<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 10:42:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 10:42:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور: ساتھی طالبہ کو ’تشدد‘ کا نشانہ بنانے کے الزام میں 4 لڑکیوں کے خلاف مقدمہ درج</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1195817/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور کے نجی اسکول کی طالبات کی جانب سے مبینہ طور پر ساتھی طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے پر پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1732782"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق پولیس کی جانب سے مقدمہ اس وقت درج کیا گیا تھا جب متاثرہ لڑکی کو ساتھی طالبات کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد کرنے کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وائرل ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متاثرہ لڑکی کے والد عمران یونس کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر کے مطابق والد کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں بی بی بلاک میں قائم امریکن انٹرنیشنل اسکول میں زیرتعلیم ہے، والد نے الزام لگایا کہ حملہ آور ہونے والی لڑکیوں میں سے ایک لڑکی کے ہاتھ میں خنجر بھی تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے الزام لگایا کہ حملہ آور ہونے والی لڑکیوں نے ان کی بیٹی کو بالوں سے کھینچ کر زمین پر گھسیٹا اور اس کے اوپر چڑھ گئیں اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1121033"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عمران یونس کا کہنا تھا کہ حملہ آور لڑکیوں میں سے ایک لڑکی باکسر ہے جس نے میری بیٹی کے چہرے پر مکا مارا جس کے نتیجے وہ زخمی ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ ایک اور لڑکی نے متاثرہ لڑکی کا گلا دبانے کی کوشش کی،  حملہ آور لڑکیوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لیے سوشل میڈیا میں موجود ویڈیو کلپ ثبوت کے لیے کافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے بعد ان کی بیٹی کو شدید صدمہ پہنچا تاہم سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انہیں اور ان کے اہل خانہ کو ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر میں والد عمران یونس نے الزام لگایا کہ حملے میں ملوث مرکزی مشتبہ ملزمہ منشیات کی عادی تھی اور میری بیٹی کو بھی منشیات دینا چاہتی تھی تاہم بیٹی نے منشیات لینے سے انکار کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;والد عمران یونس کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی نے اسکول میں اپنی ساتھی طالبات کی منشیات استعمال کرنے کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1163915"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف آئی آر کے مطابق عمران یونس نے مزید کہا کہ بعد ازاں بیٹی نے مجھے ویڈیو کلپ دکھائی تو میں نے مشتبہ ملزمہ کے والد کو ویڈیو شیئر کردی جس کے بعد لڑکیوں (مشتبہ ملزمان) کو غصہ آیا اور بیٹی پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایف آئی آر میں الزام لگایا کہ  حملہ آور لڑکیوں نے حملے کے دوران ان کی بیٹی سے سونے کی چین اور ایک لاکٹ بھی چھین لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے سوشل میڈیا  پر مبینہ حملے کی ویڈیو اپلوڈ کی ہے، ان کے خلاف بھی کارروائی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے رجوع کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور کے نجی اسکول کی طالبات کی جانب سے مبینہ طور پر ساتھی طالبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے پر پولیس نے مقدمہ درج کرلیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1732782">رپورٹ</a></strong> کے مطابق پولیس کی جانب سے مقدمہ اس وقت درج کیا گیا تھا جب متاثرہ لڑکی کو ساتھی طالبات کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد کرنے کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وائرل ہوئی تھی۔</p>
<p>متاثرہ لڑکی کے والد عمران یونس کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کیا۔</p>
<p>ایف آئی آر کے مطابق والد کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں بی بی بلاک میں قائم امریکن انٹرنیشنل اسکول میں زیرتعلیم ہے، والد نے الزام لگایا کہ حملہ آور ہونے والی لڑکیوں میں سے ایک لڑکی کے ہاتھ میں خنجر بھی تھا۔</p>
<p>انہوں نے الزام لگایا کہ حملہ آور ہونے والی لڑکیوں نے ان کی بیٹی کو بالوں سے کھینچ کر زمین پر گھسیٹا اور اس کے اوپر چڑھ گئیں اور بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1121033"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عمران یونس کا کہنا تھا کہ حملہ آور لڑکیوں میں سے ایک لڑکی باکسر ہے جس نے میری بیٹی کے چہرے پر مکا مارا جس کے نتیجے وہ زخمی ہوگئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ ایک اور لڑکی نے متاثرہ لڑکی کا گلا دبانے کی کوشش کی،  حملہ آور لڑکیوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لیے سوشل میڈیا میں موجود ویڈیو کلپ ثبوت کے لیے کافی ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے بعد ان کی بیٹی کو شدید صدمہ پہنچا تاہم سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انہیں اور ان کے اہل خانہ کو ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔</p>
<p>ایف آئی آر میں والد عمران یونس نے الزام لگایا کہ حملے میں ملوث مرکزی مشتبہ ملزمہ منشیات کی عادی تھی اور میری بیٹی کو بھی منشیات دینا چاہتی تھی تاہم بیٹی نے منشیات لینے سے انکار کردیا۔</p>
<p>والد عمران یونس کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی نے اسکول میں اپنی ساتھی طالبات کی منشیات استعمال کرنے کی ویڈیو بھی ریکارڈ کی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1163915"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایف آئی آر کے مطابق عمران یونس نے مزید کہا کہ بعد ازاں بیٹی نے مجھے ویڈیو کلپ دکھائی تو میں نے مشتبہ ملزمہ کے والد کو ویڈیو شیئر کردی جس کے بعد لڑکیوں (مشتبہ ملزمان) کو غصہ آیا اور بیٹی پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ بنایا۔</p>
<p>انہوں نے ایف آئی آر میں الزام لگایا کہ  حملہ آور لڑکیوں نے حملے کے دوران ان کی بیٹی سے سونے کی چین اور ایک لاکٹ بھی چھین لیا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے سوشل میڈیا  پر مبینہ حملے کی ویڈیو اپلوڈ کی ہے، ان کے خلاف بھی کارروائی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے رجوع کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1195817</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Jan 2023 14:50:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/21140453542e034.gif?r=141835" type="image/gif" medium="image" height="484" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/21140453542e034.gif?r=141835"/>
        <media:title>متاثرہ لڑکی کے والد عمران یونس کی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کیا۔—فوٹو: ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
