<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 08:28:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 08:28:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملیریا سے تحفظ کی دوسری ویکسین کی آزمائش شروع</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1194462/</link>
      <description>&lt;p&gt;ملیر سے بچاؤ کی دنیا کی پہلی ویکسین کے استعمال کی منظوری کے ایک سال بعد اب ایک اور دوا ساز کمپنی نے دوسری ویکسین پر آزمائش کا پروگرام شروع کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملیریا کی پہلی ویکسین برطانوی دوا ساز کمپنی گلیکسو اسمتھ کلائن (جی ایس کے) نے بنائی تھی، جسے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اکتوبر 2021 میں استعمال کرنے کی منظوری دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی ایس کے کی مذکورہ ویکسین کی آزمائش 2019 میں افریقی ممالک میں کی گئی تھی اور مذکورہ ویکسین کے 20 لاکھ ڈوز وہاں کے مقامی لوگوں کو دیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مذکورہ ویکسین میں کم سرمایہ کاری اور دوا ساز کمپنی کو فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے اس کی خوراکیں انتہائی کم بنائی گئیں، لیکن اب ایک اور دوا ساز کمپنی نے ملیریا کی ویکسین کی آزمائش شروع کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1056549"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/biontech-initiates-clinical-trial-mrna-based-malaria-vaccine-candidate-2022-12-23/"&gt;&lt;strong&gt;’رائٹرز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق جرمن دوا ساز کمپنی ’بائیو این ٹیک‘ کی جانب سے بنائی گئی جدید ٹیکنالوجی کی حامل ویکسین کی آزمائش پر کام شروع کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق بائیو این ٹیک نے ویکسین کو ’بی این ٹی 16 بی 1‘ کا نام دیا ہے، جسے جدید ایم آر این اے ٹیکنالوجی کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بائیو این ٹیک کمپنی نے ایم آر این اے ٹیکنالوجی کو پہلی بار 2021 میں بنائی گئی کورونا کے تحفظ کی ویکسین میں استعمال کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اسی ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کی گئی ملیریا کی ویکسین کی امریکا میں آزمائش شروع کردی گئی اور پہلے مرحلے میں صرف 60 افراد پر اسے آزمایا جائے گا اور ہر رکن کو تین ڈوز دیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کو امید ہے کہ ملیریا کی دوسری ویکسین کا پہلا آزمائشی مرحلہ کامیاب جائے گا اور مذکورہ ویکسین فنڈز بھی حاصل کرنے میں کامیاب جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بائیو این ٹیک کے علاوہ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی نے بھی ملیریا سے تحفظ کی ایک ویکسین تیار کی ہے، جس پر آزمائش جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر بائیو این ٹیک کی ویکسین کی آزمائش کا پہلا مرحلہ کامیاب گیا تو دوسرے مرحلے میں اس کی آزمائش وسیع پیمانے پر کی جائے گی، جس کے بعد تیسرا اور آخری مرحلہ حتمی ہوگا، تاہم ان مراحل میں ایک سال سے زائد کا وقت لگ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ملیر سے بچاؤ کی دنیا کی پہلی ویکسین کے استعمال کی منظوری کے ایک سال بعد اب ایک اور دوا ساز کمپنی نے دوسری ویکسین پر آزمائش کا پروگرام شروع کردیا۔</p>
<p>ملیریا کی پہلی ویکسین برطانوی دوا ساز کمپنی گلیکسو اسمتھ کلائن (جی ایس کے) نے بنائی تھی، جسے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اکتوبر 2021 میں استعمال کرنے کی منظوری دی تھی۔</p>
<p>جی ایس کے کی مذکورہ ویکسین کی آزمائش 2019 میں افریقی ممالک میں کی گئی تھی اور مذکورہ ویکسین کے 20 لاکھ ڈوز وہاں کے مقامی لوگوں کو دیے گئے تھے۔</p>
<p>تاہم مذکورہ ویکسین میں کم سرمایہ کاری اور دوا ساز کمپنی کو فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے اس کی خوراکیں انتہائی کم بنائی گئیں، لیکن اب ایک اور دوا ساز کمپنی نے ملیریا کی ویکسین کی آزمائش شروع کردی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1056549"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/biontech-initiates-clinical-trial-mrna-based-malaria-vaccine-candidate-2022-12-23/"><strong>’رائٹرز‘</strong></a> کے مطابق جرمن دوا ساز کمپنی ’بائیو این ٹیک‘ کی جانب سے بنائی گئی جدید ٹیکنالوجی کی حامل ویکسین کی آزمائش پر کام شروع کردیا گیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق بائیو این ٹیک نے ویکسین کو ’بی این ٹی 16 بی 1‘ کا نام دیا ہے، جسے جدید ایم آر این اے ٹیکنالوجی کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p>بائیو این ٹیک کمپنی نے ایم آر این اے ٹیکنالوجی کو پہلی بار 2021 میں بنائی گئی کورونا کے تحفظ کی ویکسین میں استعمال کیا تھا۔</p>
<p>اب اسی ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کی گئی ملیریا کی ویکسین کی امریکا میں آزمائش شروع کردی گئی اور پہلے مرحلے میں صرف 60 افراد پر اسے آزمایا جائے گا اور ہر رکن کو تین ڈوز دیے جائیں گے۔</p>
<p>ماہرین کو امید ہے کہ ملیریا کی دوسری ویکسین کا پہلا آزمائشی مرحلہ کامیاب جائے گا اور مذکورہ ویکسین فنڈز بھی حاصل کرنے میں کامیاب جائے گی۔</p>
<p>بائیو این ٹیک کے علاوہ برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی نے بھی ملیریا سے تحفظ کی ایک ویکسین تیار کی ہے، جس پر آزمائش جاری ہے۔</p>
<p>اگر بائیو این ٹیک کی ویکسین کی آزمائش کا پہلا مرحلہ کامیاب گیا تو دوسرے مرحلے میں اس کی آزمائش وسیع پیمانے پر کی جائے گی، جس کے بعد تیسرا اور آخری مرحلہ حتمی ہوگا، تاہم ان مراحل میں ایک سال سے زائد کا وقت لگ سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1194462</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Dec 2022 21:47:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/2719012841b73ae.jpg?r=190152" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/2719012841b73ae.jpg?r=190152"/>
        <media:title>—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
