<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 21:11:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 21:11:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برازیل میں فسادات کے الزام میں گرفتار 1200 افراد پر مقدمات درج کرنے کی تیاریاں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1195292/</link>
      <description>&lt;p&gt;برازیل میں ہنگامہ آرائی کرنے پر ایک ہزار 200 سے زائد افراد کو باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا، ان پر مقدمات درج کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/world-latin-america-64239442"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق فسادات کے بعد 1500 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، باضابطہ طور پر گرفتار مشتبہ افراد پر مقدمات درج کرنے کے لیے حکام کے پاس 5 دن ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید مظاہروں کے حوالے سے خدشات کے سبب برازیل کے دارالحکومت میں بڑی تعداد میں سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برازیل کی وفاقی پولیس کے ذرائع کے مطابق جن افراد پر باضابطہ طور پر الزامات عائد کئے گئے ہیں، انہیں برازیلیا میں فورس کی اکیڈمی میں رکھا جائے گا جبکہ کچھ افراد کو دیگر سہولیات میں منتقل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایسے افراد جنہیں حراست میں لینے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا، انہیں تحقیقات کے بعد گرفتار کیا جاسکتا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ان خدشات کا اظہار کیا کہ سابق صدر جیئر بولسونارو کے سخت گیر حامیوں کی جانب سے مزید مظاہروں کا انعقاد بھی کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید بتایا کہ وفاقی پراسیکیوٹرز کے مطابق جیئر بولسونارو کے حامی گروپس برازیل کی ریاستوں کی دارالحکومتوں میں بڑے مظاہرے کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195140"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویز میں متعدد اضافی حفاظتی اقدامات کا بھی خاکہ پیش کیا گیا ہے، جن میں سڑکیں بلاک کرنے اور عوامی عمارتوں پر حملہ کرنے والے مشتبہ افراد کی فوری گرفتاری کے علاوہ  پر شرکا پر 20 ہزار برازیلین ریال (3830 ڈالر) فی گھنٹہ کے سخت جرمانے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح لاجسٹک اور مالیاتی سہولت فراہم کرنے والی کمپنیوں پر ایک لاکھ برازیلین ریال (19181   ڈالر) تک کا جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق حکومت سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے مطالبہ کررہی ہے کہ وہ ایسے اکاؤنٹس کو معطل کرنے کے لیے اقدامات کریں جو مجرمانہ رویے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو برازیل کے اراکین اسمبلی نے ایک وفاقی مداخلتکی منظوری دی تھی، جس میں برازیلیا میں پولیس اور سیکیورٹی کے فرائض انجام دینے کے لیے فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برازیل کی نیشنل فورس کے درجنوں فوجی برازیل کے صدارتی محل اور کانگریس کے قریب ڈیوٹی پر تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برازیل میں ہنگامہ آرائی کرنے پر ایک ہزار 200 سے زائد افراد کو باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا گیا، ان پر مقدمات درج کیے جائیں گے۔</p>
<p>بی بی سی کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/world-latin-america-64239442"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق فسادات کے بعد 1500 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، باضابطہ طور پر گرفتار مشتبہ افراد پر مقدمات درج کرنے کے لیے حکام کے پاس 5 دن ہیں۔</p>
<p>مزید مظاہروں کے حوالے سے خدشات کے سبب برازیل کے دارالحکومت میں بڑی تعداد میں سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔</p>
<p>برازیل کی وفاقی پولیس کے ذرائع کے مطابق جن افراد پر باضابطہ طور پر الزامات عائد کئے گئے ہیں، انہیں برازیلیا میں فورس کی اکیڈمی میں رکھا جائے گا جبکہ کچھ افراد کو دیگر سہولیات میں منتقل کیا جائے گا۔</p>
<p>حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایسے افراد جنہیں حراست میں لینے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا، انہیں تحقیقات کے بعد گرفتار کیا جاسکتا ہے ۔</p>
<p>انہوں نے ان خدشات کا اظہار کیا کہ سابق صدر جیئر بولسونارو کے سخت گیر حامیوں کی جانب سے مزید مظاہروں کا انعقاد بھی کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید بتایا کہ وفاقی پراسیکیوٹرز کے مطابق جیئر بولسونارو کے حامی گروپس برازیل کی ریاستوں کی دارالحکومتوں میں بڑے مظاہرے کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195140"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دستاویز میں متعدد اضافی حفاظتی اقدامات کا بھی خاکہ پیش کیا گیا ہے، جن میں سڑکیں بلاک کرنے اور عوامی عمارتوں پر حملہ کرنے والے مشتبہ افراد کی فوری گرفتاری کے علاوہ  پر شرکا پر 20 ہزار برازیلین ریال (3830 ڈالر) فی گھنٹہ کے سخت جرمانے شامل ہیں۔</p>
<p>اسی طرح لاجسٹک اور مالیاتی سہولت فراہم کرنے والی کمپنیوں پر ایک لاکھ برازیلین ریال (19181   ڈالر) تک کا جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق حکومت سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے مطالبہ کررہی ہے کہ وہ ایسے اکاؤنٹس کو معطل کرنے کے لیے اقدامات کریں جو مجرمانہ رویے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہیں۔</p>
<p>منگل کو برازیل کے اراکین اسمبلی نے ایک وفاقی مداخلتکی منظوری دی تھی، جس میں برازیلیا میں پولیس اور سیکیورٹی کے فرائض انجام دینے کے لیے فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔</p>
<p>برازیل کی نیشنل فورس کے درجنوں فوجی برازیل کے صدارتی محل اور کانگریس کے قریب ڈیوٹی پر تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1195292</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Jan 2023 00:12:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/1200103085a85a0.png?r=001130" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/1200103085a85a0.png?r=001130"/>
        <media:title>— فوٹو: بی بی سی / ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
