<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 16:03:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 16:03:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوکرین کا ڈونٹسک میں عمارت پر میزائل حملہ، سیکڑوں روسی فوجیوں کی ہلاکتوں کا دعویٰ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1194772/</link>
      <description>&lt;p&gt;یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونٹسک میں عارضی بیرک پر میزائل حملے میں سیکڑوں روسی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹز‘  کے مطابق روس نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے درجنوں فوجی مارے گئے ہیں جبکہ روسی قوم پرست بلاگرز نے مطالبہ کیا ہے کہ فوجیوں کو گولہ بارود کے ذخیرے کے ساتھ رہائش دینے پر کمانڈروں کو سزا دی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس کی وزارت دفاع نے کہا کہ ماکیوکا کے سابق ووکیشنل کالج میں مہلک دھماکے سے ایک عارضی بیرک تباہ ہوگئی، اور 63 فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193773"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا گیا کہ رہائشی سہولت پر  4 امریکی ساختہ ہمراس میزائل لگے جبکہ دو کو مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں کیف نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے، تاہم روس نواز حکام نے کہا کہ تعداد کو بڑھا چڑھا کر بتایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق روسی فوجی بلاگرز جن کے فالورز لاکھوں میں ہے، بتایا کہ اسی عمارت میں اسلحے کا ذخیرہ تھا، جس میں رہائش تھی، اس وجہ سے زیادہ تباہی ہوئی، حالانکہ کمانڈرز جانتے تھے کہ یہ عمارت یوکرین میزائلوں کی رینج میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، یوکرین نے بتایا تھا کہ روس نے کیف اور دیگر شہروں میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز حملے کیے تھے، تمام 39 ڈونز کو مار گرایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194383"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ماکیوکا میں حملے کے بعد سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ پوسٹ کی گئی فوٹیجز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بڑی عمارت چھوٹی ہو گئی اور اس میں سے دھواں اٹھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقی یوکرین میں روس کے حامی سابق کمانڈر ایگور گیرکن جو اعلیٰ سطح کے فوجی بلاگر ہیں، بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے، بعد ازاں، اپنی پوسٹ میں تبدیلی کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں زخمی بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ وہاں پر روسی فوجی سازو سامان اور اسلحے کا ذخیرہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور بلاگر ارچن جیل نے بتایا کہ ماکیوکا میں جو ہوا وہ خوف ناک تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ یہ کس کا خیال تھا کہ ایک ہی عمارت میں اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کو ٹھہرایا جائے، یہ کوئی بے وقوف بھی سمجھ سکتا ہے کہ اگر وہاں حملہ ہوتا ہے تو کافی زخمی یا ہلاکتیں ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں، &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/world-europe-64142650"&gt;&lt;strong&gt;بی بی سی کی رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یوکرین نے دعویٰ کیا تھا کہ حملے میں 400  ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ 300 زخمی ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونٹسک میں عارضی بیرک پر میزائل حملے میں سیکڑوں روسی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹز‘  کے مطابق روس نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے درجنوں فوجی مارے گئے ہیں جبکہ روسی قوم پرست بلاگرز نے مطالبہ کیا ہے کہ فوجیوں کو گولہ بارود کے ذخیرے کے ساتھ رہائش دینے پر کمانڈروں کو سزا دی جائے۔</p>
<p>روس کی وزارت دفاع نے کہا کہ ماکیوکا کے سابق ووکیشنل کالج میں مہلک دھماکے سے ایک عارضی بیرک تباہ ہوگئی، اور 63 فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193773"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مزید بتایا گیا کہ رہائشی سہولت پر  4 امریکی ساختہ ہمراس میزائل لگے جبکہ دو کو مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا۔</p>
<p>رپورٹ میں کیف نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے، تاہم روس نواز حکام نے کہا کہ تعداد کو بڑھا چڑھا کر بتایا گیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق روسی فوجی بلاگرز جن کے فالورز لاکھوں میں ہے، بتایا کہ اسی عمارت میں اسلحے کا ذخیرہ تھا، جس میں رہائش تھی، اس وجہ سے زیادہ تباہی ہوئی، حالانکہ کمانڈرز جانتے تھے کہ یہ عمارت یوکرین میزائلوں کی رینج میں ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب، یوکرین نے بتایا تھا کہ روس نے کیف اور دیگر شہروں میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرونز حملے کیے تھے، تمام 39 ڈونز کو مار گرایا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194383"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ کے مطابق ماکیوکا میں حملے کے بعد سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ پوسٹ کی گئی فوٹیجز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بڑی عمارت چھوٹی ہو گئی اور اس میں سے دھواں اٹھ رہا ہے۔</p>
<p>مشرقی یوکرین میں روس کے حامی سابق کمانڈر ایگور گیرکن جو اعلیٰ سطح کے فوجی بلاگر ہیں، بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے، بعد ازاں، اپنی پوسٹ میں تبدیلی کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں زخمی بھی شامل ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ وہاں پر روسی فوجی سازو سامان اور اسلحے کا ذخیرہ کیا گیا تھا۔</p>
<p>ایک اور بلاگر ارچن جیل نے بتایا کہ ماکیوکا میں جو ہوا وہ خوف ناک تھا۔</p>
<p>انہوں نے لکھا کہ یہ کس کا خیال تھا کہ ایک ہی عمارت میں اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کو ٹھہرایا جائے، یہ کوئی بے وقوف بھی سمجھ سکتا ہے کہ اگر وہاں حملہ ہوتا ہے تو کافی زخمی یا ہلاکتیں ہوں گی۔</p>
<p>قبل ازیں، <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/world-europe-64142650"><strong>بی بی سی کی رپورٹ</strong></a> کے مطابق یوکرین نے دعویٰ کیا تھا کہ حملے میں 400  ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ 300 زخمی ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1194772</guid>
      <pubDate>Mon, 02 Jan 2023 23:36:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/02232449a095f29.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/02232449a095f29.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
