<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 22:29:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 22:29:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹوئٹر سے 20 کروڑ صارفین کے ای میل ایڈریس چوری ہونے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1194983/</link>
      <description>&lt;p&gt;آن لائن ہیکرز کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے 20 کروڑ صارفین کے ای میل ایڈریس چرانے کا انکشاف ہوا ہے جنہوں نے اسے چرانے کے بعد آن لائن ہیکنگ فورم پر پوسٹ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اسرائیلی سائبر سیکیورٹی مانیٹرنگ فرم ہڈسن راک کے شریک بانی ایلن گال نے اسے اب تک کی سب سے بڑی سائبر چوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر ای میل ایڈریس چرائے جانے کے بعد اب ہیکنگ بے انتہا بڑھ جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوئٹر نے ابھی تک اپنے پلیٹ فارم سے اتنی بڑی تعداد میں ای میل ایڈریس چرائے جانے کی رپورٹ پر کوئی بیان جاری نہیں کیا اور نہ ہی اس حوالے سے رابطہ کرنے پر کوئی جواب دیا جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ وہ اس عمل پر کیا ایکشن لیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1192051"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;20 کروڑ ای میل ایڈریس چرائے جانے کے ڈیٹا کی آزادانہ طور پر جانچ تو نہیں کی جا سکی لیکن ہیکرز فورم کی جانب سے جاری کیے گئے اسکرین شاٹس سوشل میڈیا پر گردش کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک معروف ٹیک کمپنی کے مالک ٹرائے ہنٹ نے اس ڈیٹا کو دیکھنے کے بعد چوری کی اطلاع کو درست قرار دیا اور کہا کہ بظاہر یہ سب کچھ اسی طرح ہے جیسا بتایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ای میل ایڈریس کو چوری کرنے والے ہیکرز کے بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکیں اور یہ مانا جا رہا ہے کہ انہیں ایلون مسک کی جانب سے کمپنی کی ملکیت کے حصول سے قبل 2021 میں چرایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس چوری کے حجم اور چرائے گئے ای میل ایڈریس کی تعداد کے حوالے سے متعدد رپورٹس زیر گردش ہیں جہاں اس سے قبل دسمبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 40کروڑ ای میل ایڈریس اور فون نمبر چرائے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آن لائن ہیکرز کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے 20 کروڑ صارفین کے ای میل ایڈریس چرانے کا انکشاف ہوا ہے جنہوں نے اسے چرانے کے بعد آن لائن ہیکنگ فورم پر پوسٹ کر دیا ہے۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق اسرائیلی سائبر سیکیورٹی مانیٹرنگ فرم ہڈسن راک کے شریک بانی ایلن گال نے اسے اب تک کی سب سے بڑی سائبر چوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر ای میل ایڈریس چرائے جانے کے بعد اب ہیکنگ بے انتہا بڑھ جائے گی۔</p>
<p>ٹوئٹر نے ابھی تک اپنے پلیٹ فارم سے اتنی بڑی تعداد میں ای میل ایڈریس چرائے جانے کی رپورٹ پر کوئی بیان جاری نہیں کیا اور نہ ہی اس حوالے سے رابطہ کرنے پر کوئی جواب دیا جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ وہ اس عمل پر کیا ایکشن لیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1192051"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>20 کروڑ ای میل ایڈریس چرائے جانے کے ڈیٹا کی آزادانہ طور پر جانچ تو نہیں کی جا سکی لیکن ہیکرز فورم کی جانب سے جاری کیے گئے اسکرین شاٹس سوشل میڈیا پر گردش کررہے ہیں۔</p>
<p>ایک معروف ٹیک کمپنی کے مالک ٹرائے ہنٹ نے اس ڈیٹا کو دیکھنے کے بعد چوری کی اطلاع کو درست قرار دیا اور کہا کہ بظاہر یہ سب کچھ اسی طرح ہے جیسا بتایا جا رہا ہے۔</p>
<p>ان ای میل ایڈریس کو چوری کرنے والے ہیکرز کے بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکیں اور یہ مانا جا رہا ہے کہ انہیں ایلون مسک کی جانب سے کمپنی کی ملکیت کے حصول سے قبل 2021 میں چرایا گیا تھا۔</p>
<p>اس چوری کے حجم اور چرائے گئے ای میل ایڈریس کی تعداد کے حوالے سے متعدد رپورٹس زیر گردش ہیں جہاں اس سے قبل دسمبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 40کروڑ ای میل ایڈریس اور فون نمبر چرائے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1194983</guid>
      <pubDate>Fri, 06 Jan 2023 16:00:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/06125602954dac5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/06125602954dac5.jpg"/>
        <media:title>ٹوئٹر نے ابھی تک اپنے پلیٹ فارم سے اتنی بڑی تعداد میں ای میل ایڈریس چرائے جانے کی رپورٹ پر کوئی بیان جاری نہیں کیا— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
