<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 16:28:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 16:28:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>توشہ خانہ تحائف کی تفصیلات تک رسائی حاصل کرنا عوام کا حق ہے، عدالت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1195572/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 19-اے کے تحت توشہ خانہ کی تفصیلات تک رسائی حاصل کرنا عوام کا حق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1731978/access-to-details-of-toshakhana-masses-right-observes-lhc"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق جسٹس عاصم حفیظ نے 1947 سے لے کر اب تک سیاسی حکمرانوں اور بیوروکریٹس کو غیر ملکی شخصیات کی جانب سے ملنے والے توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ ڈویژن کی سیکشن افسر ندا رحمٰن عدالت کے سامنے پیش ہوئیں اور کہا کہ وفاقی حکومت نے توشہ خانہ آرٹیکل سے متعلق معلومات کو پبلک کرنے کے فیصلے کے حوالے سے جون 2022 کے دوران کمیٹی قائم کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جج نے مشاہدہ کیا کہ اگر ایف بی آر اور الیکشن کمیشن کے حکام کو توشہ خانہ کے تحائف تک رسائی ہے تو تفصیلات کو کس بنیاد پر کلاسیفائیڈ قرار دیا جاسکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194018"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس عاصم حفیظ نے سوال کیا کہ اگر کسی نجی شخص کو توشہ خانہ کی تفصیلات تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے تو عام عوام کو کیوں نہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے آئندہ سماعت پر وفاقی حکومت کو اس معاملے پر تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 19 جنوری تک ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں درخواست گزار اظہر صدیق نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی عوام کو عوامی کارکنون اور ان کے منتخب کردہ نمائندگان کی جانب سے عوامی سطح پر کیے جانے والے عوامل کےحوالے سے آگاہ ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشروں کے لوگوں کو عوامی نمائندگان کے عوامل سے آگاہ رکھنا چاہیے تاکہ وہ مستقبل میں اپنے فیصلے پر اثر انداز ہوسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل نے عدالت سے  استدعا کی ہے کہ وہ سیاسی حکمرانوں سمیت بیوروکریٹ کو توشہ خانہ سے دیے جانے والے تحائف کی تفصیلات پبلک کرنے کا حکم دے اور ان لوگوں/حکام  کے نام، تفصیلات، معلومات، دستاویزات، مواد بھی فراہم کریں جنہوں نے ادائیگی کرکے اثاثے حاصل کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 19-اے کے تحت توشہ خانہ کی تفصیلات تک رسائی حاصل کرنا عوام کا حق ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1731978/access-to-details-of-toshakhana-masses-right-observes-lhc">رپورٹ</a></strong> کے مطابق جسٹس عاصم حفیظ نے 1947 سے لے کر اب تک سیاسی حکمرانوں اور بیوروکریٹس کو غیر ملکی شخصیات کی جانب سے ملنے والے توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔</p>
<p>کابینہ ڈویژن کی سیکشن افسر ندا رحمٰن عدالت کے سامنے پیش ہوئیں اور کہا کہ وفاقی حکومت نے توشہ خانہ آرٹیکل سے متعلق معلومات کو پبلک کرنے کے فیصلے کے حوالے سے جون 2022 کے دوران کمیٹی قائم کی تھی۔</p>
<p>جج نے مشاہدہ کیا کہ اگر ایف بی آر اور الیکشن کمیشن کے حکام کو توشہ خانہ کے تحائف تک رسائی ہے تو تفصیلات کو کس بنیاد پر کلاسیفائیڈ قرار دیا جاسکتا ہے؟</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194018"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جسٹس عاصم حفیظ نے سوال کیا کہ اگر کسی نجی شخص کو توشہ خانہ کی تفصیلات تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے تو عام عوام کو کیوں نہیں؟</p>
<p>عدالت نے آئندہ سماعت پر وفاقی حکومت کو اس معاملے پر تفصیلی جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 19 جنوری تک ملتوی کردی۔</p>
<p>قبل ازیں درخواست گزار اظہر صدیق نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی عوام کو عوامی کارکنون اور ان کے منتخب کردہ نمائندگان کی جانب سے عوامی سطح پر کیے جانے والے عوامل کےحوالے سے آگاہ ہونا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشروں کے لوگوں کو عوامی نمائندگان کے عوامل سے آگاہ رکھنا چاہیے تاکہ وہ مستقبل میں اپنے فیصلے پر اثر انداز ہوسکیں۔</p>
<p>وکیل نے عدالت سے  استدعا کی ہے کہ وہ سیاسی حکمرانوں سمیت بیوروکریٹ کو توشہ خانہ سے دیے جانے والے تحائف کی تفصیلات پبلک کرنے کا حکم دے اور ان لوگوں/حکام  کے نام، تفصیلات، معلومات، دستاویزات، مواد بھی فراہم کریں جنہوں نے ادائیگی کرکے اثاثے حاصل کیے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1195572</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Jan 2023 15:57:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/171431107fd15d2.jpg?r=143153" type="image/jpeg" medium="image" height="454" width="793">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/171431107fd15d2.jpg?r=143153"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/17143131bb66616.png?r=155717" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/17143131bb66616.png?r=155717"/>
        <media:title>جسٹس عاصم حفیظ نے سوال کیا کہ اگر کسی نجی شخص کو تفصیلات تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے تو عام عوام کو کیوں نہیں؟ — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
