<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 23:24:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 23:24:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد: سیکٹر آئی۔10 کے خودکش بمبار کا افغانستان میں تربیت لینے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1195619/</link>
      <description>&lt;p&gt;گزشتہ ماہ دارالحکومت اسلام آباد میں خود کو دھماکے سے اڑانے والے خودکش حملہ آور نے دہشت گردی کرنے سے قبل افغانستان میں تربیت حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1732176/islamabads-i-10-suicide-bomber-got-training-in-afghanistan-investigation-reveals"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق 23 دسمبر کو دارالحکومت کے سیکٹر ٹین/4 میں ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات کرنے والے قریبی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ بمبار نے 2022 میں افغانستان میں عسکریت پسندی کی تربیت حاصل کی تھی، تربیت حاصل کرنے کے بعد وہ 2022 کے آخر میں افغانستان سے واپس آیا اور کرم ایجنسی کے علاقے پاراچنار میں قیام پذیر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ 23 دسمبر کو دارالحکومت پہنچنے سے قبل خودکش بمبار ہنگو سمیت مختلف مقامات پر منتقل ہوتا رہا جب کہ ہنگو میں وہ ایک سہولت کار کے پاس رہا جو اسے دھماکے والے روز صبح کے اوقات میں دارالحکومت کے پیر ودھائی بس ٹرمینل لے آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ سہولت کار نے بمبار کو ٹیکسی میں سوار ہوتے دیکھا اور پھر وہ وہاں سے چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ حملہ آور کے پاس ایک بیگ تھا جس میں دھماکا خیز مواد موجود تھا، ذرائع نے مزید کہا کہ اب تک اس بات کا تعین نہیں ہوا کہ یہ بیگ اسے اسلام آباد میں ہی فراہم کیا گیا یا اس نے بیگ کے ساتھ ہی سفر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194243"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمینل پر پہنچنے کے بعد خودکش حملہ آور نے موبائل فون پر کسی (مبینہ  سہولت کار) سے بات کی، اس دوسرے شخص کا ٹھکانہ پیر ودھائی بس ٹرمینل کے قریب پتا چلا اور وہ گزشتہ کئی روز سے وہاں موجود تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خودکش دھماکے میں استعمال ہونے والے دھماکا خیز مواد  کا وزن کا وزن 12 سے 14 کلو گرام تھا خودکش حملہ آور نے دھماکا خیز مواد کے ساتھ لگی پن ہٹا کر دھماکا کیا، انہوں نے مزید کہا کہ تفتیش کاروں کو وہ پن جائے وقوع سے ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ بمبار کی عمر 22 سال تھی جو ضلع خیبر کا رہنے والا تھا، اس نے ایک مدرسے میں تعلیم حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے کہا کہ اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ خودکش حملہ آور کا ہدف کیا تھا، اس بات کا تعین کیا جانا ابھی باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ خودکش دھماکے میں ٹیکسی ڈرائیور اور پولیس اہلکار شہید جب کہ 4 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گزشتہ ماہ دارالحکومت اسلام آباد میں خود کو دھماکے سے اڑانے والے خودکش حملہ آور نے دہشت گردی کرنے سے قبل افغانستان میں تربیت حاصل کی تھی۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1732176/islamabads-i-10-suicide-bomber-got-training-in-afghanistan-investigation-reveals">رپورٹ</a></strong> کے مطابق 23 دسمبر کو دارالحکومت کے سیکٹر ٹین/4 میں ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات کرنے والے قریبی ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ بمبار نے 2022 میں افغانستان میں عسکریت پسندی کی تربیت حاصل کی تھی، تربیت حاصل کرنے کے بعد وہ 2022 کے آخر میں افغانستان سے واپس آیا اور کرم ایجنسی کے علاقے پاراچنار میں قیام پذیر رہا۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ 23 دسمبر کو دارالحکومت پہنچنے سے قبل خودکش بمبار ہنگو سمیت مختلف مقامات پر منتقل ہوتا رہا جب کہ ہنگو میں وہ ایک سہولت کار کے پاس رہا جو اسے دھماکے والے روز صبح کے اوقات میں دارالحکومت کے پیر ودھائی بس ٹرمینل لے آیا۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ سہولت کار نے بمبار کو ٹیکسی میں سوار ہوتے دیکھا اور پھر وہ وہاں سے چلا گیا۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ حملہ آور کے پاس ایک بیگ تھا جس میں دھماکا خیز مواد موجود تھا، ذرائع نے مزید کہا کہ اب تک اس بات کا تعین نہیں ہوا کہ یہ بیگ اسے اسلام آباد میں ہی فراہم کیا گیا یا اس نے بیگ کے ساتھ ہی سفر کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194243"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ٹرمینل پر پہنچنے کے بعد خودکش حملہ آور نے موبائل فون پر کسی (مبینہ  سہولت کار) سے بات کی، اس دوسرے شخص کا ٹھکانہ پیر ودھائی بس ٹرمینل کے قریب پتا چلا اور وہ گزشتہ کئی روز سے وہاں موجود تھا۔</p>
<p>خودکش دھماکے میں استعمال ہونے والے دھماکا خیز مواد  کا وزن کا وزن 12 سے 14 کلو گرام تھا خودکش حملہ آور نے دھماکا خیز مواد کے ساتھ لگی پن ہٹا کر دھماکا کیا، انہوں نے مزید کہا کہ تفتیش کاروں کو وہ پن جائے وقوع سے ملی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ بمبار کی عمر 22 سال تھی جو ضلع خیبر کا رہنے والا تھا، اس نے ایک مدرسے میں تعلیم حاصل کی تھی۔</p>
<p>ذرائع نے کہا کہ اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ خودکش حملہ آور کا ہدف کیا تھا، اس بات کا تعین کیا جانا ابھی باقی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ خودکش دھماکے میں ٹیکسی ڈرائیور اور پولیس اہلکار شہید جب کہ 4 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1195619</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Jan 2023 12:25:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (منور عظیم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/18113917171bc4b.jpg?r=114023" type="image/jpeg" medium="image" height="174" width="289">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/18113917171bc4b.jpg?r=114023"/>
        <media:title>خودکش دھماکے میں ٹیکسی ڈرائیور اور پولیس اہلکار شہید جب کہ 4 پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
