<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 05:40:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 05:40:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 8 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1194596/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 29 کروڑ40 لاکھ کمی کے بعد 8 سال کی کم ترین سطح پر پہنچنے کے بعد 5 ارب 80 کروڑ ڈالر ہوگئے ہیں جس سے ملک کے لیے غیر ملکی قرضے کی ادائیگی مزید مشکل ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1728960/sbps-forex-reserves-fall-to-eight-year-low"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق مذکورہ زرمبادلہ ذخائر غیر ملکی قرضوں کا بوجھ کم نہیں کرسکتے جس سے  ملک کو ایک تشویشناک صورتحال کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ وفاقی وزیر اسحٰق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان دیوالیہ نہیں ہوگا لیکن زمینی حقائق ان کے دعوؤں کی تائید نہیں کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال کے اوائل سے ہی مرکزی بینک کے ذخائر میں مسلسل کمی آرہی ہے، تجزیہ کاروں اور ماہرین کا ملکی معیشت کے حوالے سے خیال ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے، ماہرین صرف وزیرخزانہ کے بیان پر یقین نہیں کرسکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1179599"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال حکومت کی تبدیلی کے بعد اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں مسلسل کمی آرہی ہے اور اس عرصے میں بھاری رقم کی ادائیگی کے لیے بہت کم رقم خرچ کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تبدیل ہوئی اور شہباز شریف وزیراعظم بنے تو زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب 50 کروڑ تھے جو 23 دسمبر 2022 کو 5 ارب 80 کروڑ رہ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک دیوالیہ ہونے کا خدشہ شرح مبادلہ کے عدم استحکام سے بھی ظاہر ہوتا ہے جس نے تمام بڑی کرنسیوں بالخصوص امریکی ڈالر کے مقابلے میں مقامی کرنسی کی قدر کو کم کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک امریکی ڈالر جو اپریل میں 180 روپے میں فروخت ہورہا تھا تاہم گزشتہ روز (29 دسمبر کو) انٹر بینک مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر 226  روپے کا ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود گزشتہ دو ماہ کے دوران اوپن مارکیٹ سے ڈالر غائب تقریباً ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/3009424936c497d.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے بھی سنگین صورتحال یہ ہے کہ امریکی ڈالر کی قلت کے سبب گرے مارکیٹ تیزی سے سامنے آئی ہے جہاں  انٹر بینک میں ایک ڈالر 226 روپے کے مقابلے 260 سے 270 روپے ظاہر کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرح میں نمایاں فرق نے پہلے ہی سرکاری بینکنگ چینل کے ذریعے آنے والی ترسیلات پر اثر انداز ہونا شروع کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان کو ترسیلات زر میں ماہانہ 30 کروڑ ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1176029"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر  یہی صورتحال جاری رہی تو مزید ترسیلات زر گرے مارکیٹ میں چلے جائیں گی اور رواں سال کے آخر میں ملک کو 4 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خراب معاشی صورتحال نے پہلے ہی ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں جہاں رواں سال جولائی اور نومبر کے دوران 43 کروڑ ڈالر موصول ہوئے تھے جو گزشتہ سال 88 کروڑ 50 لاکھ تھے اور اس کے مقابلے میں 51 فیصد کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرخزانہ اسحٰق ڈار کے علاوہ تمام اسٹیک ہولڈرز ملک کے زرمبادلہ ذخائر کی خراب صورتحال کے حوالے سے انتہائی پریشان ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا ہے کہ وزیرخزانہ کو اعلان کرنا چاہیے کہ انہوں  نے قرضوں کی ادائیگی کے لیے رقم کا بندوبست کرلیا ہے، چین اور نہ سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے مطابق کمرشل بینک کے 5 ارب 88 کروڑ ڈالر سمیت  ملک کی مجموعی ترسیلات زر 11 ارب 70 کروڑ ڈالر ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 29 کروڑ40 لاکھ کمی کے بعد 8 سال کی کم ترین سطح پر پہنچنے کے بعد 5 ارب 80 کروڑ ڈالر ہوگئے ہیں جس سے ملک کے لیے غیر ملکی قرضے کی ادائیگی مزید مشکل ہو گئی ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1728960/sbps-forex-reserves-fall-to-eight-year-low">رپورٹ</a></strong> کے مطابق مذکورہ زرمبادلہ ذخائر غیر ملکی قرضوں کا بوجھ کم نہیں کرسکتے جس سے  ملک کو ایک تشویشناک صورتحال کا سامنا ہے۔</p>
<p>اگرچہ وفاقی وزیر اسحٰق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان دیوالیہ نہیں ہوگا لیکن زمینی حقائق ان کے دعوؤں کی تائید نہیں کرتے۔</p>
<p>رواں مالی سال کے اوائل سے ہی مرکزی بینک کے ذخائر میں مسلسل کمی آرہی ہے، تجزیہ کاروں اور ماہرین کا ملکی معیشت کے حوالے سے خیال ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے، ماہرین صرف وزیرخزانہ کے بیان پر یقین نہیں کرسکتے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1179599"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رواں سال حکومت کی تبدیلی کے بعد اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں مسلسل کمی آرہی ہے اور اس عرصے میں بھاری رقم کی ادائیگی کے لیے بہت کم رقم خرچ کی گئی ہے۔</p>
<p>اپریل میں جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تبدیل ہوئی اور شہباز شریف وزیراعظم بنے تو زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب 50 کروڑ تھے جو 23 دسمبر 2022 کو 5 ارب 80 کروڑ رہ گئے۔</p>
<p>ملک دیوالیہ ہونے کا خدشہ شرح مبادلہ کے عدم استحکام سے بھی ظاہر ہوتا ہے جس نے تمام بڑی کرنسیوں بالخصوص امریکی ڈالر کے مقابلے میں مقامی کرنسی کی قدر کو کم کر دیا ہے۔</p>
<p>ایک امریکی ڈالر جو اپریل میں 180 روپے میں فروخت ہورہا تھا تاہم گزشتہ روز (29 دسمبر کو) انٹر بینک مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر 226  روپے کا ہوگیا ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود گزشتہ دو ماہ کے دوران اوپن مارکیٹ سے ڈالر غائب تقریباً ہوچکا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2022/12/3009424936c497d.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>اس سے بھی سنگین صورتحال یہ ہے کہ امریکی ڈالر کی قلت کے سبب گرے مارکیٹ تیزی سے سامنے آئی ہے جہاں  انٹر بینک میں ایک ڈالر 226 روپے کے مقابلے 260 سے 270 روپے ظاہر کررہا ہے۔</p>
<p>شرح میں نمایاں فرق نے پہلے ہی سرکاری بینکنگ چینل کے ذریعے آنے والی ترسیلات پر اثر انداز ہونا شروع کردیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب پاکستان کو ترسیلات زر میں ماہانہ 30 کروڑ ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1176029"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کرنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر  یہی صورتحال جاری رہی تو مزید ترسیلات زر گرے مارکیٹ میں چلے جائیں گی اور رواں سال کے آخر میں ملک کو 4 ارب روپے کا نقصان ہوگا۔</p>
<p>خراب معاشی صورتحال نے پہلے ہی ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں جہاں رواں سال جولائی اور نومبر کے دوران 43 کروڑ ڈالر موصول ہوئے تھے جو گزشتہ سال 88 کروڑ 50 لاکھ تھے اور اس کے مقابلے میں 51 فیصد کم ہیں۔</p>
<p>وزیرخزانہ اسحٰق ڈار کے علاوہ تمام اسٹیک ہولڈرز ملک کے زرمبادلہ ذخائر کی خراب صورتحال کے حوالے سے انتہائی پریشان ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ وزیرخزانہ کو اعلان کرنا چاہیے کہ انہوں  نے قرضوں کی ادائیگی کے لیے رقم کا بندوبست کرلیا ہے، چین اور نہ سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچائیں گے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے مطابق کمرشل بینک کے 5 ارب 88 کروڑ ڈالر سمیت  ملک کی مجموعی ترسیلات زر 11 ارب 70 کروڑ ڈالر ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1194596</guid>
      <pubDate>Fri, 30 Dec 2022 14:13:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (شاہد اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/12/300937590e1b314.png?r=093818" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/12/300937590e1b314.png?r=093818"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
