<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 12:46:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 22 Jun 2026 12:46:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف معاہدے کیلئے سخت فیصلے ناگزیر، حکومت ہچکچاہٹ کا شکار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1195931/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی حکومت کو عام انتخابات سے قبل مقبولیت میں کمی کا خدشہ ہے جو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو حتمی شکل دینے میں تاخیر کا سبب بن رہا ہے، اگر اس پروگرام کو حتمی شکل دی جاتی ہے تو ملکی معیشت میں استحکام آسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1733337/govt-wary-of-imf-mandated-tough-decisions-in-an-election-year"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق سرکاری اور سفارتی عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان ابھی تک ان 7 مطالبات پر بات چیت جاری ہے، آئی ایم ایف  معاشی بحالی کے لیے مالی مدد کرنے سے پہلے چاہتا ہے کہ پاکستان ان شرائط پر عمل کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مطالبات میں بجلی پر سبسڈی واپس لینا، گیس کی قیمتوں میں اضافہ، لیٹر آف کریڈٹ کو بلاک نہ کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار کا کہنا ہے کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ ان مطالبات پر عمل کرکے ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا، انتخابات سے قبل اس حکومت کی مقبولیت میں بھی کمی ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1184795"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان پاور ریگولیٹر نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کو پہلے ہی گیس کی قیمتیں 75 فیصد بڑھانے کی منظوری دے دی ہے، یہ منظوری وفاقی کابینہ کی جانب سے دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب وفاقی حکومت قرض پروگرام کے نویں جائزے کا انتظار کر رہی ہے، جو پچھلی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے تھے، اس  سے پاکستان کو فنڈز کی اگلی قسط جاری ہوگی جو ستمبر 2022 سے زیر التوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2022 میں آئی ایم ایف نے بیل آؤٹ پروگرام کے ساتویں اور آٹھویں جائزے کی منظوری دی تھی جس سے تحت پاکستان کو ایک ارب 10 کروڑ ڈالر سے زائد ملے تھے،  اس  پروگرام کے معاہدے پر 2019 میں دستخط ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف عہدیدار  نے پاکستان کے ساتھ کام جاری رکھنے کا اشارہ دیا ہے لیکن ملک کو پہلے بنیادی شرائط پوری کرنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے بات چیت سے باخبر عہدیدار  نے بتایا کہ ’آئی ایم ایف بنیادی شرائط پوری کرنے کا مطالبہ کررہا ہے تاکہ وہ اپنی ٹیم پاکستان بھیج سکے لیکن وزیرخزانہ ایسا نہیں چاہتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار   نے مزید بتایا کہ آئی ایم ایف توانائی کی قیمتوں میں اضافہ چاہتا ہے اور ان اصلاحات پر عمل کرنے کو یقینی بنانے کا مطالبہ کررہا ہے لیکن وزیرخزانہ اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور عہدیدار  نے بتایا کہ اسلام آباد میں موجود حکام نے وزیراعظم شہباز شریف پر زور دیا ہے کہ وہ مداخلت کریں اس سے پہلے کہ زیادہ دیر ہوجائے، عہدیدار نے بتایا کہ  اس پروگرام کو 4 ماہ پہلے حتمی شکل دی جاسکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار نے بتایا کہ وہ نگران حکومت سے ذاتی طور پر زیادہ توقع نہیں رکھتے کیونکہ اسحٰق ڈار شرح مبادلہ کو مارکیٹ کی سطح پر نہیں جانے دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور اگر ہمارے پاس آئی ایم ایف پروگرام نہیں ہوگا صورتحال معمول پر نہیں آسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آبادکے ایک اور عہدیدار  نے بتایا کہ اگر پاکستان نگران حکومت کے آنے کا انتظار کرتا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کرے، تو یہ پاکستان کے لیے تباہ کن ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی حکومت کو عام انتخابات سے قبل مقبولیت میں کمی کا خدشہ ہے جو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو حتمی شکل دینے میں تاخیر کا سبب بن رہا ہے، اگر اس پروگرام کو حتمی شکل دی جاتی ہے تو ملکی معیشت میں استحکام آسکتا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1733337/govt-wary-of-imf-mandated-tough-decisions-in-an-election-year">رپورٹ</a></strong> کے مطابق سرکاری اور سفارتی عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان ابھی تک ان 7 مطالبات پر بات چیت جاری ہے، آئی ایم ایف  معاشی بحالی کے لیے مالی مدد کرنے سے پہلے چاہتا ہے کہ پاکستان ان شرائط پر عمل کرے۔</p>
<p>ان مطالبات میں بجلی پر سبسڈی واپس لینا، گیس کی قیمتوں میں اضافہ، لیٹر آف کریڈٹ کو بلاک نہ کرنا شامل ہے۔</p>
<p>عہدیدار کا کہنا ہے کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ ان مطالبات پر عمل کرکے ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا، انتخابات سے قبل اس حکومت کی مقبولیت میں بھی کمی ہوجائے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1184795"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پاکستان پاور ریگولیٹر نے سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کو پہلے ہی گیس کی قیمتیں 75 فیصد بڑھانے کی منظوری دے دی ہے، یہ منظوری وفاقی کابینہ کی جانب سے دی گئی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب وفاقی حکومت قرض پروگرام کے نویں جائزے کا انتظار کر رہی ہے، جو پچھلی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے تھے، اس  سے پاکستان کو فنڈز کی اگلی قسط جاری ہوگی جو ستمبر 2022 سے زیر التوا ہے۔</p>
<p>اگست 2022 میں آئی ایم ایف نے بیل آؤٹ پروگرام کے ساتویں اور آٹھویں جائزے کی منظوری دی تھی جس سے تحت پاکستان کو ایک ارب 10 کروڑ ڈالر سے زائد ملے تھے،  اس  پروگرام کے معاہدے پر 2019 میں دستخط ہوئے تھے۔</p>
<p>آئی ایم ایف عہدیدار  نے پاکستان کے ساتھ کام جاری رکھنے کا اشارہ دیا ہے لیکن ملک کو پہلے بنیادی شرائط پوری کرنی ہے۔</p>
<p>پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے بات چیت سے باخبر عہدیدار  نے بتایا کہ ’آئی ایم ایف بنیادی شرائط پوری کرنے کا مطالبہ کررہا ہے تاکہ وہ اپنی ٹیم پاکستان بھیج سکے لیکن وزیرخزانہ ایسا نہیں چاہتے۔</p>
<p>عہدیدار   نے مزید بتایا کہ آئی ایم ایف توانائی کی قیمتوں میں اضافہ چاہتا ہے اور ان اصلاحات پر عمل کرنے کو یقینی بنانے کا مطالبہ کررہا ہے لیکن وزیرخزانہ اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹ رہی۔</p>
<p>ایک اور عہدیدار  نے بتایا کہ اسلام آباد میں موجود حکام نے وزیراعظم شہباز شریف پر زور دیا ہے کہ وہ مداخلت کریں اس سے پہلے کہ زیادہ دیر ہوجائے، عہدیدار نے بتایا کہ  اس پروگرام کو 4 ماہ پہلے حتمی شکل دی جاسکتی تھی۔</p>
<p>عہدیدار نے بتایا کہ وہ نگران حکومت سے ذاتی طور پر زیادہ توقع نہیں رکھتے کیونکہ اسحٰق ڈار شرح مبادلہ کو مارکیٹ کی سطح پر نہیں جانے دیں گے۔</p>
<p>اور اگر ہمارے پاس آئی ایم ایف پروگرام نہیں ہوگا صورتحال معمول پر نہیں آسکتی۔</p>
<p>اسلام آبادکے ایک اور عہدیدار  نے بتایا کہ اگر پاکستان نگران حکومت کے آنے کا انتظار کرتا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کرے، تو یہ پاکستان کے لیے تباہ کن ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1195931</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Jan 2023 11:10:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/240930079791a02.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/240930079791a02.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/01/2408165187f95c4.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/01/2408165187f95c4.png"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
