<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 16:30:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 16:30:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ضلع خیبر میں 85 میٹر گہرے کنویں سے بچے کو نکالا نہیں جاسکا، کنواں قبر قرار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1195327/</link>
      <description>&lt;p&gt;ضلع خیبر کے علاقے عالم گودر میں گزشتہ روز 85 میٹر گہرے اور 12 انچ تنگ کنویں میں گرنے والے 3 سالہ بچے کو ریسکیو نہ کیا جاسکا اور کنویں کو ہی قبر قرار دے کر بچے کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق 27 گھنٹے مسلسل ریسکیو آپریشن کیا گیا تاہم کنویں کی زیادہ گہرائی اور کم چوڑائی کے باعث بچے کو نہیں نکالا جاسکا، آج شام ریسکیو آپریشن بند کردیا گیا اور کنویں کو ہی قبر قرار دے کر بچے کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، نماز جنازہ میں کثیر تعداد میں شہریوں نے حصہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق عالم گودر میں تین سالہ بچہ 85  میٹر گہرے اور  12 انچ تنگ بور (کنویں) میں گر گیا، ریسکیو کی دو دن کی کوششوں کے باوجود بچے کو کنویں نہ نکالا جا سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;باڑہ کے نواحی سپاہ عالم گودر کے علاقے ملک گڑھی میں تین سالہ یحییٰ ولد مصطفیٰ جو کہ اپنے نابینا والد کے ساتھ کھیتوں کی طرف گیا تھا اور وہاں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اس دوران وہ  پرانے بورنگ کے کنویں میں گر گیا، جو غیر استعمال تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واقعے کی اطلاع ریسکیو 1122 کو ملتے ہی ڈیزاسٹر ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور انہیں سرچ کیم کی مدد سے بچے تک رسائی مل گئی تھی، اسے نکالنے کی کوششیں جاری رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1177558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیزاسٹر ٹیموں نے بچے کو نکالنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے تاہم کنویں کی زیادہ گہرائی اور تنگ ہونے کی وجہ سے آپریشن میں شدید مشکلات پیش آئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2 دنوں کی کوششوں کے بعد سخت مشکلات کے باعث فیصلہ کیا گیا کہ کنویں کو قبر قرار دیا جائے، جس پر بچے کو نکالنے کی امدادی کارروائیاں ختم کر دی گئیں اور بچے کی نماز جنازہ وہیں پر ادا کردی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نماز جنازہ میں سیکیورٹی فورسز کی ضلعی انتظامیہ کے افسران، قبائلی و سیاسی عمائدین کے علاوہ مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی اور اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ضلع خیبر کے علاقے عالم گودر میں گزشتہ روز 85 میٹر گہرے اور 12 انچ تنگ کنویں میں گرنے والے 3 سالہ بچے کو ریسکیو نہ کیا جاسکا اور کنویں کو ہی قبر قرار دے کر بچے کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔</p>
<p>حکام کے مطابق 27 گھنٹے مسلسل ریسکیو آپریشن کیا گیا تاہم کنویں کی زیادہ گہرائی اور کم چوڑائی کے باعث بچے کو نہیں نکالا جاسکا، آج شام ریسکیو آپریشن بند کردیا گیا اور کنویں کو ہی قبر قرار دے کر بچے کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، نماز جنازہ میں کثیر تعداد میں شہریوں نے حصہ لیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق عالم گودر میں تین سالہ بچہ 85  میٹر گہرے اور  12 انچ تنگ بور (کنویں) میں گر گیا، ریسکیو کی دو دن کی کوششوں کے باوجود بچے کو کنویں نہ نکالا جا سکا۔</p>
<p>باڑہ کے نواحی سپاہ عالم گودر کے علاقے ملک گڑھی میں تین سالہ یحییٰ ولد مصطفیٰ جو کہ اپنے نابینا والد کے ساتھ کھیتوں کی طرف گیا تھا اور وہاں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اس دوران وہ  پرانے بورنگ کے کنویں میں گر گیا، جو غیر استعمال تھا۔</p>
<p>واقعے کی اطلاع ریسکیو 1122 کو ملتے ہی ڈیزاسٹر ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور انہیں سرچ کیم کی مدد سے بچے تک رسائی مل گئی تھی، اسے نکالنے کی کوششیں جاری رکھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1177558"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈیزاسٹر ٹیموں نے بچے کو نکالنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے تاہم کنویں کی زیادہ گہرائی اور تنگ ہونے کی وجہ سے آپریشن میں شدید مشکلات پیش آئیں۔</p>
<p>2 دنوں کی کوششوں کے بعد سخت مشکلات کے باعث فیصلہ کیا گیا کہ کنویں کو قبر قرار دیا جائے، جس پر بچے کو نکالنے کی امدادی کارروائیاں ختم کر دی گئیں اور بچے کی نماز جنازہ وہیں پر ادا کردی گئی۔</p>
<p>نماز جنازہ میں سیکیورٹی فورسز کی ضلعی انتظامیہ کے افسران، قبائلی و سیاسی عمائدین کے علاوہ مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی اور اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1195327</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Jan 2023 22:12:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جاوید حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/12170939f2e288e.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/12170939f2e288e.png"/>
        <media:title>— فوٹو: جاوید حسین
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
