<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 06:44:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 06:44:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: حکومت کا سوشل میڈیا پر ’جعلی‘ خبروں پر پابندی عائد کرنے پر غور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1195660/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کی حکومت نے نئے آئی ٹی قواعد کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جھوٹی یا غلط معلومات پھیلانے کی اجازت نہ دینے کے لیے باقاعدہ تجویز پیش کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق بھارتی حکومت رواں ہفتے جاری ہونے والے ملک کے آئی ٹی قواعد کے مسودے کی تجویز کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کسی بھی ایسی معلومات نشر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو جھوٹ پر مبنی ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ٹی قوانین بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے متعدد اقدامات میں سے پہلا ایسا اقدام ہے جن کو بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر کنٹرول رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1146477"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ایسی معلومات جس کو پریس انفارمیشن بیورو یا حکومت کی طرف سے فیکٹ چیکنگ کے لیے مجاز کوئی دوسری ایجنسی یا محکمہ ’غلط یا جھوٹی‘ سمجھتا ہے تو وہ معلومات دینا اس مسودے کے تحت ممنوع ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک بار جب معلومات کی اس طرح شناخت ہو جاتی ہے تو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا دیگر آن لائن اداروں کو یہ یقینی بنانے کے لیے ممکنہ کوششیں کرنا ہوں گی کہ صارفین ایسی معلومات کو نشر، ڈسپلے، اپ لوڈ، ، اشاعت، ترسیل، اسٹور، اپ ڈیٹ یا اشتراک نہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1154833"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ برس اکتوبر میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے مواد سے متعلق فیصلوں کے بارے میں صارفین کی شکایات سننے کے لیے ایک پینل قائم کیا جائے گا، تاہم وہ کمپنیاں پہلے سے ہی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ساتھ تعاون کے لیے شکایات کا ازالہ کرنے والے افسران اور ایگزیکٹوز کو تعینات کرنے کی پابند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق جب کمپنیاں مبینہ طور پرغلط معلومات پھیلانے کے الزام میں بعض مواد یا اکاؤنٹس ہٹانے کے مطالبات پر عمل کرنے میں ناکام رہی تو حکومت بھی بار بار مختلف پلیٹ فارمز کے ساتھ تنازع میں رہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کی حکومت نے نئے آئی ٹی قواعد کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جھوٹی یا غلط معلومات پھیلانے کی اجازت نہ دینے کے لیے باقاعدہ تجویز پیش کردی۔</p>
<p>غیر ملکی خبر ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق بھارتی حکومت رواں ہفتے جاری ہونے والے ملک کے آئی ٹی قواعد کے مسودے کی تجویز کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کسی بھی ایسی معلومات نشر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو جھوٹ پر مبنی ہو۔</p>
<p>آئی ٹی قوانین بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے متعدد اقدامات میں سے پہلا ایسا اقدام ہے جن کو بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر کنٹرول رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1146477"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ کے مطابق ایسی معلومات جس کو پریس انفارمیشن بیورو یا حکومت کی طرف سے فیکٹ چیکنگ کے لیے مجاز کوئی دوسری ایجنسی یا محکمہ ’غلط یا جھوٹی‘ سمجھتا ہے تو وہ معلومات دینا اس مسودے کے تحت ممنوع ہوگی۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک بار جب معلومات کی اس طرح شناخت ہو جاتی ہے تو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا دیگر آن لائن اداروں کو یہ یقینی بنانے کے لیے ممکنہ کوششیں کرنا ہوں گی کہ صارفین ایسی معلومات کو نشر، ڈسپلے، اپ لوڈ، ، اشاعت، ترسیل، اسٹور، اپ ڈیٹ یا اشتراک نہ کریں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1154833"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>گزشتہ برس اکتوبر میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے مواد سے متعلق فیصلوں کے بارے میں صارفین کی شکایات سننے کے لیے ایک پینل قائم کیا جائے گا، تاہم وہ کمپنیاں پہلے سے ہی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ساتھ تعاون کے لیے شکایات کا ازالہ کرنے والے افسران اور ایگزیکٹوز کو تعینات کرنے کی پابند ہیں۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق جب کمپنیاں مبینہ طور پرغلط معلومات پھیلانے کے الزام میں بعض مواد یا اکاؤنٹس ہٹانے کے مطالبات پر عمل کرنے میں ناکام رہی تو حکومت بھی بار بار مختلف پلیٹ فارمز کے ساتھ تنازع میں رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1195660</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Jan 2023 22:41:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/1821424125a19db.jpg?r=214721" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/1821424125a19db.jpg?r=214721"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
