<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 12:13:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 12:13:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ، ڈی جی سول ایوی ایشن کی سربراہی میں 8 رکنی کمیٹی قائم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1194921/</link>
      <description>&lt;p&gt;ملک کے 3 بڑے ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کے معاملے پر ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کی سربراہی میں 8 رکنی کمیٹی قائم کردی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی خاقان مرتضیٰ کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق مذکورہ کمیٹی سرمایہ کاروں کو بروقت ڈیٹا اور معلومات فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مراسلے میں اسلام آباد، لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کو ڈیٹا جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایئرپورٹ پر کنسلٹنٹ فرم کو سہولیات فراہم کرنا بھی کمیٹی کی ذمہ داری ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی، آؤٹ سورسنگ سے متعلق وزارت ہوابازی کو بھی معلومات فراہم کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194637"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام ڈائریکٹریٹ برانچز سے بروقت معلومات جمع کرے اور ایئرپورٹس منیجرز بروقت درست معلومات کی فراہمی یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 31 دسمبر کو وفاقی حکومت نے ملک کے 3 ہوائی اڈوں کو انٹرنیشنل آپریٹرز کے ذریعے چلانے کا فیصلہ کیا تھا، فیصلے کی وجہ ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنا بتائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پہلے مرحلے میں ملک کے 3 ہوائی اڈوں کو انٹرنیشنل آپریٹرز کے ذریعے چلایا جائے گا، انٹرنیشنل آپریٹرز اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے ہوائی اڈوں کو چلانے میں معاونت فراہم کریں گے، 20 سے 25 سال کی مدت کے لیے انٹرنیشنل آپریٹرز ان اداروں کو چلانے میں مدد کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آنے کے بعد گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق نے &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1194898"&gt;&lt;strong&gt;وضاحت&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دیتے ہوئے کہا تھا کہ 3 ایئر پورٹس کے آپریشنز آؤٹ سورس کیے جارہے ہیں لیکن ایئرپورٹ ہمارے پاس ہی رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ آپریشنز کو آؤٹ سورس کرنا نجکاری نہیں ہے، پوری دنیا میں ایئر پورٹس کو آؤٹ سورس کیا جارہا ہے، حکومت کو پریمیئم ملنے کے ساتھ بیرونی سرمایہ کاری آئے گی، وہ اپنا کام کرکے چلے جائیں گے اور ہمارے ایئرپورٹس ہمارے پاس رہیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ملک کے 3 بڑے ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کے معاملے پر ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی کی سربراہی میں 8 رکنی کمیٹی قائم کردی گئی۔</p>
<p>ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی خاقان مرتضیٰ کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق مذکورہ کمیٹی سرمایہ کاروں کو بروقت ڈیٹا اور معلومات فراہم کرے گی۔</p>
<p>مراسلے میں اسلام آباد، لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کو ڈیٹا جمع کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایئرپورٹ پر کنسلٹنٹ فرم کو سہولیات فراہم کرنا بھی کمیٹی کی ذمہ داری ہو گی۔</p>
<p>مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی، آؤٹ سورسنگ سے متعلق وزارت ہوابازی کو بھی معلومات فراہم کرے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194637"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>علاوہ ازیں کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام ڈائریکٹریٹ برانچز سے بروقت معلومات جمع کرے اور ایئرپورٹس منیجرز بروقت درست معلومات کی فراہمی یقینی بنائیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ 31 دسمبر کو وفاقی حکومت نے ملک کے 3 ہوائی اڈوں کو انٹرنیشنل آپریٹرز کے ذریعے چلانے کا فیصلہ کیا تھا، فیصلے کی وجہ ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنا بتائی گئی تھی۔</p>
<p>وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پہلے مرحلے میں ملک کے 3 ہوائی اڈوں کو انٹرنیشنل آپریٹرز کے ذریعے چلایا جائے گا، انٹرنیشنل آپریٹرز اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے ہوائی اڈوں کو چلانے میں معاونت فراہم کریں گے، 20 سے 25 سال کی مدت کے لیے انٹرنیشنل آپریٹرز ان اداروں کو چلانے میں مدد کریں گے۔</p>
<p>اس فیصلے پر بعض حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آنے کے بعد گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق نے <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1194898"><strong>وضاحت</strong></a> دیتے ہوئے کہا تھا کہ 3 ایئر پورٹس کے آپریشنز آؤٹ سورس کیے جارہے ہیں لیکن ایئرپورٹ ہمارے پاس ہی رہیں گے۔</p>
<p>انہوں نے کہا تھا کہ آپریشنز کو آؤٹ سورس کرنا نجکاری نہیں ہے، پوری دنیا میں ایئر پورٹس کو آؤٹ سورس کیا جارہا ہے، حکومت کو پریمیئم ملنے کے ساتھ بیرونی سرمایہ کاری آئے گی، وہ اپنا کام کرکے چلے جائیں گے اور ہمارے ایئرپورٹس ہمارے پاس رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1194921</guid>
      <pubDate>Thu, 05 Jan 2023 14:46:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حسیب بھٹیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/05124339fa4e790.png?r=144704" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/05124339fa4e790.png?r=144704"/>
        <media:title>مراسلے میں اسلام آباد، لاہور اور کراچی ایئرپورٹس کو ڈیٹا جمع کروانے کی ہدایت کی گئی — فائل فوٹو: اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
