<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:05:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:05:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسنڈا آرڈرن کا مستعفی ہونے کا اعلان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1195690/</link>
      <description>&lt;p&gt;نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنی جماعت ’لیبر پارٹی‘ کے اراکین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 7 فروری بطور وزیراعظم ان کا آخری روز ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ ’میں ایک انسان ہوں، ہم اپنی صلاحیت کے مطابق ہر ممکن حد تک اپنے فرائض ادا کرنے کوشش کرتے ہیں اور پھر ایک وقت آتا ہے جب آپ کو اس سب سے الگ ہونا پڑتا ہے اور میرے لیے اب وہ وقت آگیا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ میں وزیر اعظم کا منصب چھوڑ دوں، اب ایک اور مدت تک فرائض سرانجام دینے کے لیے مجھ میں وہ توانائی نہیں ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AFP/status/1615889049851686916"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسنڈا آرڈرن 2017 میں مخلوط حکومت میں وزیر اعظم بنی تھیں اور پھر 3 برس بعد ہونے والے انتخابات میں انہوں نے اپنی بائیں بازو کی مرکزی جماعت ’لیبر پارٹی‘ کی قیادت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت عظمیٰ کے دوران انہوں نے مسلمانوں کی 2 مساجد پر دہشت گرد حملے پر اپنے ردعمل اور کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانے کی وجہ سے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی اور دوران اقتدار بچے کو جنم دینے والی دنیا کی دوسری عالمی رہنما بھی بن گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مہنگائی اور جرائم کی بڑھتی شرح کے سبب حالیہ انتخابات میں ان کی پارٹی اور ان کی ذاتی مقبولیت میں بھی کمی آگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="اکتوبر-میں-عام-انتخابات" href="#اکتوبر-میں-عام-انتخابات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اکتوبر میں عام انتخابات&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;جیسنڈا آرڈرن نے یہ اعلان بھی کیا کہ نیوزی لینڈ کے آئندہ عام انتخابات 14 اکتوبر کو ہوں گے اور اس وقت تک وہ بطور قانون ساز فرائض سرانجام دیتی رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ حالیہ انتخابات سے یہ اشارہ ملا ہے کہ سینٹر رائٹ کی نیشنل اور ایکٹ پارٹیوں کا اتحاد الیکشن جیتے گا، تاہم جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ ان کے مستعفی ہونے کی وجہ یہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1182668"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’میں اس لیے استعفیٰ نہیں دے رہی کہ مجھے یقین ہے کہ ہم اگلا الیکشن نہیں جیت سکتے بلکہ یہ فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ مجھے یقین ہے کہ ہم (میرے بغیر بھی) الیکشن جیت سکتے ہیں اور ضرور جیتیں گے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ’میں اس لیے جا رہی ہوں کیونکہ اس طرح کے مراعات یافتہ ملازمت کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے، یہ جاننے کی ذمہ داری کہ آپ قیادت کے لیے کب صحیح شخص ہیں اور کب آپ اس کے لیے موزوں نہیں ہیں‘۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گی۔</p>
<p>انہوں نے اپنی جماعت ’لیبر پارٹی‘ کے اراکین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 7 فروری بطور وزیراعظم ان کا آخری روز ہوگا۔</p>
<p>جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ ’میں ایک انسان ہوں، ہم اپنی صلاحیت کے مطابق ہر ممکن حد تک اپنے فرائض ادا کرنے کوشش کرتے ہیں اور پھر ایک وقت آتا ہے جب آپ کو اس سب سے الگ ہونا پڑتا ہے اور میرے لیے اب وہ وقت آگیا ہے‘۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ میں وزیر اعظم کا منصب چھوڑ دوں، اب ایک اور مدت تک فرائض سرانجام دینے کے لیے مجھ میں وہ توانائی نہیں ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AFP/status/1615889049851686916"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>جیسنڈا آرڈرن 2017 میں مخلوط حکومت میں وزیر اعظم بنی تھیں اور پھر 3 برس بعد ہونے والے انتخابات میں انہوں نے اپنی بائیں بازو کی مرکزی جماعت ’لیبر پارٹی‘ کی قیادت کی۔</p>
<p>وزارت عظمیٰ کے دوران انہوں نے مسلمانوں کی 2 مساجد پر دہشت گرد حملے پر اپنے ردعمل اور کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنانے کی وجہ سے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی اور دوران اقتدار بچے کو جنم دینے والی دنیا کی دوسری عالمی رہنما بھی بن گئیں۔</p>
<p>تاہم مہنگائی اور جرائم کی بڑھتی شرح کے سبب حالیہ انتخابات میں ان کی پارٹی اور ان کی ذاتی مقبولیت میں بھی کمی آگئی۔</p>
<h3><a id="اکتوبر-میں-عام-انتخابات" href="#اکتوبر-میں-عام-انتخابات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اکتوبر میں عام انتخابات</h3>
<p>جیسنڈا آرڈرن نے یہ اعلان بھی کیا کہ نیوزی لینڈ کے آئندہ عام انتخابات 14 اکتوبر کو ہوں گے اور اس وقت تک وہ بطور قانون ساز فرائض سرانجام دیتی رہیں گی۔</p>
<p>اگرچہ حالیہ انتخابات سے یہ اشارہ ملا ہے کہ سینٹر رائٹ کی نیشنل اور ایکٹ پارٹیوں کا اتحاد الیکشن جیتے گا، تاہم جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ ان کے مستعفی ہونے کی وجہ یہ نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1182668"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’میں اس لیے استعفیٰ نہیں دے رہی کہ مجھے یقین ہے کہ ہم اگلا الیکشن نہیں جیت سکتے بلکہ یہ فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ مجھے یقین ہے کہ ہم (میرے بغیر بھی) الیکشن جیت سکتے ہیں اور ضرور جیتیں گے‘۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ ’میں اس لیے جا رہی ہوں کیونکہ اس طرح کے مراعات یافتہ ملازمت کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے، یہ جاننے کی ذمہ داری کہ آپ قیادت کے لیے کب صحیح شخص ہیں اور کب آپ اس کے لیے موزوں نہیں ہیں‘۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1195690</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Jan 2023 15:37:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/19130504d7da155.jpg?r=130537" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/19130504d7da155.jpg?r=130537"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/19130509abaeb7e.jpg?r=153750" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/19130509abaeb7e.jpg?r=153750"/>
        <media:title>جیسنڈا آرڈرن نے بتایا کہ 7 فروری بطور وزیراعظم ان کا آخری روز ہوگا — فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
