<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Business</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 21:25:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 21:25:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہفتہ وار مہنگائی کی شرح بڑھ کر 31.83 فیصد پر پہنچ گئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1195795/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق مہنگائی کی پیمائش کے حساس قیمت انڈیکس میں بتایا گیا ہے کہ اشیائے خور و نوش و کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے 19 جنوری کو ختم ہونے والے ہفتے میں سال بہ سال مہنگائی کی شرح 31 اعشاریہ 83 فیصد پر پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1732810/short-term-inflation-spikes-to-3183pc"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی بنیادی وجہ اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہے، خاص طور پر سبزیاں مثلاً پیاز کی قیمتیں بڑھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حساس قیمت انڈیکس نے ملک بھر کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں میں 51 ضروری اشیا کی قیمتوں کا جائزہ لیا، جس سے معلوم ہوا کہ 51 ضروری اشیا میں23 کی  قیمتوں میں اضافہ، 11 اشیا کی قیمتوں میں کمی جبکہ 17 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں پیاز کی قیمت میں (482.07 فیصد)، مرغی (101.93 فیصد)، لپٹن چائے کی پتی (65.41 فیصد)، انڈے (64.23 فیصد) ڈیزل (57.34 فیصد)، باسمتی چاول ٹوٹا (56.09 فیصد)، مونگ کی دال (55.63 فیصد)، چاول ایری-6/9  (50.28 فیصد)، نمک (49.50 فیصد)، کیلے (47.73 فیصد) اور گندم کا آٹا (46.38 فیصد) اضافہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194285"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ وار بنیادوں پر کھانے کی اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا جن میں باسمتی چاول ٹوٹا (3.54 فیصد)، پیاز (3.50 فیصد)، مرغی (3.21 فیصد)، کیلے (3.04 فیصد)، چاول ایری-6/9 (2.43 فیصد)، ادرک (2.16 فیصد)، ڈبل روٹی (1.45 فیصد)، پکا ہوا گوشت (1.26 فیصد)، تیار چائے (1.22 فیصد)، پکی ہوئی دال (1.12 فیصد)، ایل پی جی (2.43 فیصد) اور صابن (1.54 فیصد) اضافہ شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، جن اشیا کی قیمتوں میں کمی ہوئی، ان میں گندم کا آٹا (5.98 فیصد)، ٹماٹر (2.87 فیصد)، آلو (2.73 فیصد)، چینی (0.94 فیصد)، ویجیٹیبل گھی ایک کلو (0.50 فیصد)، ویجیٹیبل گھی 2.5 کلو (0.41 فیصد)، مسور کی دال (0.38 فیصد)، انڈے (0.09 فیصد)، کوکنگ آئل 5 لیٹر (0.07  فیصد)، چنے کی دال (0.05 فیصد) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق مہنگائی کی پیمائش کے حساس قیمت انڈیکس میں بتایا گیا ہے کہ اشیائے خور و نوش و کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے 19 جنوری کو ختم ہونے والے ہفتے میں سال بہ سال مہنگائی کی شرح 31 اعشاریہ 83 فیصد پر پہنچ گئی۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1732810/short-term-inflation-spikes-to-3183pc"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی بنیادی وجہ اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہے، خاص طور پر سبزیاں مثلاً پیاز کی قیمتیں بڑھی ہیں۔</p>
<p>حساس قیمت انڈیکس نے ملک بھر کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں میں 51 ضروری اشیا کی قیمتوں کا جائزہ لیا، جس سے معلوم ہوا کہ 51 ضروری اشیا میں23 کی  قیمتوں میں اضافہ، 11 اشیا کی قیمتوں میں کمی جبکہ 17 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
<p>سالانہ بنیادوں پر جن اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں پیاز کی قیمت میں (482.07 فیصد)، مرغی (101.93 فیصد)، لپٹن چائے کی پتی (65.41 فیصد)، انڈے (64.23 فیصد) ڈیزل (57.34 فیصد)، باسمتی چاول ٹوٹا (56.09 فیصد)، مونگ کی دال (55.63 فیصد)، چاول ایری-6/9  (50.28 فیصد)، نمک (49.50 فیصد)، کیلے (47.73 فیصد) اور گندم کا آٹا (46.38 فیصد) اضافہ شامل ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194285"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ہفتہ وار بنیادوں پر کھانے کی اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا جن میں باسمتی چاول ٹوٹا (3.54 فیصد)، پیاز (3.50 فیصد)، مرغی (3.21 فیصد)، کیلے (3.04 فیصد)، چاول ایری-6/9 (2.43 فیصد)، ادرک (2.16 فیصد)، ڈبل روٹی (1.45 فیصد)، پکا ہوا گوشت (1.26 فیصد)، تیار چائے (1.22 فیصد)، پکی ہوئی دال (1.12 فیصد)، ایل پی جی (2.43 فیصد) اور صابن (1.54 فیصد) اضافہ شامل ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، جن اشیا کی قیمتوں میں کمی ہوئی، ان میں گندم کا آٹا (5.98 فیصد)، ٹماٹر (2.87 فیصد)، آلو (2.73 فیصد)، چینی (0.94 فیصد)، ویجیٹیبل گھی ایک کلو (0.50 فیصد)، ویجیٹیبل گھی 2.5 کلو (0.41 فیصد)، مسور کی دال (0.38 فیصد)، انڈے (0.09 فیصد)، کوکنگ آئل 5 لیٹر (0.07  فیصد)، چنے کی دال (0.05 فیصد) شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1195795</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Jan 2023 16:41:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/21090907ad9e70d.jpg?r=090929" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/21090907ad9e70d.jpg?r=090929"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
