<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 09:29:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 09:29:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>الیکشن کمیشن کا اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1194446/</link>
      <description>&lt;p&gt;الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں 31 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کردیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن میں اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق سماعت ہوئی، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے کیس کی سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل جہانگیر جدون اور سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، پی ٹی آئی کی جانب سے بابر اعوان اور علی نواز اعوان جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے میاں اسلم پیش ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومتی وکیل اشتر اوصاف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے فیصلہ دیا ہے، اسلام آباد انتظامیہ نے یونین کونسلز کی تعداد میں اضافے کی سفارش کی ہے، الیکشن کمیشن کو آبادی میں اضافے کا معاملہ دیکھنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194087"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلائل کے دوران اشتر اوصاف نے بینچ سے سوال کیا کہ کیا آپ اپنے اس حکمنامے کے مطابق الیکشن کرائیں گے جسے منسوخ کردیا گیا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ شفاف الیکشن کرانے کے لیے زمینی حقائق کو مدنظر رکھیں جس میں تمام لوگوں کی نمائندگی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علی نواز اعوان کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دیے کہ اسلام آباد میں حلقہ بندیوں میں اضافے کے پارلیمنٹ کے بل پر صدر کے دستخط نہیں ہیں، لہٰذا یہ ابھی قانون نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمیں قانون کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے، آئین کے تحت یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194267"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بابر اعوان نے دلائل جاری رکھتے ہوۓ کہا کہ حکومت ان بلدیاتی انتخابات میں اسی طرح پارٹی ہے جس طرح ہم الیکشن لڑ رہے ہیں، حکومت انتخابات ملتوی کرانے کے معاملے میں اتھارٹی نہیں ہو سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں کر چکا ہے اور اس حوالے سے اعتراضات بھی سن چکا ہے، جب الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہو جائے تو قانون کے مطابق نئی قانون سازی نہیں ہو سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جماعت اسلامی کے وکیل حسن جاوید نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کرانے کی پوری ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، اس میں وفاقی حکومت کی دخل اندازی کا مطلب الیکشن کمیشن کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہائی کورٹ نے یونین کونسلز کی تعداد کا جائزہ لینے کا بھی کہا ہے، اس پر جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا اختیار محدود نہیں کیا، ہائی کورٹ کے فیصلے میں ایسی کوئی قدغن نہیں کہ کمیشن دوبارہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا، بعد ازاں الیکشن کمیشن نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے 31 دسمبر کو اسلام آباد میں ہونے والی بلدیاتی انتخابات ملتوی کردیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/SpokespersonECP/status/1607657968249589761"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان الیکشن کمیشن کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں کہا گیا کہ ’قانونی دفعات اور  اسلام آباد ہائی کورٹ کے 23 دسمبر 2022 کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام آباد میں 31 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات فی الحال ملتوی کر دیے گئے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پس منظر&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1194087/"&gt;&lt;strong&gt;20 دسمبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو وزارت داخلہ نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اسلام آباد میں یونین کونسلز کی تعداد میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا تھا جس کے بعد بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا خدشہ بڑھ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے یونین کونسل کی تعداد میں اضافے کے بہانے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے اقدام کے ایک روز بعد &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1194125"&gt;&lt;strong&gt;21 دسمبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے واضح کردیا تھا کہ انتخابات شیڈول کے مطابق 31 دسمبر کو ہی ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194125"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ’الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل اے (2)-140، آرٹیکل 218، (3) آرٹیکل 219 (ڈی) اور آرٹیکل 222 کے تحت اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے 19 دسمبر 2022 کو جاری کردہ نوٹی فکیشن کے باوجود انتخابات کے عمل کو جاری رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے کیونکہ مذکورہ نوٹی فکیشن اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے سیکشن 4 (4) کی خلاف ورزی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں، &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1194267"&gt;&lt;strong&gt;23 دسمبر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے یونین کونسلز بڑھانے کا حکومتی فیصلہ مسترد کرنے کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو تمام فریقین کو سن کر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن 27 دسمبر کو یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے سے متعلق فریقین کو سن کر فیصلہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو مزید ہدایت دی تھی کہ ووٹرز لسٹوں کی درستی کے لیے دائر درخواستوں پر بھی متاثرہ ووٹرز کو 28 دسمبر کو سنا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں 31 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات ملتوی کردیے۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر الیکشن کمیشن میں اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق سماعت ہوئی، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے کیس کی سماعت کی۔</p>
<p>حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل جہانگیر جدون اور سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، پی ٹی آئی کی جانب سے بابر اعوان اور علی نواز اعوان جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے میاں اسلم پیش ہوئے۔</p>
<p>حکومتی وکیل اشتر اوصاف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے فیصلہ دیا ہے، اسلام آباد انتظامیہ نے یونین کونسلز کی تعداد میں اضافے کی سفارش کی ہے، الیکشن کمیشن کو آبادی میں اضافے کا معاملہ دیکھنا چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194087"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دلائل کے دوران اشتر اوصاف نے بینچ سے سوال کیا کہ کیا آپ اپنے اس حکمنامے کے مطابق الیکشن کرائیں گے جسے منسوخ کردیا گیا ہے؟</p>
<p>انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ شفاف الیکشن کرانے کے لیے زمینی حقائق کو مدنظر رکھیں جس میں تمام لوگوں کی نمائندگی ہو۔</p>
<p>علی نواز اعوان کے وکیل بابر اعوان نے دلائل دیے کہ اسلام آباد میں حلقہ بندیوں میں اضافے کے پارلیمنٹ کے بل پر صدر کے دستخط نہیں ہیں، لہٰذا یہ ابھی قانون نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ہمیں قانون کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے، آئین کے تحت یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کے مطابق الیکشن کا انعقاد کرے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194267"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بابر اعوان نے دلائل جاری رکھتے ہوۓ کہا کہ حکومت ان بلدیاتی انتخابات میں اسی طرح پارٹی ہے جس طرح ہم الیکشن لڑ رہے ہیں، حکومت انتخابات ملتوی کرانے کے معاملے میں اتھارٹی نہیں ہو سکتی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں کر چکا ہے اور اس حوالے سے اعتراضات بھی سن چکا ہے، جب الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہو جائے تو قانون کے مطابق نئی قانون سازی نہیں ہو سکتی۔</p>
<p>جماعت اسلامی کے وکیل حسن جاوید نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کرانے کی پوری ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، اس میں وفاقی حکومت کی دخل اندازی کا مطلب الیکشن کمیشن کے اختیارات کو محدود کرنا ہے۔</p>
<p>چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہائی کورٹ نے یونین کونسلز کی تعداد کا جائزہ لینے کا بھی کہا ہے، اس پر جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا اختیار محدود نہیں کیا، ہائی کورٹ کے فیصلے میں ایسی کوئی قدغن نہیں کہ کمیشن دوبارہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔</p>
<p>فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا، بعد ازاں الیکشن کمیشن نے مختصر فیصلہ جاری کرتے ہوئے 31 دسمبر کو اسلام آباد میں ہونے والی بلدیاتی انتخابات ملتوی کردیے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/SpokespersonECP/status/1607657968249589761"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ترجمان الیکشن کمیشن کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں کہا گیا کہ ’قانونی دفعات اور  اسلام آباد ہائی کورٹ کے 23 دسمبر 2022 کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام آباد میں 31 دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات فی الحال ملتوی کر دیے گئے ہیں‘۔</p>
<h3><a id="پس-منظر" href="#پس-منظر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پس منظر</h3>
<p>خیال رہے کہ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1194087/"><strong>20 دسمبر</strong></a> کو وزارت داخلہ نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اسلام آباد میں یونین کونسلز کی تعداد میں اضافے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا تھا جس کے بعد بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا خدشہ بڑھ گیا تھا۔</p>
<p>تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے یونین کونسل کی تعداد میں اضافے کے بہانے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے اقدام کے ایک روز بعد <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1194125"><strong>21 دسمبر</strong></a> کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے واضح کردیا تھا کہ انتخابات شیڈول کے مطابق 31 دسمبر کو ہی ہوں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194125"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ’الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل اے (2)-140، آرٹیکل 218، (3) آرٹیکل 219 (ڈی) اور آرٹیکل 222 کے تحت اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے 19 دسمبر 2022 کو جاری کردہ نوٹی فکیشن کے باوجود انتخابات کے عمل کو جاری رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے کیونکہ مذکورہ نوٹی فکیشن اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے سیکشن 4 (4) کی خلاف ورزی ہے‘۔</p>
<p>الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں، <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1194267"><strong>23 دسمبر</strong></a> کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے یونین کونسلز بڑھانے کا حکومتی فیصلہ مسترد کرنے کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو تمام فریقین کو سن کر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا تھا۔</p>
<p>عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن 27 دسمبر کو یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے سے متعلق فریقین کو سن کر فیصلہ کرے۔</p>
<p>علاوہ ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو مزید ہدایت دی تھی کہ ووٹرز لسٹوں کی درستی کے لیے دائر درخواستوں پر بھی متاثرہ ووٹرز کو 28 دسمبر کو سنا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1194446</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Dec 2022 14:47:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکعرفان سدوزئی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/27163007950663b.jpg?r=163018" type="image/jpeg" medium="image" height="487" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/27163007950663b.jpg?r=163018"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/271319513480de4.png?r=163018" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/271319513480de4.png?r=163018"/>
        <media:title>چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے کیس کی سماعت کی — فائل فوٹو: ریڈیو پاکستان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
