<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 03:13:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 03:13:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین: بیرون ملک سے آنے والے مسافروں پر قرنطینہ کی پابندی ختم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1195090/</link>
      <description>&lt;p&gt;چین نے 3 سال کے طویل عرصے بعد بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے قرنطینہ کی پابندیوں کو ختم کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق چین نے 3 سال بعد اپنی سرحدوں کو کھول دیا ہے اور سفری پابندی میں مزید نرمی کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے سرحد کھولنے کے بعد ہانک کانگ سے ممکنہ طور پر آئندہ 8 ہفتوں میں  4 لاکھ سے زائد افراد سفر کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ دسمبر میں بیجنگ میں زیرو کووڈ کی حکمت عملی کے تحت کورونا پابندیوں میں نرمی کردی گئی تھی، ان پابندیوں میں لازمی کورونا ٹیسٹ، قرنطینہ جیسی پابندیاں شامل تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194269"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیرو کووڈ پالیسی کی وجہ سے دنیا کی دوسری بڑی معیشت رکھنے والے ملک کو کافی نقصان پہنچا، اس کے علاوہ زیروکووڈ کے خلاف شہری سڑکوں پر نکل آئے اور پالیسی کے خلاف &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1192859"&gt;شدید احتجاج&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شنگھائی پوڈونگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں موجود ایک خاتون نے بتایا کہ مسافروں پر پابندی میں نرمی سے وہ بہت پرجوش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال سے یہ بہت اچھا اقدام ہے کہ پالیسی میں تبدیلی آگئی ہے۔ ’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال سے یہ بہت ضروری تھا، کووڈ کی صورتحال اب معمول پر آگئی ہے’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر میں قرنطینہ کی پابندی ختم کرنے کے اعلان کے بعد بیرون ملک جانے والے چینی شہریوں کی تعداد میں اضافے کے امکان کو دیکھتے ہوئے متعدد ممالک نے وہاں سے آنے والے مسافروں کے لیے کووڈ ٹیسٹ کو لازمی قرار دے دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی جانب سے ان سفری پابندیوں کو ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین میں سفری پابندیوں کا اختتام اس وقت کیا گیا ہے جب وہاں نئے قمری سال کا آغاز ہونے والا ہے جس کے بعد لاکھوں لوگ اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے چین کا سفر کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="پالیسی-میں-تبدیلی-سے-ہم-بہت-خوش-ہیں" href="#پالیسی-میں-تبدیلی-سے-ہم-بہت-خوش-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’پالیسی میں تبدیلی سے ہم بہت خوش ہیں‘&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;بیجنگ ایئرپورٹ پر ایک خاتون ہانگ کانگ سے آنے والی اپنی دوست کا انتظار کر رہی تھی، انہوں نے بتایا کہ میں اپنی دوست کو کافی عرصے بعد ملوں گی اور سب سے پہلے ہم باہر جاکر کھانا کھائیں گے اور انجوائے کریں گے’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;20 سالہ وو نامی خاتون نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ’پالیسی میں تبدیلی بہت اچھا اقدام ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شنگھائی ایئرپورٹ میں یانگ نامی ایک شخص امریکا سے واپس چین آرہا تھا، انہوں نے بتایا کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ پالیسی میں تبدیلی آگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1192469"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ ’میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھوں گا اگر مجھے صرف دو دن کے لیے قرنطینہ کرنے کی ضرورت ہوگی، اور جب مجھے معلوم ہوا کہ نہ قرنطینہ ہونا پڑےگا اور نہ ہی کوئی کاغذی کارروائی کرنی ہوگی تو مجھے بہت خوشی ہوئی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’میں بہت خوش ہوں کہ اب ہمیں قرنطینہ نہیں ہونا پڑے گا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ہانک-گانک-کی-سرحد-بھی-کھول-دی-گئی" href="#ہانک-گانک-کی-سرحد-بھی-کھول-دی-گئی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ہانک گانک کی سرحد بھی کھول دی گئی&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;چین کی سرحد سے ملنے والے شہر ہانگ کانگ میں سفری پابندیوں میں نرمی کے بعد کئی شہری چین کا سفر کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قمری سال کا آغاز ہونے کے بعد ہزاروں خاندان اپنے پیاروں سے ملنے چین جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہانگ کانگ میں تقریباً 4 لاکھ 10 ہزار افراد نے اگلے دو ماہ میں چین کا سفر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ چین سے تقریباً 7 ہزار افراد ہانک کانگ کا سفر کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین سے تعلق رکھنے والے پوسٹ گریجویٹ طالبعلم نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ وہ پابندیاں ختم ہونے کے بعد سفر کرنے کے لیے انتہائی پُرجوش ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ میں اس وقت تک خوش ہوں جب تک کہ مجھے قرنطینہ نہیں ہونا پڑے گا، قرنطینہ میں رہنا میرے لیے ناقابل برداشت تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چین نے 3 سال کے طویل عرصے بعد بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے قرنطینہ کی پابندیوں کو ختم کردیا۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق چین نے 3 سال بعد اپنی سرحدوں کو کھول دیا ہے اور سفری پابندی میں مزید نرمی کردی ہے۔</p>
<p>بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے سرحد کھولنے کے بعد ہانک کانگ سے ممکنہ طور پر آئندہ 8 ہفتوں میں  4 لاکھ سے زائد افراد سفر کریں گے۔</p>
<p>یاد رہے کہ دسمبر میں بیجنگ میں زیرو کووڈ کی حکمت عملی کے تحت کورونا پابندیوں میں نرمی کردی گئی تھی، ان پابندیوں میں لازمی کورونا ٹیسٹ، قرنطینہ جیسی پابندیاں شامل تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194269"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>زیرو کووڈ پالیسی کی وجہ سے دنیا کی دوسری بڑی معیشت رکھنے والے ملک کو کافی نقصان پہنچا، اس کے علاوہ زیروکووڈ کے خلاف شہری سڑکوں پر نکل آئے اور پالیسی کے خلاف <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1192859">شدید احتجاج</a></strong> کیا۔</p>
<p>شنگھائی پوڈونگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں موجود ایک خاتون نے بتایا کہ مسافروں پر پابندی میں نرمی سے وہ بہت پرجوش ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال سے یہ بہت اچھا اقدام ہے کہ پالیسی میں تبدیلی آگئی ہے۔ ’</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال سے یہ بہت ضروری تھا، کووڈ کی صورتحال اب معمول پر آگئی ہے’۔</p>
<p>دسمبر میں قرنطینہ کی پابندی ختم کرنے کے اعلان کے بعد بیرون ملک جانے والے چینی شہریوں کی تعداد میں اضافے کے امکان کو دیکھتے ہوئے متعدد ممالک نے وہاں سے آنے والے مسافروں کے لیے کووڈ ٹیسٹ کو لازمی قرار دے دیا ہے۔</p>
<p>چین کی جانب سے ان سفری پابندیوں کو ناقابل قبول قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p>چین میں سفری پابندیوں کا اختتام اس وقت کیا گیا ہے جب وہاں نئے قمری سال کا آغاز ہونے والا ہے جس کے بعد لاکھوں لوگ اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے چین کا سفر کریں گے۔</p>
<h3><a id="پالیسی-میں-تبدیلی-سے-ہم-بہت-خوش-ہیں" href="#پالیسی-میں-تبدیلی-سے-ہم-بہت-خوش-ہیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’پالیسی میں تبدیلی سے ہم بہت خوش ہیں‘</h3>
<p>بیجنگ ایئرپورٹ پر ایک خاتون ہانگ کانگ سے آنے والی اپنی دوست کا انتظار کر رہی تھی، انہوں نے بتایا کہ میں اپنی دوست کو کافی عرصے بعد ملوں گی اور سب سے پہلے ہم باہر جاکر کھانا کھائیں گے اور انجوائے کریں گے’۔</p>
<p>20 سالہ وو نامی خاتون نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ’پالیسی میں تبدیلی بہت اچھا اقدام ہے‘۔</p>
<p>شنگھائی ایئرپورٹ میں یانگ نامی ایک شخص امریکا سے واپس چین آرہا تھا، انہوں نے بتایا کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ پالیسی میں تبدیلی آگئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1192469"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ ’میں اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھوں گا اگر مجھے صرف دو دن کے لیے قرنطینہ کرنے کی ضرورت ہوگی، اور جب مجھے معلوم ہوا کہ نہ قرنطینہ ہونا پڑےگا اور نہ ہی کوئی کاغذی کارروائی کرنی ہوگی تو مجھے بہت خوشی ہوئی‘۔</p>
<p>ایک اور خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’میں بہت خوش ہوں کہ اب ہمیں قرنطینہ نہیں ہونا پڑے گا۔‘</p>
<h3><a id="ہانک-گانک-کی-سرحد-بھی-کھول-دی-گئی" href="#ہانک-گانک-کی-سرحد-بھی-کھول-دی-گئی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ہانک گانک کی سرحد بھی کھول دی گئی</h3>
<p>چین کی سرحد سے ملنے والے شہر ہانگ کانگ میں سفری پابندیوں میں نرمی کے بعد کئی شہری چین کا سفر کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔</p>
<p>قمری سال کا آغاز ہونے کے بعد ہزاروں خاندان اپنے پیاروں سے ملنے چین جائیں گے۔</p>
<p>سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہانگ کانگ میں تقریباً 4 لاکھ 10 ہزار افراد نے اگلے دو ماہ میں چین کا سفر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جبکہ چین سے تقریباً 7 ہزار افراد ہانک کانگ کا سفر کریں گے۔</p>
<p>چین سے تعلق رکھنے والے پوسٹ گریجویٹ طالبعلم نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ وہ پابندیاں ختم ہونے کے بعد سفر کرنے کے لیے انتہائی پُرجوش ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ میں اس وقت تک خوش ہوں جب تک کہ مجھے قرنطینہ نہیں ہونا پڑے گا، قرنطینہ میں رہنا میرے لیے ناقابل برداشت تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1195090</guid>
      <pubDate>Sun, 08 Jan 2023 16:42:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/0815064020c5898.jpg?r=151331" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/0815064020c5898.jpg?r=151331"/>
        <media:title>چین نے 3 سال بعد اپنی سرحدوں کو کھول دیا— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
