<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Business</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 20:13:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 20:13:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دسمبر 2022 کے دوران تجارتی خسارے میں 40.68 فیصد کمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1194855/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کا تجارتی خسارہ دسمبر میں سالانہ بنیادوں پر 40.68 فیصد کم ہو کر دسمبر 2022 میں 2.857 ارب ڈالر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان شماریات بیورو (پی بی ایس) کی جانب سے جاری اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دسمبر 2021 میں تجارتی خسارہ 4.816 ارب ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2022 میں تجارتی خسارے میں کمی کی وجہ ملکی درآمدات میں نمایاں کمی ہے جو 5.161 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ دسمبر  7.58 ارب ڈالر کے مقابلے 31.91 فیصد کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمدات پر پابندیوں کی وجہ سے اس میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، یہ پابندیاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مئی میں ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر میں کمی سے بچنے اور ڈالر کے اخراج کو کم کرنے کے لیے لگائی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے درآمدات کے علاوہ برآمدات کے لیے خام مال کی اشیا پر پابندی بھی عائد کی تھی، جس کے نتیجے میں گزشتہ ماہ برآمدات میں کمی دیکھنے میں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان شماریات بیورو کے اعدادوشمار کے مطابق دسمبر میں کُل برآمدات 2.304 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال دسمبر میں 2.764 ارب ڈالر کے مقابلے میں 16.64 فیصد کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1182961"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملکی معاشی خراب صورتحال اور ملک میں آٹو انڈسٹری کی جانب سے آپریشن جزوی طور پر معطل کرنے کے اعلان کے بعد مرکزی بینک نے درآمدات میں تاخیر کی وجہ سے خام مال کی قلت کا حوالہ دیتے ہوئے 2 جنوری کو مذکورہ پابندیاں ہٹالی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ بنیادوں پر تجارتی خسارے میں 2.36 فیصد اضافہ ہوا، اس اضافے کی وجہ برآمدات میں 3.64 فیصد کمی ہے جبکہ درآمدات میں بھی 0.41 فیصد معمولی اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شماریات بیورو کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی سے دسمبر 2021 کے مقابلے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران تجارتی خسارہ 32.65 فیصد تک محدود رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ 6 ماہ کے دوران برآمدات اور درآمدات کا حجم بالترتیب 14.249 ارب ڈالر اور 31.382 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے 5.79 فیصد اور 22.63 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی سے دسمبر 2022 کے دوران مجموعی طور پر تجارتی خسارہ 17.133 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 25.438 ارب ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کا تجارتی خسارہ دسمبر میں سالانہ بنیادوں پر 40.68 فیصد کم ہو کر دسمبر 2022 میں 2.857 ارب ڈالر رہا۔</p>
<p>پاکستان شماریات بیورو (پی بی ایس) کی جانب سے جاری اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دسمبر 2021 میں تجارتی خسارہ 4.816 ارب ڈالر تھا۔</p>
<p>دسمبر 2022 میں تجارتی خسارے میں کمی کی وجہ ملکی درآمدات میں نمایاں کمی ہے جو 5.161 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ دسمبر  7.58 ارب ڈالر کے مقابلے 31.91 فیصد کم ہیں۔</p>
<p>درآمدات پر پابندیوں کی وجہ سے اس میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، یہ پابندیاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مئی میں ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر میں کمی سے بچنے اور ڈالر کے اخراج کو کم کرنے کے لیے لگائی تھیں۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے درآمدات کے علاوہ برآمدات کے لیے خام مال کی اشیا پر پابندی بھی عائد کی تھی، جس کے نتیجے میں گزشتہ ماہ برآمدات میں کمی دیکھنے میں آئی۔</p>
<p>پاکستان شماریات بیورو کے اعدادوشمار کے مطابق دسمبر میں کُل برآمدات 2.304 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال دسمبر میں 2.764 ارب ڈالر کے مقابلے میں 16.64 فیصد کم ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1182961"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ملکی معاشی خراب صورتحال اور ملک میں آٹو انڈسٹری کی جانب سے آپریشن جزوی طور پر معطل کرنے کے اعلان کے بعد مرکزی بینک نے درآمدات میں تاخیر کی وجہ سے خام مال کی قلت کا حوالہ دیتے ہوئے 2 جنوری کو مذکورہ پابندیاں ہٹالی تھیں۔</p>
<p>ماہانہ بنیادوں پر تجارتی خسارے میں 2.36 فیصد اضافہ ہوا، اس اضافے کی وجہ برآمدات میں 3.64 فیصد کمی ہے جبکہ درآمدات میں بھی 0.41 فیصد معمولی اضافہ ہے۔</p>
<p>شماریات بیورو کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی سے دسمبر 2021 کے مقابلے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران تجارتی خسارہ 32.65 فیصد تک محدود رہا۔</p>
<p>گزشتہ 6 ماہ کے دوران برآمدات اور درآمدات کا حجم بالترتیب 14.249 ارب ڈالر اور 31.382 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے 5.79 فیصد اور 22.63 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>جولائی سے دسمبر 2022 کے دوران مجموعی طور پر تجارتی خسارہ 17.133 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 25.438 ارب ڈالر تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1194855</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Jan 2023 14:47:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر شیرانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/0412434934ae91b.png?r=144737" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/0412434934ae91b.png?r=144737"/>
        <media:title>جولائی سے دسمبر 2022 کے دوران مجموعی طور پر تجارتی خسارہ 17.133 ارب ڈالر رہا— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
