<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:12:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:12:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لکی مروت: پولیس چوکی پر دہشت گردوں کا حملہ، کانسٹیبل شہید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1194701/</link>
      <description>&lt;p&gt;خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے نواحی علاقے شہباز خیل میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے حملے میں ایک اہلکار  شہید ہوگیا جب کہ جوابی کارروائی میں  ایک دہشت گرد بھی مارا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان لکی مروت پولیس کے مطابق نیا سال شروع ہوتے ہی رات کو دہشت گردوں نے پولیس چوکی شہباز خیل پر خود کار ہتھاروں سے حملہ کیا، دہشت گردوں نے بھاری اور خودکار اسلحے سے لیس ہو کر پولیس کو نشانہ بنایا اور چوکی کے اندر گھسنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/KP_Police1/status/1609427576304373763"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس  کے مطابق دہشت گردوں نے پولیس چوکی شہبازخیل کو کئی اطراف سے  خودکار ہتھیاروں سے مسلسل نشانہ بنایا، اس دوران انہوں نے آر  پی جی سیون راکٹ لانچر اور دستی بموں سمیت جدید ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے  مطابق پولیس نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا حملہ پسپا کیا اور اس دوران ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193961"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ہلاک دہشت گرد کی شناخت اویس سکنہ عبدالخیل کے نام ہوئی جو کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز  پر حملوں کے مقدمات میں سی ٹی ڈی بنوں پولیس کو مطلوب تھا، ہلاک دہشت گرد کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کا کہنا تھا کہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا، تاہم دہشت گردوں کے حملے میں آر آر ایف فورس کا ایک جوان کانسٹیبل تحسین اللہ  زخمی ہوگیا اور  زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کرگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ علاقے میں کسی دہشت گرد کی موجودگی کے پیش نظر سرچ آپریشن جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/01/0113570842e1f6a.jpg'  alt='&amp;mdash; فوٹو: سراج الدین' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;— فوٹو: سراج الدین&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران ملک میں امن و امان کی صورت حال مزید خراب ہوئی ہے، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، عسکریت پسند گروپ داعش اور گل بہادر گروپ جیسے دہشت گرد گروہ ملک بھر میں حملے کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان میں باغیوں نے بھی اپنی پرتشدد کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ گٹھ جوڑ بنالیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191982"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سال 2022 کے دوران خیبرپختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد محکمہ پولیس نے جنوبی اور شمالی وزیرستان، لکی مروت اور بنوں کے اضلاع کو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ مقامات قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں پولیس کے خلاف ٹارگٹڈ حملوں میں بھی اضافہ ہوا، دہشت گردوں سمیت جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیوں میں 118 پولیس اہلکار شہید اور 117 زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں 20 دسمبر کو بھی وانا کے پولیس اسٹیشن پر عسکریت پسندوں نے دھاوا بول دیا تھا اور گولہ بارود سمیت اسلحہ چھین کر فرار ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل دسمبر میں ہی ضلع لکی مروت کے تھانا برگئی پر دہشت گردوں کے حملے میں 4 پولیس اہلکار شہید اور 4 زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں 11 نومبر کو شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں ایک خودکش حملے میں 5 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;23 اکتوبر کو میر علی میں ایک خودکش حملہ آور نے قافلے پر حملہ کیا جس میں 21 فوجی زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت کے نواحی علاقے شہباز خیل میں پولیس چوکی پر دہشت گردوں کے حملے میں ایک اہلکار  شہید ہوگیا جب کہ جوابی کارروائی میں  ایک دہشت گرد بھی مارا گیا۔</p>
<p>ترجمان لکی مروت پولیس کے مطابق نیا سال شروع ہوتے ہی رات کو دہشت گردوں نے پولیس چوکی شہباز خیل پر خود کار ہتھاروں سے حملہ کیا، دہشت گردوں نے بھاری اور خودکار اسلحے سے لیس ہو کر پولیس کو نشانہ بنایا اور چوکی کے اندر گھسنے کی کوشش کی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/KP_Police1/status/1609427576304373763"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>پولیس  کے مطابق دہشت گردوں نے پولیس چوکی شہبازخیل کو کئی اطراف سے  خودکار ہتھیاروں سے مسلسل نشانہ بنایا، اس دوران انہوں نے آر  پی جی سیون راکٹ لانچر اور دستی بموں سمیت جدید ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا۔</p>
<p>ترجمان کے  مطابق پولیس نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا حملہ پسپا کیا اور اس دوران ایک دہشت گرد ہلاک ہوگیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193961"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پولیس کے مطابق ہلاک دہشت گرد کی شناخت اویس سکنہ عبدالخیل کے نام ہوئی جو کہ پولیس اور سیکیورٹی فورسز  پر حملوں کے مقدمات میں سی ٹی ڈی بنوں پولیس کو مطلوب تھا، ہلاک دہشت گرد کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا۔</p>
<p>ترجمان کا کہنا تھا کہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا، تاہم دہشت گردوں کے حملے میں آر آر ایف فورس کا ایک جوان کانسٹیبل تحسین اللہ  زخمی ہوگیا اور  زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کرگیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ علاقے میں کسی دہشت گرد کی موجودگی کے پیش نظر سرچ آپریشن جاری ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/01/0113570842e1f6a.jpg'  alt='&mdash; فوٹو: سراج الدین' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>— فوٹو: سراج الدین</figcaption>
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران ملک میں امن و امان کی صورت حال مزید خراب ہوئی ہے، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، عسکریت پسند گروپ داعش اور گل بہادر گروپ جیسے دہشت گرد گروہ ملک بھر میں حملے کر رہے ہیں۔</p>
<p>بلوچستان میں باغیوں نے بھی اپنی پرتشدد کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ گٹھ جوڑ بنالیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1191982"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سال 2022 کے دوران خیبرپختونخوا میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد محکمہ پولیس نے جنوبی اور شمالی وزیرستان، لکی مروت اور بنوں کے اضلاع کو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ مقامات قرار دیا۔</p>
<p>2022 میں پولیس کے خلاف ٹارگٹڈ حملوں میں بھی اضافہ ہوا، دہشت گردوں سمیت جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیوں میں 118 پولیس اہلکار شہید اور 117 زخمی ہوئے۔</p>
<p>خیبرپختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں 20 دسمبر کو بھی وانا کے پولیس اسٹیشن پر عسکریت پسندوں نے دھاوا بول دیا تھا اور گولہ بارود سمیت اسلحہ چھین کر فرار ہوگئے تھے۔</p>
<p>اس سے قبل دسمبر میں ہی ضلع لکی مروت کے تھانا برگئی پر دہشت گردوں کے حملے میں 4 پولیس اہلکار شہید اور 4 زخمی ہوگئے تھے۔</p>
<p>قبل ازیں 11 نومبر کو شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میں ایک خودکش حملے میں 5 سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔</p>
<p>23 اکتوبر کو میر علی میں ایک خودکش حملہ آور نے قافلے پر حملہ کیا جس میں 21 فوجی زخمی ہوئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1194701</guid>
      <pubDate>Sun, 01 Jan 2023 14:38:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سراج الدینویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/0113534692f314e.jpg?r=143840" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/0113534692f314e.jpg?r=143840"/>
        <media:title>دہشتگردوں کے حملے میں آر آر ایف فورس کا کانسٹیبل تحسین اللہ شہید ہوگیا — فوٹو: سراج الدین
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
