیوں، ہوٹرز، سائرن اور بار لائٹ کے خلاف کارروائی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس طرح کے غیر قانونی چیزوں پر مکمل طور پر کنٹرول نہیں ہو پایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی بینچ نے ان گاڑیوں/لوگوں کے نام/فہرست جمع کرانے کی ہدایت جاری کی جنہیں ہووٹرز اور سائرن اور بار لائٹ استعمال کرنے کی قانونی طور پر اجازت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے ڈی آئی جی کو مزید ہدایت کی کہ نوٹس کی اشاعت کے 7 دن کے اندر گاڑیوں سے تمام ہارن، کالے شیشے، غیر قانونی نمبر پلیٹ وغیرہ ہٹانے کے لیے تین دن کے اندر نامور اخبارات میں عوامی نوٹس شائع کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1163845"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری سروس جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ عدالت کے حکم نامے پر تکمیل کے لیے متعلقہ حکام کو خط ارسال کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بینچ نے نشاندہی کی کہ گزشتہ سماعت میں چیف سیکریٹری کو عدالت عظمیٰ کی تعمیل کے حوالے سے خصوصی طور پر ہدایات جاری کی گئی تھیں لیکن ان کی جانب سے اس طرح کی کوئی رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی قانونی افسر اور فریقین کے وکلا نے درخواست کی کہ نیشنل ہائی وے اور موٹروے اتھارٹی اور ٹریفک انجینئر بیورو کو ان کارروائیوں میں جواب دہندگان کے طور پر شامل کیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کی موجودگی سپریم کورٹ کے ساتھ ساتھ سندھ ہائی کورٹ کے  عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ نے درخواست کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ  3 دن کے اندر ترمیم شدہ عنوان جمع کروایا جائے جس کے بعد جواب دہندگان کو اگلی سماعت کے لیے نوٹس جاری کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے اگست 2007 میں دن کے اوقات میں بھاری ٹریفک پر پابندی لگانے کا حکم جاری کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2010 اور 2022 کے درمیان بھاری گاڑیوں اور  اور سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کےحوالے سے سندھ ہائی کورٹ متعدد درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سندھ ہائی کورٹ نے ٹریفک پولیس کو کالے شیشے والی گاڑیوں، سائرن،  بار لائٹس، ہوٹرز اور غیر قانونی نمبر پلیٹس کے استعمال کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دے دیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1727919/times-up-for-vehicles-with-illegal-sirens-fancy-plates-tinted-glasses-in-karachi">رپورٹ</a></strong> کے مطابق عدالت کی سماعت کے دوران متعدد بار ہدایات دینے کے باوجود شہر میں ہیوی ٹریفک کی صورتحال سے متعلق عدالت عظمیٰ کے حکم پر عمل درآمد کے حوالے سے تعمیلی رپورٹ جمع نہ کرانے پر سندھ ہائی کورٹ نے چیف سیکریٹری سندھ پر برہمی کا اظہار کیا۔</p>
<p>چیف جسٹس ندیم اختر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی جس میں چیف سیکریٹری کو 25 جنوری 2023 سے پہلے تفصیلی تعمیلی رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کی گئی اور رپورٹ جمع نہ کرنے کی صورت میں آئندہ سماعت پر عدالت کی معاونت کے لیے پیش ہونے کی ہدایت کی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1175794"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سماعت کے آغاز میں ڈی آئی جی ٹریفک احمد نواز چیمہ رپورٹ کے ساتھ حاضر ہوئے اور کہا کہ تمام داخلی اور خارجہ راستوں پر چوکیاں قائم کردی گئی ہیں، تاکہ صبح 6 بجے سے رات 11 بجے تک بھاری گاڑیوں کو روکنے کی یقین دہانی کروائی جائے۔</p>
<p>ڈی آئی جی نے کہا کہ ہیوی ٹریفک کے حوالے سے ٹریفک پولیس عدالت عظمیٰ کے احکامات پر عمل درآمد کر رہی ہے۔</p>
<p>تاہم درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ ٹریفک جام اور ٹریفک حادثات میں کمی ہوئی ہے، لیکن عدالتی احکامات کی اب بھی خلاف ورزی کی جارہی ہے کیونکہ بھاری گاڑیاں دن کے وقت بھی سڑکوں پر چلتی ہیں۔</p>
<p>ڈی آئی جی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹریفک پولیس نے غیر قانونی طور  استعمال ہونے والے ہارن، فینسی اور غیر قانونی نمبر پلیٹ، کالے شیشے والی گاڑیوں، ہوٹرز، سائرن اور بار لائٹ کے خلاف کارروائی کی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس طرح کے غیر قانونی چیزوں پر مکمل طور پر کنٹرول نہیں ہو پایا۔</p>
<p>عدالتی بینچ نے ان گاڑیوں/لوگوں کے نام/فہرست جمع کرانے کی ہدایت جاری کی جنہیں ہووٹرز اور سائرن اور بار لائٹ استعمال کرنے کی قانونی طور پر اجازت ہے۔</p>
<p>عدالت نے ڈی آئی جی کو مزید ہدایت کی کہ نوٹس کی اشاعت کے 7 دن کے اندر گاڑیوں سے تمام ہارن، کالے شیشے، غیر قانونی نمبر پلیٹ وغیرہ ہٹانے کے لیے تین دن کے اندر نامور اخبارات میں عوامی نوٹس شائع کریں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1163845"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سیکریٹری سروس جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ عدالت کے حکم نامے پر تکمیل کے لیے متعلقہ حکام کو خط ارسال کردیا ہے۔</p>
<p>تاہم بینچ نے نشاندہی کی کہ گزشتہ سماعت میں چیف سیکریٹری کو عدالت عظمیٰ کی تعمیل کے حوالے سے خصوصی طور پر ہدایات جاری کی گئی تھیں لیکن ان کی جانب سے اس طرح کی کوئی رپورٹ جمع نہیں کروائی گئی۔</p>
<p>صوبائی قانونی افسر اور فریقین کے وکلا نے درخواست کی کہ نیشنل ہائی وے اور موٹروے اتھارٹی اور ٹریفک انجینئر بیورو کو ان کارروائیوں میں جواب دہندگان کے طور پر شامل کیا جاسکتا ہے کیونکہ ان کی موجودگی سپریم کورٹ کے ساتھ ساتھ سندھ ہائی کورٹ کے  عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے۔</p>
<p>بینچ نے درخواست کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ  3 دن کے اندر ترمیم شدہ عنوان جمع کروایا جائے جس کے بعد جواب دہندگان کو اگلی سماعت کے لیے نوٹس جاری کیا جائے۔</p>
<p>خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے اگست 2007 میں دن کے اوقات میں بھاری ٹریفک پر پابندی لگانے کا حکم جاری کیا تھا۔</p>
<p>2010 اور 2022 کے درمیان بھاری گاڑیوں اور  اور سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کےحوالے سے سندھ ہائی کورٹ متعدد درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1194310</guid>
      <pubDate>Sat, 24 Dec 2022 16:42:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسحاق تنولی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/241459340c0fd53.png?r=164305" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/241459340c0fd53.png?r=164305"/>
        <media:title>سپریم کورٹ نے اگست 2007 میں دن کے اوقات میں بھاری ٹریفک پر پابندی لگانے کا حکم جاری کیا تھا — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
