<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Business</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 02:57:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 02:57:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دسمبر میں ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 16 فیصد کمی ریکارڈ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1195750/</link>
      <description>&lt;p&gt;دسمبر 2022 میں ٹیکسٹائل اور کپڑوں کی برآمدات 16.47 فیصد کمی کے بعد ایک ارب 35 کروڑ ڈالر رہ گئیں جو سال 2021 میں اسی ماہ کے دوران ایک ارب 62 کروڑ ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1732576/textile-exports-dip-16pc-in-december"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق مسلسل 4 ماہ سے مجموعی برآمدات میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے، یہ کمی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کو رواں مالی سال کے دوران برآمدات کے ہدف کو حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ 4 ماہ سے ٹیکسٹائل اور کپڑوں کی برآمدات میں مسلسل کمی کی وجہ توانائی کے اخراجات میں اضافہ، ری فنڈز میں تاخیر اور روپے کی قدر میں کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان کا خیال ہے کہ برآمدات میں کمی کی اصل وجہ زرمبادلہ کی شرح میں عدم استحکام ہے، اس کے علاوہ حکومت کا مقامی ٹیکسز اور لیویز پر ڈیوٹی ڈرابیک ختم کرنے سے برآمدی شعبے کو رقم میں کمی کے مسائل کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193103"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وزارت تجارت کی طرف سے برآمدات میں مسلسل کمی کی وجہ کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا، وزیر تجارت نوید قمر کا وزارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ مسلسل غیر ملکی دورے کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس) کے اعدادوشمار کے مطابق دسمبر 2022 میں تیار شدہ کپڑوں کی بالحاظ قدر برآمدات میں 7.92 فیصد کی منفی گروتھ (نمو) ریکارڈ کی گئی لیکن اس کے مقدار میں 50.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ قدر کے لحاظ سے نِٹ ویئر کی برآمدات میں 19.54 فیصد کمی اور مقدار میں 24 فیصد اضافہ ہوا، بیڈوئیر میں بالحاظ قدر 17.77 فیصد جبکہ مقدار کے حساب سے 22.74 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ تولیے کی برآمدات میں قدر کے حساب سے 14.05 فیصد کمی اور مقدار میں 13.09 فیصد جبکہ سوتی کپڑوں کی برآمدات میں 13.97 فیصد کمی اور قدر کے حساب سے 19.42 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ سوتی دھاگے کی برآمدات میں 60.71 فیصد کمی اور سوتی دھاگے کے علاوہ دیگر دھاگوں میں 19.09 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ تولیے کے علاوہ میڈ-اپس کی برآمدات میں 49.92 فیصد کمی اور خیمے، کینوس اور ٹینٹ کی برآمدات میں 26.04 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دسمبر 2022 میں ٹیکسٹائل اور کپڑوں کی برآمدات 16.47 فیصد کمی کے بعد ایک ارب 35 کروڑ ڈالر رہ گئیں جو سال 2021 میں اسی ماہ کے دوران ایک ارب 62 کروڑ ڈالر تھیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1732576/textile-exports-dip-16pc-in-december">رپورٹ</a></strong> کے مطابق مسلسل 4 ماہ سے مجموعی برآمدات میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے، یہ کمی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کو رواں مالی سال کے دوران برآمدات کے ہدف کو حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>گزشتہ 4 ماہ سے ٹیکسٹائل اور کپڑوں کی برآمدات میں مسلسل کمی کی وجہ توانائی کے اخراجات میں اضافہ، ری فنڈز میں تاخیر اور روپے کی قدر میں کمی ہے۔</p>
<p>برآمد کنندگان کا خیال ہے کہ برآمدات میں کمی کی اصل وجہ زرمبادلہ کی شرح میں عدم استحکام ہے، اس کے علاوہ حکومت کا مقامی ٹیکسز اور لیویز پر ڈیوٹی ڈرابیک ختم کرنے سے برآمدی شعبے کو رقم میں کمی کے مسائل کا سامنا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1193103"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم وزارت تجارت کی طرف سے برآمدات میں مسلسل کمی کی وجہ کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا، وزیر تجارت نوید قمر کا وزارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ مسلسل غیر ملکی دورے کر رہے ہیں۔</p>
<p>پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس) کے اعدادوشمار کے مطابق دسمبر 2022 میں تیار شدہ کپڑوں کی بالحاظ قدر برآمدات میں 7.92 فیصد کی منفی گروتھ (نمو) ریکارڈ کی گئی لیکن اس کے مقدار میں 50.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ قدر کے لحاظ سے نِٹ ویئر کی برآمدات میں 19.54 فیصد کمی اور مقدار میں 24 فیصد اضافہ ہوا، بیڈوئیر میں بالحاظ قدر 17.77 فیصد جبکہ مقدار کے حساب سے 22.74 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>اس کے علاوہ تولیے کی برآمدات میں قدر کے حساب سے 14.05 فیصد کمی اور مقدار میں 13.09 فیصد جبکہ سوتی کپڑوں کی برآمدات میں 13.97 فیصد کمی اور قدر کے حساب سے 19.42 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>اس کے علاوہ سوتی دھاگے کی برآمدات میں 60.71 فیصد کمی اور سوتی دھاگے کے علاوہ دیگر دھاگوں میں 19.09 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ تولیے کے علاوہ میڈ-اپس کی برآمدات میں 49.92 فیصد کمی اور خیمے، کینوس اور ٹینٹ کی برآمدات میں 26.04 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1195750</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Jan 2023 14:53:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/20111829b5c5ddf.jpg?r=145410" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/20111829b5c5ddf.jpg?r=145410"/>
        <media:title>ٹیکسٹائل اور کپڑوں کی برآمدات 16.47 فیصد کمی کے بعد ایک ارب 35 کروڑ ڈالر رہ گئیں — فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
