<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 01:31:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 01:31:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کا چینی اور پاکستانی سرحدوں پر 120 بیلسٹک میزائل نصب کرنے کا منصوبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1194424/</link>
      <description>&lt;p&gt;چینی جارحیت پر اندرون ملک شدید تنقید کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ بھارت، چین اور پاکستان کے ساتھ اپنی سرحدوں پر 120 ٹیکٹیکل میزائل نصب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1728502/new-delhi-deploying-missiles-on-two-borders-claims-report"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یہ دعویٰ ایک خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ میں سامنے آیا ہے جس کے مطابق بھارت کی جانب سے یہ اقدام وزیر اعظم نریندر مودی پر مبینہ چینی جارحیت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے الزام اور اندرونِ ملک تنقید کے ردعمل میں سامنے آیا ہے، تاہم بھارتی حکومت نے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے سے انکار کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’مقامی سطح پر تیار کردہ ’پرالے‘ بیلسٹک میزائل کے اب تک صرف 2 ٹیسٹ کیے گئے ہیں، بظاہر اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ یہ میزائل کم از کم 2 برس تک فعال نہیں ہوں گے کیونکہ بیلسٹک میزائل کے لیے موبائل پلیٹ فارم کی سپورٹ ہونا لازمی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت نے چین اور پاکستان کے ساتھ اپنی سرحدوں پر نصب کرنے کے لیے 120 پرالے میزائلوں کی خریداری کی منظوری دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1186876"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ نے ایک دفاعی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’وزارت دفاع کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں مسلح افواج کے لیے تقریباً 120 میزائلوں کے حصول اور انہیں سرحدوں پر نصب کرنے کی منظوری دی گئی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پرالے میزائل 500 کلومیٹر کی رینج تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور راستہ بدلنے کی صلاحیت کی بدولت انہیں فضا میں روکنا مشکل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنیادی طور پر پرالے مقامی سطح پر تیار کردہ مختصر فاصلے تک مار کرنے والا ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل ہیں اور اکثر اس کا موازنہ روسی ’اسکندر‘ میزائل سے کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ پرالے میزائل کی ساخت بھارت کے ایک اور بیلسٹک میزائل ’پرتھوی‘ پر مبنی ہے لیکن اسے روس کے اسکندر بیلسٹک میزائلوں سے تشبیہ دی جاتی ہے جو یوکرین کے خلاف جنگ میں بڑی تعداد میں نصب کیے گئے اور اپنی جنگی صلاحیت بھی ثابت کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1172534"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی فوج کی جانب سے پرالے میزائل حاصل کرنے کا منصوبہ اس لیے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی وزارت دفاع کے اعلیٰ حکام بھارتی فوج کے لیے راکٹ فورس تیار کرنے پر بات کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات کے مطابق پرالے میزائل، بھارتی فوج کو بارڈر کے نزدیک نصب چینی انفرااسٹرکچر اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چینی جارحیت پر اندرون ملک شدید تنقید کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ بھارت، چین اور پاکستان کے ساتھ اپنی سرحدوں پر 120 ٹیکٹیکل میزائل نصب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <a href="https://www.dawn.com/news/1728502/new-delhi-deploying-missiles-on-two-borders-claims-report"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق یہ دعویٰ ایک خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ میں سامنے آیا ہے جس کے مطابق بھارت کی جانب سے یہ اقدام وزیر اعظم نریندر مودی پر مبینہ چینی جارحیت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے الزام اور اندرونِ ملک تنقید کے ردعمل میں سامنے آیا ہے، تاہم بھارتی حکومت نے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے سے انکار کر دیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’مقامی سطح پر تیار کردہ ’پرالے‘ بیلسٹک میزائل کے اب تک صرف 2 ٹیسٹ کیے گئے ہیں، بظاہر اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ یہ میزائل کم از کم 2 برس تک فعال نہیں ہوں گے کیونکہ بیلسٹک میزائل کے لیے موبائل پلیٹ فارم کی سپورٹ ہونا لازمی ہے‘۔</p>
<p>رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت نے چین اور پاکستان کے ساتھ اپنی سرحدوں پر نصب کرنے کے لیے 120 پرالے میزائلوں کی خریداری کی منظوری دے دی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1186876"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارتی خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ نے ایک دفاعی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’وزارت دفاع کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں مسلح افواج کے لیے تقریباً 120 میزائلوں کے حصول اور انہیں سرحدوں پر نصب کرنے کی منظوری دی گئی‘۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق پرالے میزائل 500 کلومیٹر کی رینج تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور راستہ بدلنے کی صلاحیت کی بدولت انہیں فضا میں روکنا مشکل ہے۔</p>
<p>بنیادی طور پر پرالے مقامی سطح پر تیار کردہ مختصر فاصلے تک مار کرنے والا ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل ہیں اور اکثر اس کا موازنہ روسی ’اسکندر‘ میزائل سے کیا جاتا ہے۔</p>
<p>رپورٹس میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ پرالے میزائل کی ساخت بھارت کے ایک اور بیلسٹک میزائل ’پرتھوی‘ پر مبنی ہے لیکن اسے روس کے اسکندر بیلسٹک میزائلوں سے تشبیہ دی جاتی ہے جو یوکرین کے خلاف جنگ میں بڑی تعداد میں نصب کیے گئے اور اپنی جنگی صلاحیت بھی ثابت کر چکے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1172534"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارتی فوج کی جانب سے پرالے میزائل حاصل کرنے کا منصوبہ اس لیے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی وزارت دفاع کے اعلیٰ حکام بھارتی فوج کے لیے راکٹ فورس تیار کرنے پر بات کر رہے ہیں۔</p>
<p>اطلاعات کے مطابق پرالے میزائل، بھارتی فوج کو بارڈر کے نزدیک نصب چینی انفرااسٹرکچر اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت فراہم کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1194424</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Dec 2022 15:01:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/27082028993a0ff.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/27082028993a0ff.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/270826257bb88c3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/270826257bb88c3.jpg"/>
        <media:title>پرالے مقامی سطح پر تیار کردہ مختصر فاصلے تک مار کرنے والا ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل ہے— فائل فوٹو: انڈیا ٹوڈے
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
