<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 10:27:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 10:27:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی میں فوٹو شوٹ کرنے پر جوڑے کےخلاف پولیس کارروائی کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1194555/</link>
      <description>&lt;p&gt;کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اپنی عمارت کے  احاطے میں شادی کی تصاویر بنانے پر نوبیاہتا جوڑے کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے مقامی پولیس کو شکایت درج کرا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1728809/king-edward-medical-university-seeks-police-action-against-couple-over-photo-shoot"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;  کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ میں بتایا گیا کہ شوٹنگ والے روز ایک شخص یونیورسٹی آیا اور خود کو وہاں کے سابق گریجویٹ کے طور پر متعارف کرانے کے بعد گارڈز سے جوڑے کو اندر جانے کے لیے اجازت طلب کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اہلکار نے بتایا کہ اس شخص نے گارڈز کو کہا کہ دلہن اس کی بیٹی ہے اور جوڑے کی خواہش ہے کہ وہ شادی کو یادگار بنانے کے لیے میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی 150 سال پرانی تاریخی عمارت کے سامنے کچھ تصاویر لینا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسٹی ٹیوٹ کے ایک ڈرائیور نے گارڈز سے کہا کہ وہ یونیورسٹی کے سابق گریجویٹ کا رشتہ دار ہونے کی وجہ سے جوڑے کو اندر جانے دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1148152"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلکار نے کہا کہ فوٹوگرافر نے سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر اپ لوڈ کیں جو وائرل ہوگئیں اور اس طرح کی سرگرمی کی اجازت دینے پر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ پر تنقید کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہلکار نے مزید کہا کہ ادارے نے جوڑے کو فوٹو شوٹ کی اجازت دینے پر ڈرائیور اور دو گارڈز سمیت تین ملازمین کو سروس سے معطل کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ انسٹی ٹیوٹ نے شوہر، بیوی اور فوٹو شوٹ میں شامل 4 فوٹوگرافرز کے خلاف کارروائی کے لیے پولیس میں شکایت بھی جمع کرائی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اپنی عمارت کے  احاطے میں شادی کی تصاویر بنانے پر نوبیاہتا جوڑے کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے مقامی پولیس کو شکایت درج کرا دی۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1728809/king-edward-medical-university-seeks-police-action-against-couple-over-photo-shoot">رپورٹ</a></strong>  کے مطابق ابتدائی پوچھ گچھ میں بتایا گیا کہ شوٹنگ والے روز ایک شخص یونیورسٹی آیا اور خود کو وہاں کے سابق گریجویٹ کے طور پر متعارف کرانے کے بعد گارڈز سے جوڑے کو اندر جانے کے لیے اجازت طلب کی۔</p>
<p>ایک اہلکار نے بتایا کہ اس شخص نے گارڈز کو کہا کہ دلہن اس کی بیٹی ہے اور جوڑے کی خواہش ہے کہ وہ شادی کو یادگار بنانے کے لیے میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی 150 سال پرانی تاریخی عمارت کے سامنے کچھ تصاویر لینا چاہتے ہیں۔</p>
<p>انسٹی ٹیوٹ کے ایک ڈرائیور نے گارڈز سے کہا کہ وہ یونیورسٹی کے سابق گریجویٹ کا رشتہ دار ہونے کی وجہ سے جوڑے کو اندر جانے دیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1148152"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اہلکار نے کہا کہ فوٹوگرافر نے سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر اپ لوڈ کیں جو وائرل ہوگئیں اور اس طرح کی سرگرمی کی اجازت دینے پر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ پر تنقید کی گئی۔</p>
<p>اہلکار نے مزید کہا کہ ادارے نے جوڑے کو فوٹو شوٹ کی اجازت دینے پر ڈرائیور اور دو گارڈز سمیت تین ملازمین کو سروس سے معطل کردیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ انسٹی ٹیوٹ نے شوہر، بیوی اور فوٹو شوٹ میں شامل 4 فوٹوگرافرز کے خلاف کارروائی کے لیے پولیس میں شکایت بھی جمع کرائی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1194555</guid>
      <pubDate>Thu, 29 Dec 2022 13:52:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/29130241ceb3a7c.jpg?r=135250" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/29130241ceb3a7c.jpg?r=135250"/>
        <media:title>انسٹی ٹیوٹ نے شوہر، بیوی اور فوٹو شوٹ میں شامل 4 فوٹوگرافرز کےخلاف کارروائی کے لیے پولیس میں شکایت بھی جمع کرائی ہے — فائل فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
