<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:52:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:52:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ: بلدیاتی انتخابات کے دوران نوجوان ووٹرز کی پولنگ میں عدم دلچسپی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1195503/</link>
      <description>&lt;p&gt;سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران نوجوان کی عدم دلچسپی واضح طور پر دکھائی دی، کئی لوگوں نے سیاسی جماعتوں کی کارکردگی سے مایوسی کا اظہار کیا تو کسی نے جماعت اسلامی کو ووٹ دے کر اسے اپنا آخری آپشن قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1731845/youth-show-lack-of-interest-in-electoral-process"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران نوجوانوں کی عدم شرکت  تبدیلی کا دعویٰ کرنے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور دیگر سیاسی جماعتوں کے دعووں پر سوالیہ نشان ہے تاہم کچھ لوگوں نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی جانب سے &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1195453/"&gt;انتخابات کا بائیکاٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کرنے کو کم ٹرن آؤٹ کی وجہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نارتھ کراچی کی یو-سی 13 کے اسسٹنٹ پریذائیڈنگ افسر جبران رئیس نے ڈان کو بتایا کہ ’الیکشن کے دوران ٹرن آؤٹ بہت کم تھا اور نوجوانوں کی زیادہ تعداد نہیں تھی، تاہم صرف ان لوگوں نے ووٹ ڈالا جو اپنے والدین کے ساتھ آئے تھے، آپ کہہ سکتے ہیں کہ 20 فیصد ووٹرز نوجوان تھے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195500"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ نارتھ ناظم آباد کی یو-سی 4 کے پولنگ افسر نے بتایا کہ عموماً انتخابات کے دوران نوجوانوں کی شرح 30 سے 35 فیصد ہوتی ہے لیکن اس بار شرح مشکل سے صرف 20 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیدرآباد کالونی میں ووٹ ڈالنے والے اجمل زبیر نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے جماعت اسلامی کو ووٹ دیا ہے کیونکہ آج کل اس جماعت کو ووٹ دینا ’فیشن‘ ہے، انہوں  نے مزید بتایا کہ ’میں نے بلدیاتی انتخابات میں پہلی بار ووٹ  کاسٹ کیا ہے اس سے قبل سنہ 2018 کے انتخابات کے دوران میں نے پی ٹی آئی اور پاک سر زمین (صوبائی اسمبلی کے لیے) کو ووٹ دیا تھا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رافع شریف نامی نوجوان نے بھی بلدیاتی انتخابات میں پہلی بار ووٹ کاسٹ کیا، رافع نے ڈان کو بتایا کہ ’سنہ 2018 کے عام انتخابات کے دوران انہوں نے کراچی کے سابق میئر مصطفیٰ کمال کو ووٹ دیا تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ مصطفیٰ کمال نے ماضی میں شہر کے لیے بہت کام کیا تھا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رافع شریف نے مزید بتایا کہ ’اس بار بلدیاتی انتخابات کے دوران انہوں  نے جماعت اسلامی کو ووٹ دیا ہے کیونکہ ایم کیو ایم نے الیکشن کا بائیکاٹ کردیا ہے جبکہ پیپلزپارٹی کو وہ کبھی ووٹ نہیں دیں گے، انہوں نے کہا کہ ’ہم نے پاکستان تحریک انصاف کو بھی آزما کر دیکھ لیا لیکن اس جماعت نے بھی ہمیں مایوس کیا اس لیے صرف جماعت اسلامی ہی آخری آپشن ہے۔ ’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ ہوسکتا ہے کہ ہمارا ووٹ ضائع ہوجائے لیکن اب تک ہم نے تمام جماعتوں کو آزما کر دیکھ لیا ہے اس لیے ہم جماعت اسلامی کو بھی ایک موقع دے رہے ہیں۔’&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’جماعت اسلامی نے بہت محنت کی ہے اور ایسا لگتا ہے یہ دوسری جماعتوں کے مقابلے میں سمجھدار ہیں، یہی ہمارا آخری آپشن ہے، اگر یہ جماعت بھی شہر کےلیے کام کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے تو میں آئندہ ووٹ نہیں دوں گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195440"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان کے صحافی نے کراچی کے مختلف پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا جس سےمعلوم ہوا کہ بلدیاتی انتخابات کے دوران جنہوں نے ووٹ کاسٹ کیا انہوں نے جماعت اسلامی کو ووٹ دیا کیونکہ ان لوگوں کا ماننا ہے کہ یہی جماعت ان کی آخری امید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلبرگ ٹاؤن کی یوسی 6 میں دوست احباب کے گروہ نے بتایا کہ ’ہم نے سب کو آزما کر دیکھ لیا اور صرف جماعت اسلامی ہی وہ جماعت ہے جسے ہم نے نہیں آزمایا، اس لیے انہیں ایک موقع ملنا چاہیے، اگر یہ جماعت بھی ناکام ہوگئی تو آئندہ انتخابات میں ہم سوچیں گے کہ کیا کرنا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ زیادہ تر نوجوان جنہوں  نے پہلی بار بلدیاتی انتخابات میں ووٹ دیا ان کی بھی یہی رائے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عائشہ منزل کی رہائیشی 23 سالہ فاطمہ نے صحافی کو بتایا کہ ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں جماعت اسلامی کو ووٹ دوں گی لیکن ایسا لگتا ہے کہ صرف یہی آخری آپشن ہے، اگر یہ جماعت بھی شہر کے لیے کام کرنے میں ناکام نظر آئی تو آئندہ میں کسی کو ووٹ نہیں دوں گی‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل نوجوان افراد پولنگ اسٹیشن کے اندر ہونے مقابلے پولنگ اسٹیشن کے باہر چائے کی دکان میں بڑی تعداد میں موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چائے کی دکان میں دوستوں کے ساتھ موجود نارتھ ناظم آباد بلاک اے کے رہائشی شمیل احمد نے بتایا کہ ’پی ٹی آئی وہ آخری جماعت تھی جس پر میں نے یقین کیا تھا لیکن انہوں نے بھی ہمیں دھوکا دیا، مجھے نہیں لگتا کہ میں آئندہ کسی کو ووٹ دوں گا، آخر میں ہمیں سارے کام خود ہی کرنے ہیں تو اس ووٹ ڈالنے کی کیا ضرورت ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195483"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ماہم اعوان حیدری میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ پولنگ اسٹیشن آئیں تھی لیکن ووٹ کاسٹ نہیں کرسکیں، انہوں نے ڈان کو بتایا کہ ’میں دوسری بار ووٹ ڈالنے آئی ہوں، پہلی بار جب ووٹ دیا تھا تو میرا خیال تھا کہ صورتحال بہتر جائے گی، ہمیں بولا گیا تھا کہ ہم تبدیلی لائیں گے، لہٰذا اس بار میں نے یقینی بنایا کہ میں بیوقوف نہ بنوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کی صرف یہ وجہ نہیں تھی بلکہ کچھ نوجوانوں کا خیال تھا کہ انتخابات میں پہلے ہی دھاندلی ہورہی ہے اس لیے مزید کوشش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیا ناظم آباد کے رہائیشی یحییٰ خان نے بتایا کہ میں پورا دن یہی سن رہا تھا کہ پیپلزپارٹی جیتے گی، اگر ساری چیزیں پہلے ہی طے ہوچکی ہیں تو میں کئی میل سفر کرکے ووٹ ڈالنے کیوں آؤں؟ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے، اس لیے میں نے چھٹی کا دن انجوائے کیا اوراپنی نیند پوری کرنے کو ترجیح دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس دوران جن لوگوں نے ووٹ کاسٹ کیا انہیں بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے انہیں مایوسی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلشن اقبال کی یوسی 8 کے پولنگ اسٹیشن میں ایک نوجوان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ وہ پولنگ اسٹیشن میں ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے گئےتھے لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پیغام موصول ہونے کے باوجود ان کا نام فہرست میں شامل نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران نوجوان کی عدم دلچسپی واضح طور پر دکھائی دی، کئی لوگوں نے سیاسی جماعتوں کی کارکردگی سے مایوسی کا اظہار کیا تو کسی نے جماعت اسلامی کو ووٹ دے کر اسے اپنا آخری آپشن قرار دیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1731845/youth-show-lack-of-interest-in-electoral-process">رپورٹ</a></strong> کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران نوجوانوں کی عدم شرکت  تبدیلی کا دعویٰ کرنے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور دیگر سیاسی جماعتوں کے دعووں پر سوالیہ نشان ہے تاہم کچھ لوگوں نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی جانب سے <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1195453/">انتخابات کا بائیکاٹ</a></strong> کرنے کو کم ٹرن آؤٹ کی وجہ قرار دیا۔</p>
<p>کراچی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔</p>
<p>نارتھ کراچی کی یو-سی 13 کے اسسٹنٹ پریذائیڈنگ افسر جبران رئیس نے ڈان کو بتایا کہ ’الیکشن کے دوران ٹرن آؤٹ بہت کم تھا اور نوجوانوں کی زیادہ تعداد نہیں تھی، تاہم صرف ان لوگوں نے ووٹ ڈالا جو اپنے والدین کے ساتھ آئے تھے، آپ کہہ سکتے ہیں کہ 20 فیصد ووٹرز نوجوان تھے۔‘</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195500"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے علاوہ نارتھ ناظم آباد کی یو-سی 4 کے پولنگ افسر نے بتایا کہ عموماً انتخابات کے دوران نوجوانوں کی شرح 30 سے 35 فیصد ہوتی ہے لیکن اس بار شرح مشکل سے صرف 20 فیصد تھی۔</p>
<p>حیدرآباد کالونی میں ووٹ ڈالنے والے اجمل زبیر نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے جماعت اسلامی کو ووٹ دیا ہے کیونکہ آج کل اس جماعت کو ووٹ دینا ’فیشن‘ ہے، انہوں  نے مزید بتایا کہ ’میں نے بلدیاتی انتخابات میں پہلی بار ووٹ  کاسٹ کیا ہے اس سے قبل سنہ 2018 کے انتخابات کے دوران میں نے پی ٹی آئی اور پاک سر زمین (صوبائی اسمبلی کے لیے) کو ووٹ دیا تھا۔‘</p>
<p>رافع شریف نامی نوجوان نے بھی بلدیاتی انتخابات میں پہلی بار ووٹ کاسٹ کیا، رافع نے ڈان کو بتایا کہ ’سنہ 2018 کے عام انتخابات کے دوران انہوں نے کراچی کے سابق میئر مصطفیٰ کمال کو ووٹ دیا تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ مصطفیٰ کمال نے ماضی میں شہر کے لیے بہت کام کیا تھا۔‘</p>
<p>رافع شریف نے مزید بتایا کہ ’اس بار بلدیاتی انتخابات کے دوران انہوں  نے جماعت اسلامی کو ووٹ دیا ہے کیونکہ ایم کیو ایم نے الیکشن کا بائیکاٹ کردیا ہے جبکہ پیپلزپارٹی کو وہ کبھی ووٹ نہیں دیں گے، انہوں نے کہا کہ ’ہم نے پاکستان تحریک انصاف کو بھی آزما کر دیکھ لیا لیکن اس جماعت نے بھی ہمیں مایوس کیا اس لیے صرف جماعت اسلامی ہی آخری آپشن ہے۔ ’</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ ہوسکتا ہے کہ ہمارا ووٹ ضائع ہوجائے لیکن اب تک ہم نے تمام جماعتوں کو آزما کر دیکھ لیا ہے اس لیے ہم جماعت اسلامی کو بھی ایک موقع دے رہے ہیں۔’</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’جماعت اسلامی نے بہت محنت کی ہے اور ایسا لگتا ہے یہ دوسری جماعتوں کے مقابلے میں سمجھدار ہیں، یہی ہمارا آخری آپشن ہے، اگر یہ جماعت بھی شہر کےلیے کام کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے تو میں آئندہ ووٹ نہیں دوں گا‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195440"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈان کے صحافی نے کراچی کے مختلف پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا جس سےمعلوم ہوا کہ بلدیاتی انتخابات کے دوران جنہوں نے ووٹ کاسٹ کیا انہوں نے جماعت اسلامی کو ووٹ دیا کیونکہ ان لوگوں کا ماننا ہے کہ یہی جماعت ان کی آخری امید ہے۔</p>
<p>گلبرگ ٹاؤن کی یوسی 6 میں دوست احباب کے گروہ نے بتایا کہ ’ہم نے سب کو آزما کر دیکھ لیا اور صرف جماعت اسلامی ہی وہ جماعت ہے جسے ہم نے نہیں آزمایا، اس لیے انہیں ایک موقع ملنا چاہیے، اگر یہ جماعت بھی ناکام ہوگئی تو آئندہ انتخابات میں ہم سوچیں گے کہ کیا کرنا ہے‘۔</p>
<p>اس کے علاوہ زیادہ تر نوجوان جنہوں  نے پہلی بار بلدیاتی انتخابات میں ووٹ دیا ان کی بھی یہی رائے تھی۔</p>
<p>عائشہ منزل کی رہائیشی 23 سالہ فاطمہ نے صحافی کو بتایا کہ ’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں جماعت اسلامی کو ووٹ دوں گی لیکن ایسا لگتا ہے کہ صرف یہی آخری آپشن ہے، اگر یہ جماعت بھی شہر کے لیے کام کرنے میں ناکام نظر آئی تو آئندہ میں کسی کو ووٹ نہیں دوں گی‘۔</p>
<p>انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے اہل نوجوان افراد پولنگ اسٹیشن کے اندر ہونے مقابلے پولنگ اسٹیشن کے باہر چائے کی دکان میں بڑی تعداد میں موجود تھے۔</p>
<p>چائے کی دکان میں دوستوں کے ساتھ موجود نارتھ ناظم آباد بلاک اے کے رہائشی شمیل احمد نے بتایا کہ ’پی ٹی آئی وہ آخری جماعت تھی جس پر میں نے یقین کیا تھا لیکن انہوں نے بھی ہمیں دھوکا دیا، مجھے نہیں لگتا کہ میں آئندہ کسی کو ووٹ دوں گا، آخر میں ہمیں سارے کام خود ہی کرنے ہیں تو اس ووٹ ڈالنے کی کیا ضرورت ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1195483"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دوسری جانب ماہم اعوان حیدری میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ پولنگ اسٹیشن آئیں تھی لیکن ووٹ کاسٹ نہیں کرسکیں، انہوں نے ڈان کو بتایا کہ ’میں دوسری بار ووٹ ڈالنے آئی ہوں، پہلی بار جب ووٹ دیا تھا تو میرا خیال تھا کہ صورتحال بہتر جائے گی، ہمیں بولا گیا تھا کہ ہم تبدیلی لائیں گے، لہٰذا اس بار میں نے یقینی بنایا کہ میں بیوقوف نہ بنوں گی۔</p>
<p>البتہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کی صرف یہ وجہ نہیں تھی بلکہ کچھ نوجوانوں کا خیال تھا کہ انتخابات میں پہلے ہی دھاندلی ہورہی ہے اس لیے مزید کوشش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔</p>
<p>نیا ناظم آباد کے رہائیشی یحییٰ خان نے بتایا کہ میں پورا دن یہی سن رہا تھا کہ پیپلزپارٹی جیتے گی، اگر ساری چیزیں پہلے ہی طے ہوچکی ہیں تو میں کئی میل سفر کرکے ووٹ ڈالنے کیوں آؤں؟ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے، اس لیے میں نے چھٹی کا دن انجوائے کیا اوراپنی نیند پوری کرنے کو ترجیح دی۔</p>
<p>تاہم اس دوران جن لوگوں نے ووٹ کاسٹ کیا انہیں بھی کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے انہیں مایوسی ہوئی۔</p>
<p>گلشن اقبال کی یوسی 8 کے پولنگ اسٹیشن میں ایک نوجوان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ وہ پولنگ اسٹیشن میں ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے گئےتھے لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پیغام موصول ہونے کے باوجود ان کا نام فہرست میں شامل نہیں تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1195503</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Jan 2023 11:48:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد عثمان ملک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/161025424d44df0.jpg?r=103331" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/161025424d44df0.jpg?r=103331"/>
        <media:title>پریزاڈنگ افسر کا کہنا تھا کہ نوجوان ووٹرز کی شرح صرف 20 فیصد تھی—فوٹو: وائٹ اسٹار
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
